اشرف غنی کے اچانک جانے سے طالبان کے ساتھ معاہدہ ٹوٹ گیا، زلمے خلیل زاد

252

واشنگٹن: زلمے خلیل زاد کا کہنا ہے کہ طالبان کے ساتھ معاہدہ تھا کہ دو ہفتے تک کابل میں داخل نہیں ہوں گے، تاہم اشرف غنی کے اچانک جانے سے طالبان کے ساتھ معاہدہ ٹوٹ گیا۔

بین الاقوامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی ایلچی برائے پاک افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد کا کہنا تھا کہ طالبان کے ساتھ معاہدہ تھا کہ دو ہفتے تک کابل میں داخل نہیں ہوں گے، اس معاہدے کے دوران اقتدار کی منتقلی عمل میں آنی تھی، لیکن اشرف غنی کے اچانک جانے سے طالبان کے ساتھ معاہدہ ٹوٹ گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اجلاس میں طالبان نے کہا تھا کہ کیا امریکی فوج کابل کی سیکیورٹی یقینی بنائے گی، جس پر امریکا کا جواب تھا کہ ہم نے سیکیورٹی کی ذمہ داری نہیں لی جبکہ اگست کے وسط میں طالبان کے ساتھ آخری لمحات میں کیے گئے معاہدے میں طے کیا تھا جس میں مذاکرات کے ذریعے سیاسی عبوری دور کے معاملات طے پائےتاکہ سرکش عناصر کو کابل سے باہر رکھا جا سکے۔

خلیل زاد نے وضاحت کی کہ اس معاہدے کی رو سے غنی اس وقت تک اقتدار میں رہتے جب تک مستقبل کی حکومت سے متعلق دوحہ میں کوئی سمجھوتا نہ ہو جاتا، باوجود اس بات کے کہ اس وقت تک طالبان کابل کے دروازے پر دستک دے رہے تھے۔

امریکی نمائندہ خصوصی نے کہا کہ اور پھر آپ جانتے ہیں کہ کیا ہوا، ہم یہ ذمہ داری نہیں لینے والے تھے جبکہ امریکی صدر جو بائیڈن نے اصرار کیا تھا کہ امریکی فوجی صرف امریکی شہری اور افغان اتحادیوں کو نکالنے کے لیے کام کریں گے اور امریکا کی طویل ترین جنگ کی مدت میں توسیع نہیں کریں گے۔

خلیل زاد کے مطابق انہیں کوئی اندازاہ نہیں تھا کہ غنی متحدہ عرب امارات میں سیاسی پناہ لینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

دوسری جانب  طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے دوحہ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہاں، ہماری طرف سے اس بات کا یقین دلایا گیا تھا کہ ہماری فوج کابل شہر کے اندر داخل نہیں ہوگی، اور ہم اقتدار کی پر امن منتقلی کے بارے میں بات کرنے پر تیار تھے۔

امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا کہ کابل میں ایک لمحے تک ٹھہرنا کوئی آپشن نہیں تھا،  امریکا کے ٹھہرنے کے لیے کبھی کوئی حقیقت پسندانہ، قابل عمل اور عملی آپشن نہیں تھا۔