دوبڑھکیں

269

پہلی بڑھک وزیراعظم عمران خان کی ہے اور دوسری ریٹائرڈ جرنیل اعجاز اعوان کی ۔وزیراعظم عمران خان کی بڑھک شوگر کوٹڈ اور ایسی ذہنی لاغری اورضعیف العقلی پر مبنی ہے جس کے حامل سے پھر فائدہ مند اقدام کی توقع صفریاکم سے کم رہ جاتی ہے ۔کہتے ہیں: ’’دنیامیں جتنے بھی ملک ہیں اس وقت ہماراملک سب سے سستا ہے رہنے کے لیے۔آج سارے ملکوں میں سے جو تیل امپورٹ کرتے ہیں سب سے سستاپٹرول اور ڈیزل پاکستان میں ہے‘‘۔ بظاہر وزیراعظم صاحب کی بات درست معلوم ہوتی ہے۔ اگرانگلینڈ سے ہی موازنہ کیا جائے توپاکستان میں پٹرول 120روپے لٹر ہے جب کہ انگلینڈ میں پٹرول ایک پونڈ تیس پنس کا فی لٹر ہے ۔ایک پونڈ 229روپے کا ہے۔ یوں برطانیہ میں پٹرول پاکستانی روپے کے حساب سے تقریباََتین سو روپے فی لٹر کے قریب ہے۔ لیکن یہاں یہ بنیادی بات نظرانداز کردی گئی ہے کہ برطانیہ میں فی گھنٹہ کم سے کم اجرت8.91پونڈ ہے۔جو پاکستانی روپے میں تقریباًدوہزار بنتی ہے۔ اس طرح آٹھ گھنٹے مزدوری کی اجرت تقریباً16ہزار بنتی ہے۔ پٹرول کی قیمت سے اس آمدنی کا حساب لگائیں تو ایک برطانوی مزدوراپنے ایک گھنٹے مزدوری کی اجرت سے6 لٹرسے زائد پٹرول خرید سکتا ہے۔ پاکستان میں ایک مزدور کی ماہانہ اجرت 15 سے 16 ہزار روپے ہے۔ یعنی ایک دن کی اوسط آمدنی 500 روپے ہے۔ اس طرح ایک گھنٹہ کی آمدنی62روپے بنتی ہے جس سے محض آدھا لٹر پٹرول خریدا جاسکتا ہے۔ اب بتائیے پٹرول پاکستان میں سستا ہے جہاں 120روپے لٹر ہے یا انگلینڈ میں جہاں 300روپے لٹر ہے ۔کسی بھی ملک سے قیمتوں کا موازنہ کرتے ہوئے فی کس آمدنی نظراندازکردی جائے تو مہنگائی اور عوام کی مشکلات کا درست اندازہ نہیں لگایا جاسکتا ۔
سابقہ حکمرانوں کی طرح وزیراعظم عمران خان بھی ملک کی اکثریت کے مسائل اور مشکلات سے اتنا ہی دور ہیں جیسے نابینا بصارت سے۔وہ جس طرح چا ہیں مہنگائی کا جواز پیش کریں یا دیگر ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں زندگی کی ابتر صورتحال کو خوشگوار بناکر پیش کرنے کی کوشش کریںپاکستان میں زندگی ’’ڈاٹ کام خسارہ ‘‘بن کررہ گئی ہے۔ گا ہے خیال آتا ہے کہ اقتدارکی راہداریوں میں حکمران غریبوں کے لیے ’’مر ‘‘کیوں جاتے ہیں؟ جب عوام کا معاملہ ہوتو ان کاتدبر ،بصارت اور بصیرت گہرے کھڈ میں کیوں جا گرتی ہے۔ وہ جب عوام کو درپیش مسائل اور ان کی زندگی کے باب میں کلام کرتے ہیں تو ایسا کیوں لگتا ہے کہ کوئی احمق عقل کو لاتیں ماررہا ہے۔ اس کی وجہ زاویہ نظر ہے۔ پاکستان کا حکمران طبقہ غریبوں کو کس نظرسے دیکھتا ہے ایک ٹی وی پروگرام میںریٹائرڈ جرنیل اعجازاعوان کی گفتگو ملا حظہ فر مائیے۔
’’یہ جو بیلچہ اٹھاکر سڑکوں پر بیٹھے ہیں یہ مزدوری کی تلاش میں نہیں ہیں۔یہ بیلچہ اور گینتی سمبل ہے ایک بھکاری کاجو اپنے اوپرطاری کرکے بیٹھا ہوا ہے۔ ہمارے معیاردوغلے ہوگئے ہیں۔ ہر آدمی سمجھتا ہے جہاں پرائم منسٹر کا بیٹا پڑھتا ہے یاجدھر ایم این اے کا بیٹا پڑھتا ہے ۔میرا بیٹا بھی اسی اسکول میں جائے۔ دنیامیں طبقات ہوتے ہیں۔ طبقات کا اپنا اپنا معیار ہوتا ہے۔ہر آدمی سمجھتا ہے کہ جو رکشہ چلارہا ہے اس کے وہی حقوق ہیں،اس کے بچوں کو اسی معیار پر ہونا چا ہیے جس طرح ایک ایم پی اے یا ایم این اے کے بچے ہیں۔ دنیا ایسے نہیں ہوتی۔ ملک بہت اچھا ہے۔ حالات اتنے خراب نہیں ہیں۔ساری دنیا ایک معیا رپر نہیں ہوسکتی ۔برابری دنیا کا نظام نہیں ہے۔ نظریاتی طور پریہ درست ہے کہ ہر بندے کے حقوق برابر ہیں لیکن نہ ہر بندے کی انکم برابر نہ جسامت برابر نہ عقل وشعور برابر ۔اگر ایساہوتا تو ایک آدمی کاقدچھ فٹ اور دوسرے کا پانچ فٹ اللہ نے نہ بنایا ہوتا۔‘‘گفتگو کے آغاز میں جنرل صاحب نے کہاملک میں خوراک اور دیگر سہولیات کا کوئی فقدان نہیں ہے۔ لاہور میں کوئی ایک گھر دکھادیں جہاں غریب بھو کا سوتا ہو۔سب اپنا من پسند کھانا کھا کرسوتے ہیں۔
جنرل صاحب کی متعفن سوچ میںاب تک بیلچے اورگینتی کی پا کیزہ کمائی کی خوشبو نہیں پہنچی۔ اگر بیلچے اور گینتی کو انسانی تاریخ سے نکال دیا جائے تو انسانیت آج بھی مٹی میںاٹی کسی غار میں پڑی نظر آتی۔ یہ بلند وبالا عمارتیں، گاڑیاں، کپڑے، مکان جوتے اور زندگی کی دیگر ضروریات محنت کشوں کے خون پسینے کی بدولت ہم تک پہنچی ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ یہ صرف جنرل اعوان کے خیالات نہیں ہیں پورے حکمران طبقے خواہ عسکری اور سول اشرافیہ ہو یا سرمایہ دار، جاگیردار، جج ،بیوروکریٹ اور سیاست دان اکثریت کی یہی سوچ ہے جس کے ساتھ وہ اس جمہوریت کے علمبردار بھی ہیں جس میں حکومت عوام کی ،عوام کے ذریعے اور عوام کے لیے کے دعوے کیے جاتے ہیں۔ حکمران چا ہے غریبوں کی فلاح کے لاکھ نعرے لگائیں ان کے درمیان طے ہے کہ اچھی تعلیم اور اچھا معیار زندگی عام آدمی کا حق نہیں ہے اور نہ ہی وہ اس کے بارے میں سوچنے اور تقاضا کرنے کا حق رکھتا ہے۔یہ سوچ اور یہ فاصلے سول اور فوجی افسران کو اکیڈمیوں میں تعلیم کیے جاتے ہیں کہ انہیں عام آدمی سے فاصلہ رکھنا ہے۔ انگریزوں کے دورسے ہی افسران کی میز کا سائز اتنا رکھا جاتا ہے کہ کوئی ان سے مصافحہ نہ کرسکے۔
مغربی تہذیب کی صورت سرمایہ دارانہ نظام جو پوری دنیا پر حکومت کررہا ہے جنرل صاحب کی سوچ کی اس بدبخت نظام سے ادھار لی گئی ہے۔ اس نظام کی بنیادانسانوں کے حقوق نہیں بلکہ منفعت ہے۔اس نظام میں زندگی کا مقصد زیادہ سے زیادہ منافع کا حصول اور منفعت ہی ایک انسان کے دوسرے انسان سے تعلق کی بنیاد ہے۔یہ نظام افراد میںایسی خود غرضانہ طبقاتی سوچ پیدا کرتا ہے کہ ہرشخص اپنے ذاتی فائدے کے لیے معاشرے سے جنگ کرتا نظر آتا ہے۔ تقسیم دولت کاتوازن اس طرح بگڑجاتا ہے کہ چند افرادپورے معاشرے کی دولت سمیٹ کرارب پتی کھرب پتی بن جاتے ہیںجب کہ دوسری طرف عوام کی معاشی حالت خراب سے خراب تر ہوتی چلی جاتی ہے۔ ریاست ان افراد کی بہتری کے لیے اقدامات تو اٹھاتی ہے لیکن محض نمائشی۔ اس نظام میں غریبوں سے ہمدردی کی کوئی گنجائش نہیں۔یہ نظام اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ جاگیردار، کارخانے دار، اسٹاک ایکس چینجر، پراپرٹی ڈیلر، بیورو کریٹس، بڑے بینکوں اور کارپوریٹ اداروں کے منافع اربوں اور کھربوں میں بڑھ جائیں چاہے غریب دووقت کی روٹی کے حصول کے لیے ذلیل وخوار ہورہا ہو ۔طرفہ تماشا یہ کہ اسے غریبوں کے مقدر کا لکھا اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی رضا سے منسوب کیا جاتا ہے۔
اسلام مخلوق خدا کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا کنبہ قراردیتا ہے جس میں ہر فرد کا شخصی مفاد اور اور تمام افراد کا اجتماعی مفادایک دوسرے سے مضبوطی کے ساتھ جڑا ہوتا ہے ۔دونوں ایک دوسرے کے رقیب کی بجائے دوست اور مددگار ہوتے ہیں۔ اسلام ہرفرد کواس کے پورے فطری اور شخصی حقوق بھی دیتا ہے اور دوسری طرف یہ بندوبست بھی کرتا ہے کہ دولت کی تقسیم کاتوازن بگڑنے نہ پائے۔ ایک طرف ہر فردکو شخصی ملکیت اور اپنے مال کے استعمال کا حق دیتا ہے تو دوسری طرف وہ اس حق اور اختیار پر کچھ ایسی اخلاقی اور قانونی پابندیاں لگاتا ہے کہ دولت گردش کرتی رہے اور معاشرے کے ہرفرد کو اس دولت میں اس کا متناسب حصہ ملتا رہے۔ اسلام ذاتی فائدے اور ہمدردی کا ایسا تناسب قائم کرتا ہے کہ ہرشخص جائز ذرائع سے جتنا چا ہے کمالے مگر اس کی کمائی میں دوسروں کا حق بھی ہو۔ چھٹی صدی عیسوی سے لے کر اٹھارویں صدی عیسوی تک جب تک دنیا پر اسلام کی حکمرانی رہی استعماریت اور طبقاتی تقسیم ہمیں اسلام کے اقتصادی نظام میں،اس کی طبیعت میں کہیں نظر نہیں آتی۔ اسلام دولت کے ارتکاز پر نہیں اس کی معاشرے میں تقسیم کا حامی ہے ۔ اس پرمحض زورنہیں دیتا اسے یقینی بناتا ہے ۔