حکومت کا کاٹن اکانومی کے فروغ کا فیصلہ درست ہے، میاں زاہد حسین

73

کراچی (اسٹاف رپورٹر) نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فورم وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے کاٹن اکانومی کے استحکام اور فروغ کے لیے کیے جانے والے فیصلوں کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ منڈی میں کپاس کی قیمت گرنے کی صورت میں حکومت کی جانب سے فوری مداخلت اور پانچ ہزار روپے من کپاس خریدنے سے کاشتکاروں کا رسک کم اور ان کا اعتماد بحال ہوگا۔ اس سے کپاس کے زیر کاشت رقبہ میں اضافہ ہوگا جس سے لاکھوں خاندان اور ملک کے سب سے بڑے صنعتی و برآمدی شعبہ پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے اور برآمدات میں اضافہ ہو گا کیونکہ ان کی کاروباری لاگت کم ہو جائے گی۔ میاں زاہد حسین نے کاروباری برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً ایک دہائی سے کپاس کی پیداوار اور زیر کاشت رقبہ میں مسلسل کمی آ رہی تھی اور کاشتکار دیگر فصلوں کی جانب مائل ہو رہے تھے جس کی وجہ سے ملک میں کپاس کی پیداوار کم ہو رہی تھی جبکہ طلب پوری کرنے کے لیے کپاس کی درآمد پراربوں ڈالر خرچ ہو رہے تھے جس کی وجہ سے حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اس اہم شعبہ میں مداخلت کی جائے کیونکہ 2011 سے جب ٹریڈنگ کارپوریشن نے کپاس کی خریداری بند کی تھی تو اس فصل کازوال شروع ہوگیا تھا ۔