مجھے معلوم ہے!

251

ٹیڈ کرمالوش آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا حسب معمول لائبریری میں داخل ہوا، کیٹلاگ کے سامنے جاکر اس کے قدم رک گئے۔ اس نے کیٹلاگ کے اندر لگے درازوں پر نظر دوڑائی اور باہر لکھے ہوئے حرفِ تہجی کو غور سے پڑھا۔مطلوبہ حروف پر جاکر اس کی نظریں جم گئیں، اس کا ہاتھ دراز کی جانب برھا، دراز کھولی اور اندر لگے ہوئے کارڈوں کو ایک ایک کرکے دیکھنے لگا۔

اس کی انگلیاں تیزی سے حرکت کررہی تھیں۔ ایک کارڈ پر اس کی نگاہیں جم گئیں اور ہاتھ رک گیا۔ اس نے جیب سے قلم نکالا اور کاغذ کے پرزے پر کچھ لکھ کر پرچہ بوڑھے لائبریرین کے حوالے کردیا۔

چند لمحوں بعد اسسٹنٹ کتاب لے آیا، اور وہ کتاب لیکر ایک کونے میں بیٹھ گیا اور اس کی ورق گردانی لگا۔ مطالعہ کرتے کرتے اس کی آنکھوں کے سامنے اچانک اندھیرا چھا گیا۔ کچھ ہی دیر بعد اسے اچانک محسوس ہوا کہ تاریکی چھٹ رہی ہے اور اس میں سے روشنیاں اس کی آنکھوں کے سامنے تیرنے لگیں، اسے اپنا جسم سن ہوتا ہوا محسوس ہوا، کوئی قوت اسے کسی بات کا اشارہ کررہی تھی۔ اس نے روشنی پر نظریں گاڑدیں اور یوں دیکھنے لگا جیسے کسی غیرمرئ تحریر کا مطالعہ کررہا ہو۔

چند لمحوں بعد اس کی یہ کیفیت ختم ہوگئی۔ اس کی آنکھ کھلی، اب بھی کتاب اسکے سامنے میز پر رکھی ہوئی تھی۔ اس نے اچانک کتاب بند کی اور اونچی اونچی آواز میں کہنے لگا، “ریگن کو قتل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ ایک نوجوان جس کا نام ہینکلے ہوگا وہ صدر ریگن پر حملہ کرے گا۔ وہ صدر ریگن کو ہالی وڈ ایکٹرین جوڈی فوسٹر کو متاثر کرنے کیلئے جان سے مارنے کی کوشش کرے گا مگر صدر ریگن بچ جائے گا”

لائبریرین نے ٹیڈ مالوش کو شور مچانے سے منع کیا مگر وہ چلاتا رہا اور آخر کار اٹھ کا باہر چلے گیا۔ وہ جہاں سے گزرتا لوگ اس کا مذاق اڑاتے اور جسے وہ کہانی سناتا وہ ٹیڈ کو دماغی مریض قرار دیتا۔ لیکن کچھ ہی عرصے بعد 30 مارچ 1981 کو امریکی صدر ریگن پر حملہ ہوتا ہے اور حملہ آور کا نام وہی ہوتا ہے جس کی پیش گوئی ٹیڈ نے کی تھی۔ حملہ آور ایکٹریس جوڈی فوسٹر کا جنونی مداح ہوتا ہے۔

اس واقعے کے بعد سب کی نگاہیں ٹیڈ پر جم جاتی ہیں۔ چند دن بعد وہ ایک اور پیشگوئی کرتا ہے کہ ویسٹرن ایئرلائن کا ایک جہاز ڈی سی 10 ایک حادثے کا شکار ہوکر میکسیکو ایئر پورٹ پر گرجائے گا جس میں بیٹھے 77 مسافر ہلاک ہوجائیں گے۔ جہاز کا نمبر 2605 یا پھر 2065 ہوگا۔ 19 جنوری 1987 کو ایسا ہی سانحہ رونما ہوتا ہے مگر معمولی سی تبدیلی کے ساتھ۔ 77 ہلاکتوں کی جگہ 73 ہلاکتیں ہوتی ہیں مگر جہاز کا نمبر 2605 ہی ہوتا ہے۔