پری کا سایہ

347

وزیراعظم عمران خان پر جب سے خوش بختی کادروا ہوا ہے عوام سے ان کا تعلق ایسا ہے جیسے عوام نے نہیں کسی اور نے انہیں سلیکٹ کیا ہے۔ وہ عوام کے ممنون احسان ہیں اور نہ ہی ان کے لیے کچھ کرنے پرتیار ہیں۔ جن کے وہ زیربار ہیں ایکسٹیشن کے علاوہ بھی ان کی ہر خدمت بجا لانے کے لیے تیاررہتے ہیں۔ انٹرنیٹ ساری دنیا کو بہت قریب لارہا ہے سوائے وزیراعظم عمران اور غریب پاکستانی عوام کے۔اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ عمران خان گالم گلوچ سے دوررہتے ہیں۔ دوسری وجہ یہ کہ غریبوں کے گھروں میں بجلی ہی نہیں ہوتی۔ یہ نواز شریف کی بجلی کی پیداواراورترسیل کی لاغر وراثت ہے جو ملک کا ستیاناس کرنے سے باز نہیں آرہی۔ عیدالاضحی پر گائے کو قربانی کا مزہ چکھانے، خریداری کے لیے ہم سپر ہائی وے پر دوڑے جارہے تھے کہ لب سڑک جراثیم زدہ ایک مردہ گائے نظر آئی۔ جراثیموں سے ہم نے پوچھا ’’گائے کو کس نے ما را‘‘ کھمبے سے ٹنگے بینر پر چڑھی عمران خان کی تصویر سے آواز آئی ’’نواز شریف نے‘‘۔
نواز شریف کے دور میں مہنگائی کی وجہ سے زندگی جن کے لیے مرگئی تھی ان پر اس وقت جشن کی چادر تن گئی جب معززجج صاحبان نے نواز شریف کو سسلین مافیا کہہ کر اقتدار سے نکال با ہر کیا۔ نواز شریف کے دور میں جس طرح ملک کو تباہ کیا گیا تھا۔ عمران خان کی صورت سچائی کا انسانی پیکر نہ ملتا تو نہ جانے قوم کا کیا ہوتا۔ ہم اپنی تاریخ کے سب سے بڑے عوامی ترقی کے دورسے گزر رہے ہیں۔ ہر شخص گنگنارہا ہے واہ کیا زبردست حکومت ہمارے لیے منتخب کی گئی ہے۔ جہاز دھوئیں پر چل رہا ہے، وہیل پر کوئی موجود نہیںیا ڈرائیور نشے میں ہے، اس سے کیافرق پڑتا ہے۔ وزیراعظم یہ مدت پوری کرنے کے بعد مزید پانچ سال اقتدار میں رہنا چا ہتے ہیں۔ غریب انھیں مبارکباد دیتے رہیں گے اگر تب تک وہ زندہ رہے۔ احسان مند عوام گلیوں اور شاہراہوں پر ننگے پائوں ان کا خیر مقدم کرنے کے لیے صف بستہ کھڑی ہوگی۔ سوال یہ ہے کہ ننگے پائوں کیوں؟ارے بھئی جوتا ہاتھ میں ہو تو آدمی ننگے پائوں ہی ہوتا ہے۔ اس میں حیرت کی کیا بات۔
ایک معیاری طریقہ جس کے ذریعے یہ معلو م کیا جائے کہ وزیراعظم عمران خان کو کچھ ڈلیور نہ کرنے کی کتنی آزادی حاصل ہے وہ فوجی قیادت کے ساتھ ان کے ایک پیج کا پھیلائو ہے۔ اگر تعلقات کے پیج کا پھیلائو موجود اور وسعت پذیر ہے تو پھر وزیراعظم پر کچھ ڈلیور کرنے کے لیے کوئی دبائو نہیں ہے۔ ایک پیج کا مطلب ہے کسی کے اقتدار کو چیلنج مت کرو ورنہ تم سسٹم سے با ہر کردیے جائوگے، پلیٹلٹس کے مریض کی طرح۔ وزیراعظم اسٹیبلشمنٹ کے جس قدر شکر گزارہیں اس کا تقاضا ہے کہ وہ تعلیمی نصاب میں ریاضی،سائنس ،جغرافیہ، اردو اور اسلا میات کے ساتھ ایک مضمون ’’پیزاکی تیاری‘‘کا بھی شامل کرائیں۔ یہ قومی ہم آہنگی کے لیے ازبس ضروری ہے۔اس مضمون کے نصاب کی تیاری کے لیے ہمیں کسی بیرونی تعلیمی بورڈ سے رجوع کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ امریکا میں کئی ہائی اسکولوں میں معاشیات کا نصاب جنرل موٹرز فراہم کرتی ہے۔ کاروباری مزاج لوگوں کو خواہ ان کا تعلق ملکی دفاع سے ہی کیوں نہ ہو سرمایہ داری کی بابت فوائد سے آگا ہ کرنے کے لیے آگے آکر نصاب کی تیاری میں جنرل موٹرز کی طرح مدد کرنی چا ہیے۔
ہمارے نظام عدل کو ایسے معززجج چلا رہے ہیںجو انصاف اس طرح عطیہ کرتے ہیں جیسے کسی بخیل کی جیب سے پیسہ نکلتا ہے۔ فرض کیا جاسکتا ہے کہ محکمہ انصاف کو چلانے کے لیے ان کی الٹی سیدھی حرکتوں کی تعداد صفر کے برابر ہو اگر کسی طرف سے اشارہ نہ کیا جائے۔ پسندیدہ فیصلوں کی فراہمی انہیں جس کوڈ نمبر سے کی جاتی ہے وہ پورے انصاف اور ایمانداری سے اسے محفوظ رکھتے ہیں۔ یہی وہ دیانت ہے جس پر انصاف تاش کے پتوں کی طرح کھڑا ہے۔ ہمارے جج حضرات سب کے ساتھ ایک کنبے کے افراد کی طرح رہتے ہیں لیکن فیصلوں کے ٹوائلٹ پیپر سب میں مساوی تقسیم نہیں کیے جاتے۔ انصاف جنازہ گاہ کے بغلی کمرے میں سوتا رہتا ہے۔ جب کسی مظلوم کی لاش آتی ہے، اس کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے وہ نوٹس لینے کی کوشش کرتا ہے لیکن نیند کا غلبہ اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ پھر کروٹ لے کر سوجاتا ہے۔ پاکستان میں رہنے کاسب سے اچھا طریقہ یہ ہے کہ کسی قانون کی بابت کچھ نہ جانو، وکیلوں کو بھی زیادہ گھانس ڈالنے کی ضرورت نہیں البتہ جج صاحبان کے بارے میں آپ کا علم مکمل ہونا چا ہیے۔ خصوصاً ان کی ضروریات کے بارے میں۔
نہ جانے آئین کی کون سی شق ہمارے بچوںکو تعلیم کا حق دیتی ہے، پرائیوٹ اسکولوں میں تعلیم کے حصول کا حق۔ گورنمنٹ اسکولوں میں تعلیم وہ بیہودہ اور نا مناسب بات ہے جس کی بچوں کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ وفاقی بجٹ میں کوشش کی جاتی ہے کہ قوم کا خزانہ سرکاری اسکولوں کی غیر منافع بخش مد میںکم سے کم خرچ کیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری بیشتر آبادی کواسکول میں داخلے کا موقع اس وقت ملتا ہے جب وہ ووٹ ڈالنے کے لیے کسی اسکول میں قائم پولنگ سینٹر میں جاتی ہیں۔ سرکاری اسکول وہ عمارتیںہیں جو علم کے کسی کام نہیں آتیں۔ سرکاری بدحال اسکول،خستہ وبدرنگ پارہ پارہ کتابیں، بساند دیتے ہوئے اسکول بیگز، کثافت زدہ یونی فارم، ٹوٹی پھوٹی کرسیاں، ٹاٹ اسکولوں کی دریاں، ہم بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ تعلیم کے شعبے میں ہربات غلط ہے سوائے وزیرتعلیم اور انتظامی عہدیداروں کی تنخواہوں مراعات اور اختیارات کے۔’’تعلیم میں کاروبار‘‘ ہی وہ واحد شعبہ ہے کورونا کی کوئی لہر جس کے منافع کو کم نہیں کرسکتی۔ تمام اسکولوں کا یونی فارم ایک ہی رنگ کا ہونا چاہیے، سیاہ ماتمی۔
انتخابات میں شرکت ہمارے یہاں سب سے زیادہ مضحکہ خیز عمل ہے۔ کیونکہ کا میابی کی صورت میں آپ وزیر حتیٰ کہ وزیراعظم بھی بن سکتے ہیں۔ تب کہیں آپ سے پوچھا جاسکتا ہے کہ آپ وزیراعظم کیوں بننا چا ہتے ہیں اور اگر آپ کو وزیراعظم بنادیا جائے پھر آپ ہمارے لیے کیا کریں گے۔ دوسری پارٹیوں میں شرکت کرکے بھی ایوان اقتدارتک رسائی کا ہدف حاصل کیا جاسکتا ہے لیکن آج کل مکھن کے دام بہت زیادہ اوپر چلے گئے ہیں۔ بہتر یہی ہے اپنی خود کی پارٹی انجوائے کریں۔ اپنے مزاج اور عمل کے برخلاف اسے ایک احمقانہ سا نام دیں۔ جماعت اسلامی جیسی کیفیت اور کمیت سے محفوظ رہنے کے لیے شرفا ء کو پارٹی سے دور رکھیں۔ اُلٹے سیدھے نعروں کے ذریعے انتخابی مہم چلائیں مثلاً اگر ہم اقتدار میں آگئے تو ہرعلاقے میں دو میٹرنٹی ہوم بنوائیں گے عورتوں کے لیے الگ مردوں کے لیے الگ۔ پہلے کسی بھی جماعت کے لیے اپنا اخبار نکالنا ضروری سمجھا جاتا ہے۔ یہ آپ کا آئینی حق ہے جسے کوئی آئینی تحفظ حاصل نہیں۔ ویسے اب یہ سب کرنے کی ضرورت بھی نہیں۔ تحریک انصاف کی طرح اخبار کا اجرا تو ایک طرف میڈیا سے بناکر رکھنے کی بھی ضرورت نہیں۔ کیونکہ اب اس طرح کی لایعنی ایکسر سائز سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جس بات سے فرق پڑتا ہے پتہ پتہ بوٹا بوٹا اس کے بارے میں جانتا ہے۔
سیاست میں آنے کے بعدچھوٹے چھوٹے جلسوں اور انتخابی ناکا میوں کے ساتھ طاقت کے مراکز سے رابطے کرنے کی کوشش کرتے رہیں۔ شروع شروع میںوہ نظرانداز کرنے کی کوشش کریں گے۔ دیرتک باہر بٹھائے رکھیں گے۔ طویل میٹنگوں کے بعد ممکن ہے آپ سے رابطہ کیا جائے۔ اس رابطے میں آپ نے عوامی مفادات کی بات کرنی ہے اور نہ لمبے چوڑے وعدے۔ آپ نے صرف یہ ثابت کرنا ہے کہ حاضر حکومت کس طرح ان کے مفادات سے کھیل رہی ہے۔ اگر آپ یہ ثابت کرنے میں کا میاب ہو گئے تو خوش بختی کے درآپ پر وا ہوجائیں گے۔ تب اقتدار میں آکر کلیدی فیصلوں سے اپنے آپ کو دور رکھیں۔ یہ کا م کسی اور کے لیے چھوڑ دیں۔ اور ہاں دم درود کا اہتمام رکھیں۔ زرداری صاحب کی طرح کوئی پیر بک کرلیں یا پھرمستقل طورپرکسی پری کے سائے کا اہتمام کرلیں۔