تاریخ کا منحوس ترین جہاز

384

ہٹلر کے سائنسدانوں نے اس تباہ کن جہاز کی تیاری میں اپنی ساری کوششیں صرف کردی تھیں۔ اس جہاز کی رفتار فرطانیہ کے جنگی جہازوں سے کئی گناہ زیادہ تھی۔ انہوں نے اس جہاز پر ایک دور مار توپ بھی نصب کی جو دشمنوں سے بہت دور افق پر ہی نمٹ سکتی تھی۔ اس پر الیکٹرانک اسکرین بھی لگی ہوئی تھی جو دشمنوں کے سامنے آںے سے پہلے ہی اس کی نشاندہی کرسکتی تھی اور جہاز کا نام ‘اسکارن ہارسٹ’ رکھا گیا۔

اسکارن ہارسٹ میں سب سے پہلے خرابی اس وقت پیدا ہوئی جب اس کا دو تہائی حصہ مکمل ہوچکا تھا۔ اس سے ٹوٹے ہوئے شہیتروں کی طرح کرخت آوازیں نکلتی تھیں اور پھر ایک دن یہ اپنے پہلوؤں کے بل الٹ گیا جس سے 61 کارکن ہلاک اور 110 زخمی ہوئے۔ اسے سیدھا کرنے پر 3 ماہ صرف ہوئے۔ اُسی وقت سے عام تاثر پیدا ہوگیا کہ یہ جہاز منحوس ہے۔

آخرکار اسے سمندر میں اتارنے کا وقت بھی آن پہنچا۔ اعلیٰ نازی حکام ہٹلر، ہملر، گورنگ، یشرف، ڈونیٹر سبھی اپنے ہمسایوں پر ایک تباہ کن جہاز تیار کرلینے کے متعلق اپنی مہارت کا رعب ڈالنا چاہتے تھے مگر اس دن تمام نازی وہاں موجود تھے مگر جہاز گزشتہ رات حادثاتی طور پر وہ خود ہی کھلے سمندر میں اتر گیا تھا اور اترتے وقت اس نے کئی جنگی کشتیوں کو پیس ڈالا۔ ناکامی کو چھپانے کیلئے اعلان کیا گیا کہ جہاز اتارنے کی رسم رات ہی کو ادا کردی گئی ہے۔

جب جرمنوں نے ڈانزگ فتح کیا تو انہوں نے پوری دنیا کو فخریہ اسکارن ہارسٹ کی تباہ کن کارکردگی کی تصاویر بھیجیں مگر بہت کم لوگوں کو معلوم تھا کہ اسی جنگ کے دوران ایک فنی خرابی کے تحت جہاز نے اپنے ہی نو آدمیوں کو ہلاک کردیا تھا۔ اس کے علاوہ اسکارن ہارسٹ کی بڑی توپ بھی پھٹ گئی جس سے 12 توپچی ہلاک ہوئے۔

اوسلو کے محاصرے کے دوران اسکارن ہارسٹ نے کفی تباہی لیکن جہاز میں متعدد جگہوں میں آگ لگ گئی اور بالآخر ایک دوسرے جہاز کی مدد سے اسے بحفاظت جنگی میدان سے باہر نکال لیا گیا۔

تام برطانوی جنگی جہاز نمودار ہوا اور اسکارن ہارسٹ کی طرف بڑھا، چونکہ اسکارن ہارسٹ کی رفتار تیز تھی اس لیے وہ برطانوی جہاز سے کافی دور چلا گیا لیکن برطانوی جہاز نے اس پر 16 ہزار گز کے فاصلے سے تابڑ توڑ حملے کیے اور گولہ باری کی جس سے یہ جہاز آخر کار ڈوب گیا۔ جہاز کا زیادہ تر عملہ منجمد پانی میں ہی مر گیا اور صرف دو افراد بچے لیکن وہ بھی 2 ماہ بعد تیل گرم کرنے والے ہیٹر پھٹنے سے ہلاک ہوگئے اور یوں نازی کے اس جہاز کی نحوست نے بچنے والے افراد کو بھی نہیں چھوڑا۔