مقبوضہ علاقوں میں کاروبار نہ کرنیوالوں کو اسرائیل دھمکی

97
مقبوضہ بیت المقدس: باب العامود پر عید کی رات جمع ہونے والے فلسطینیوں کو قابض صہیونی فوج گرفتار کرکے لے جارہی ہے

مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینت نے کہا ہے کہ یونی لیور کی ذیلی کمپنی کی جانب سے اسرائیل کے زیر قبضہ مغربی کنارے اور مشرقی بیت المقدس میں مصنوعات نہ بیچنے کے فیصلے کے خلاف جارحانہ اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ واضح رہے کہ برطانوی ادارے یونی لیور نے بین اینڈ جیری آئس کریم کمپنی 2000ء میں خریدی تھی اور اب اس ادارے نے مقبوضہ علاقوں میں آئس کریم کی فروخت روکنے کا اعلان کیا ہے۔ پیر کے روز بین اینڈ جیری کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ 2022ء میں لائسنس کی مدت کے اختتام پر وہ مقبوضہ علاقوں میں آئس کریم کی ترسیل اور فروخت کے اجازت نامے کی تجدید نہیں کرائے گی۔ اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ اس سلسلے میں انہوں نے یونی لیور کے سربراہ سے بات کی ہے اور اس اقدام کو اسرائیل دشمن قرار دیا ہے۔ دوسری جانب قابض صہیونی فوج نے عید کی رات مقبوضہ بیت المقدس میں کئی مقامات پر تشدد اور کارروائیاں کرتے ہوئے فلسطینیوں کو گرفتار کرلیا۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق بیت المقدس شہر کے تاریخی باب العامود سے کئی فلسطینی نوجوانوں اور خاتون کوتشدد کے بعد گرفتار کیا گیا۔ ادھر القدس میں الطور کے مقام پر ایک دوسری کارروئی میں ایک فلسطینی بچے کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔ باب العامود سے اسرائیلی فوج نے ایک فلسطینی خاتون کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد گرفتار کیا۔ یہ گرفتاری اس وقت عمل میں لائی گئی جب باب العامود کے مقام پر فلسطینی نوجوانوں اور اسرائیلی فوج کے درمیان جھڑپیں جاری تھیں، اور قابض فوج نے فلسطینی نوجوانوں کو منتشر کرنے کے لیے ان پر طاقت کا استعمال کیا۔ اس موقع پر فلسطینی نوجوانوں نے ’’شہدا زندہ باد‘‘ اور ’’فلسطین زندہ باد‘‘ اور ’’اسرائیل مردہ باد‘‘ کے نعرے لگائے۔ نوجوانوں نے بیت المقدس سے تعلق رکھنے والے فدائی مصباح ابو صبیح شہید کی تحسین میں نعرے لگائے۔