‘کشمیر پر حکمرانی کے لیے جنگ’

242

وزیراعظم پاکستان کشمیر کے گرم محاذ پر اگلی صفوں میں جا پہنچے، لیکن یہ محاذ تحریک آزادی کشمیر یا بھارت کے خلاف جہاد کا محاذ نہیں بلکہ کشمیر کی حکومت حاصل کرنے کی جنگ کا محاذ ہے۔

وزیراعظم نے باغ میں تقریر کرتے ہوئے آزاد کشمیر میں بھی تبدیلی لانے کا اعلان کردیا ہے۔ وزیراعظم نے کشمیری بھائیوں کو بار بار مخاطب کرتے ہوئے کشمیر میں ترقی کی خوش خبری سنائی۔  عمران خان نے پاکستان کے 2018ء کے انتخابات میں جو وعدے کیے تھے ایسا محسوس ہورہا تھا کہ وعدوں کا وہی پلندہ اٹھا لائے تھے اور ایک ایک کرکے اعلان کررہے تھے۔

پاکستان کو دنیا کا ترقی یافتہ ملک بنادوں گا، اتنی ترقی ہوگی کہ غریب ملکوں کو ہم مدد دیا کریں گے لیکن پھر انہوں نے اپنی تقریر میں جو کچھ کہا وہ بھی 2013ء سے ان کے سر پر سوار ہے، یعنی نواز شریف، ان کی تقریر کا سارا زور سابق وزیراعظم کو چور ڈاکو لٹیرا قرار دینے پر صرف ہوا۔ ایسا محسوس ہورہا تھا کہ وہ انجانے میں یا کسی قوت کے دبائو کے تحت نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کی انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔

وزیراعظم کی پوری تقریر میں کشمیر کی آزادی کا روڈ میپ کہیں نہیں تھا۔ انہوں نے تین سالہ دور حکومت میں جو کچھ غلط کام کیے وہی سابقہ حکمرانوں کا نام لیے بغیر ان کے کھاتے میں ڈال کر کہا کہ جن لوگوں کا کاروبار بیرون ملک ہے مفاد بھی وہیں ہو تو وہ کبھی جرأت کا مظاہرہ نہیں کرسکتے، وہ کہنے لگے کہ کشمیری بھائیو جو لوگ بیرون ملک کاروبار کرتے ہیں وہ تمہارے لیڈر کیسے ہوسکتے ہیں۔

وزیراعظم کشمیر کے بارے میں شاید کچھ نہیں جانتے اس لیے بڑے پرجوش انداز میں یہ ساری باتیں کرگئے ان کے سر پر نواز شریف اور پیپلز پارٹی سوار تھے۔ وزیراعظم مسلسل تین برس سے نواز شریف اور آصف زرداری کو مظلوم ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔

انہیں شاید معلوم نہیں کہ کشمیر کے شہر میرپور کے آدھے سے زیادہ لوگ برطانیہ میں آباد ہیں۔ میرپور کو بریڈ فورڈ کہا جاتا ہے، تو کیا وہ لوگ جو بیرون ملک جائدادیں رکھتے ہیں وہ اپنے ملک کے مخلص نہیں، ان ہی لوگوں کی بدولت تو کشمیر میں تھوڑی بہت ترقی ہورہی ہے۔  نواز شریف دشمنی میں (بلکہ اسے دوستی کہا جائے) وہ کشمیر کا معاملہ بھی خراب کررہے ہیں۔

بھارت 5 اگست 19 کے اقدام کے بعد سے آگے اور آگے ہی بڑھ رہا ہے اور ہمارے حکمران مسلسل سابق حکمرانوں کی تسبیح پڑھے جارہے ہیں۔  وزیراعظم یہ بتا سکتے ہیں کہ انہوں نے یہ کیسے فیصلہ کرلیا کہ اب ہاتھ نہیں پھیلائیں گے۔ اگر ایسا ہے تو ایف اے ٹی ایف کی شرائط ان کے منہ پر ماریں۔ آئی ایم ایف کے حکم کے مطابق پٹرولیم کی قیمتیں مسلسل نہ بڑھائیں۔ یہ سارے کام تو آئی ایم ایف سے اگلی قسط وصول کرنے کے لیے ہی کیے جارہے ہیں۔ ایف اے ٹی ایف نے مسلسل گرے لسٹ میں ڈال رکھا ہے اور پاکستان بڑھ چڑھ کر ان کی شرائط تسلیم کررہا ہے اور وزیراعظم پاکستان کو اتنا ترقی یافتہ بنانے کا اعلان کررہے ہیں کہ غریب ملکوں کی امداد کریں گے۔

 وزیراعظم یہ بھی تو بتائیں کہ اب پاکستان سے زیادہ غریب ملک کتنے بچے ہیں۔ یوں تو صرف عمران خان نہیں ان کے مقابل اپوزیشن بھی کشمیر کی آزادی کے بجائے عمران خان پر تنقید میں مصروف ہیں۔ اب تو تینوں پارٹیوں کا یہ حال ہوگیا ہے کہ وہ کشمیر کی آزادی کو بھول کر کشمیر کی حکومت کے چکر میں ہیں۔ ن لیگ کے رہنمائوں کا کہنا ہے کہ کشمیر کا الیکشن چوری نہیں کرنے دیں گے۔ مریم نواز یہ کہتے ہوئے بھول گئیں کہ بھارت نے کشمیر چوری کرلیا انہیں اس کی فکر نہیں ہوئی۔ اگر بالفرض عمران خان کشمیر کا الیکشن چرالیں تو بھی وہ پاکستانی سیاسی پارٹی کے سربراہ میں وہ پاکستان کا الیکشن چرا تو چکے ہیں کشمیر کا بھی چرالیں تو کیا ہوگا۔ اصل معاملہ تو کشمیر چرانے کا ہے۔ یہ لوگ کشمیر کی حکومت کے لیے لڑ رہے ہیں اور کشمیری آزادی کے لیے۔ آزاد کشمیر کے بارے میں بھی ان سیاسی پارٹیوں نے کبھی کوئی کارنامہ نہیں کیا۔

مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی والے کئی کئی بار حکومتوں میں رہے ہیں انہوں نے آزادی کشمیر کے لیے کون سا کارنامہ کرلیا۔ آزاد کشمیر کے بیشتر خاندان منقسم ہیں کسی کا بھائی مقبوضہ علاقے میں ہے تو کسی کا بیٹا وہاں رہ گیا کسی کے والدین وہاں ہیں دوسری تیسری نسل کا یہی حال ہے اور ہمارے سیاستدان اور حکمران کشمیر کی آزادی کے بجائے کشمیر کی حکمرانی کے لیے لڑ رہے ہیں۔