افغانستان میں امریکہ کو شکست اور اس کے بعد کا منظر نامہ – شاہنواز فاروقی

153

عندلیب شادانی کا شعر ہے ؎

جھوٹ ہے سب تاریخ ہمیشہ اپنے کو دہراتی ہے
اچھا، میرا خوابِ جوانی تھوڑا سا دہرائے تو

شادانی صاحب کو اتنی سی بات معلوم نہ تھی کہ ہر آدمی تاریخ بننے اور کہلانے کی صلاحیت نہیں رکھتا، لیکن اگر کوئی شخص تاریخ بننے کا اہل ہو تو تاریخ ہمیشہ خود کو دہراتی ہے۔ تاریخ کے حوالے سے اس وقت دو نظریات دنیا میں موجود ہیں۔ تاریخ کا ایک تصور یہ ہے کہ تاریخ خطِ مستقیم میں آگے کی طرف سفر کرتی رہتی ہے۔ تاریخ کے اس تصور میں تاریخ کے خود کو دہرانے کا تصور موجود نہیں، البتہ اسلام سمیت تمام مذاہب کا تصورِ تاریخ دائروی یا Circular ہے۔ اس تصور میں تاریخ ہمیشہ خود کو دہراتی ہے۔ پیغمبرانہ روایت اس کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ دنیا میں ایک لاکھ 24 ہزار انبیاء آئے اور ہر نبی نے ایک ہی بات کہی، اس نے کہا: اللہ ایک ہے، میں خدا کا فرستادہ ہوں۔ یہ ہمارے مذہب میں عبادت کا نظام ہے، اور عبادت صرف اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔ یہ ہمارے مذہب کا حلال و حرام ہے۔ مرنے کے بعد انسان کو پھر زندہ کیا جائے گا اور ہر انسان کو اپنی زندگی کے اعمال کا حساب دینا ہوگا۔ جو شخص اس حساب میں کامیاب ہوگا وہ جنت میں جائے گا، جو ناکام ہوگا وہ جہنم میں جائے گا۔ اس طرح پیغمبرانہ روایت میں تاریخ خود کو ہمیشہ دہراتی رہی۔ اس سلسلے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیثِ مبارکہ بھی بڑی اہم ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میرا زمانہ رہے گا جب تک اللہ کو منظور ہوگا۔ اس کے بعد عہدِ خلافت ہوگا، اور اس کا سلسلہ چلے گا جب تک اللہ چاہے گا۔ خلافت کے بعد ملوکیت ہوگی، اور اس کا دور رہے گا جب تک اللہ تعالیٰ کی مرضی ہوگی۔ ملوکیت کے بعد کاٹ کھانے والی آمریت ہوگی، اور اس کا تسلسل برقرار رہے گا جب تک اللہ تعالیٰ کو پسند ہوگا۔ لیکن اس کے بعد دنیا ایک بار پھر خلافت علیٰ منہاج النبوۃکے تجربے سے گزرے گی‘‘۔ یعنی تاریخ ایک بار پھر خود کو دہرائے گی۔ غور کیا جائے تو اسلامی تاریخ میں تجدید کا ادارہ بجائے خود تاریخ کے دہرائے جانے کو ظاہر کرتا ہے۔ ایک مجدد آتا اور دین کی روایت کو پھر سے زندہ کردیتا ہے۔ امام غزالیؒ نے اپنے عہد میں یہی کیا۔ مجدد الف ثانیؒ نے اپنے زمانے میں یہی کارنامہ انجام دیا۔ شاہ ولی اللہؒ بھی بلا شک و شبہ مجددِ وقت تھے، اور مولانا مودودیؒ کے مجددِ وقت ہونے میں بھی کوئی کلام نہیں۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو غزوۂ بدر کی تاریخ نے افغانستان میں جس طرح خود کو دوبارہ دہرایا ہے اس کی مثال ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتی۔ افغانستان کو بجا طور پر سلطنتوں کا قبرستان کہا جاتا ہے۔ برطانوی سلطنت ہزار کوشش کے باوجود افغانیوں کو غلام نہ بنا سکی۔ سوویت یونین افغانستان میں آیا تو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ افغانستان میں اُسے شکست ہوجائے گی۔ اُس زمانے میں ہم جامعہ کراچی کے طالب علم تھے اور ہمارے کمیونسٹ دوست کہا کرتے تھے کہ سوویت یونین کی تاریخ یہ ہے کہ وہ جہاں جاتا ہے وہاں سے کبھی واپس نہیں آتا… اور بلاشبہ سوویت یونین کی تاریخ یہی تھی۔ ہمارے کمیونسٹ دوست یہ بھی کہتے تھے کہ افغانستان میں طاقت کا ایک ہولناک عدم توازن موجود ہے۔ ایک طرف وقت کی سپرپاورز میں سے ایک سپرپاور ہے، دوسری طرف مجاہدین ہیں جن کے پاس 19 ویں صدی کے ناکارہ ہتھیار ہیں، چنانچہ مجاہدین کی شکست یقینی ہے۔ مگر بالآخر مجاہدین نے سوویت یونین کو اس طرح شکست سے دوچار کیا کہ سوویت یونین کا وجود ہی تحلیل ہوگیا، اور اس کا نظریہ ’کمیونزم‘ دنیا سے اس طرح رخصت ہوا جیسے زمین پر کبھی اُس کا کوئی وجود ہی نہیں تھا۔ لیکن جب سوویت یونین اور اس کے نظریے کو شکست ہوگئی اور اسلام فتح یاب ہوگیا تو اسلام دشمن طاقتوں نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ایک نئی دلیل گھڑی۔ انہوں نے کہا کہ یہ اسلام اور مسلمانوں کی فتح تھوڑی ہے، مجاہدین نے امریکہ اور یورپ کی مدد سے سوویت یونین کو ہرایا ہے۔ چنانچہ جب نائن الیون کے بعد امریکہ اور اُس کے 49 اتحادی افغانستان میں داخل ہوئے تو بعض ’’اسلام پسند‘‘ بھی یہ کہتے نظر آئے کہ اب افغانستان میں وہی ہوگا جو امریکہ چاہے گا۔ اُس زمانے میں ہم نے فرائیڈے اسپیشل کے ایک مضمون میں عرض کیا تھا کہ اگر افغانستان کے صرف پانچ فیصد لوگ بھی مزاحمت پر آمادہ ہوگئے تو افغانستان میں امریکہ کو شکستِ فاش کا سامنا کرنا پڑے گا۔ نائن الیون کے بعد ہم نے ایک نظم بھی تحریر کی تھی جس کا عنوان تھا: ’’جنگ کو کھیل سمجھتا ہے عدو‘‘۔ اس نظم میں امریکہ کی شکست کی پیشگوئی موجود تھی۔ نظم یہ ہے:

جنگ کو کھیل سمجھتا ہے عدو
خندقیں کھود کے بیٹھا ہوں
میں اپنے دل میں
سر کا کیا تھا، اسے سجدے میں چھپا آیا ہوں
میری قسمت کہ میں ہاتھوں کو دعا کہتا ہوں
اور آنکھیں تو کسی خواب کی تحویل میں ہیں برسوں سے
حافظہ میں ابھی تاریخ کو سونپ آیا ہوں
پائوں صدیوں کا سفر لے گیا مدت گزری
کون کہتا ہے کہ میں صاحبِ اسباب نہیں
یہ زمیں میرا بچھونا ہے
فلک چادر ہے
اور ستارے مری امیدیں ہیں
جنگ کو کھیل سمجھتا ہے عدو
دیکھیے کھیل بگڑنے کی خبر کب آئے؟
وہ جو موجود ہے
دنیا کو نظرکب آئے؟

خدا کا شکر ہے افغانستان میں امریکہ اور اُس کے اتحادیوں کا کھیل بالآخر بگڑ کر رہا۔ غزوۂ بدر نے ایک نئے زمانے میں خود کو دہرایا، اور امریکہ اور اُس کے اتحادیوں کی وہ شکست دنیا کو نظر آئی جو ابتدا میں شاید کسی ایک آدھ آدمی ہی کو نظر آئی تھی۔

افغانستان میں امریکہ اور اُس کے اتحادیوں کی شکست مذاق نہیں۔ امریکہ اور مجاہدین کی طاقت میں زمین آسمان کا فرق تھا۔ امریکہ کی سیاسی طاقت اور مجاہدین کی سیاسی طاقت میں ایک اور ایک لاکھ کی نسبت تھی۔ امریکہ کی طاقت ایک لاکھ کی طاقت تھی اور مجاہدین کی طاقت ایک کی طاقت تھی۔ امریکہ اور مجاہدین کی معاشی طاقت میں ایک اور ایک کروڑ کی نسبت تھی۔ امریکہ کی طاقت ایک کروڑ کی طاقت تھی، مجاہدین کی طاقت ایک کی طاقت تھی۔ امریکہ اور مجاہدین کی عسکری طاقت میں ایک ارب اور ایک کی نسبت تھی۔ امریکہ کی طاقت ایک ارب کی طاقت تھی اور مجاہدین کی طاقت ایک کی طاقت تھی۔ طاقت کے اس ہولناک عدم توازن کے باوجود حق غالب آکر رہا اور باطل پٹ کر رہ گیا۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ جہاں امریکہ کے میزائل بھی کام نہیں کرتے وہاں امریکہ کا ڈالر کام آتا ہے، مگر افغانستان میں نہ امریکہ کے میزائل چلے، نہ ایف 16 اور B-52 طیارے کام آئے، اور نہ ڈالر کی فحاشی نے کام دکھایا۔ ایک تخمینے کے مطابق امریکہ نے افغانستان کی جنگ پر دوہزار ارب ڈالر خرچ کیے۔ اس کے ڈھائی ہزار فوجی ہلاک ہوئے۔ اس کے 22 ہزار سے زیادہ فوجی زخمی ہوئے۔ امریکہ کی شکست کا ایک پہلو یہ ہے کہ امریکہ افغانستان میں ایک بھی ہدف حاصل نہیں کرسکا۔ امریکہ مُلّا عمر کو پکڑنا چاہتا تھا، ناکام ہوا۔ امریکہ طالبان کو ختم کرنا چاہتا تھا، نہیں کرسکا۔ امریکہ افغانستان میں قابلِ احترام جمہوریت کاشت کرنا چاہتا تھا، مگر افغانستان کی جمہوریت ایک مذاق ہے۔ امریکہ افغانستان میں ایسی فوج اور ایسی پولیس کھڑی کرنا چاہتا تھا جو اس کی مدد کے بغیر طالبان کا مقابلہ کرسکیں، مگر خود امریکی سی آئی اے کہہ رہی ہے کہ امریکہ کے انخلا کے بعد صرف چھے ماہ میں اشرف غنی کی حکومت گر جائے گی۔ یہ منظرنامہ بتا رہا ہے کہ امریکہ اور اُس کے اتحادیوں کو بھٹو صاحب کی اصطلاح میںFull,Total,Complet” “شکست کا سامنا ہے۔ یہ صرف امریکہ کی شکست نہیں، یہ پورے مغرب کی شکست ہے۔ مغرب کا ایک ملک بھی ایسا نہیں جس کی فوج نے 19 سال تک افغانستان میں طالبان کے خلاف جنگ نہ لڑی ہو۔ ایک وقت تھا کہ طالبان کہا کرتے تھے: ہمارے پاس وقت ہے اور امریکہ کے پاس گھڑی۔ بالآخر حالات نے ثابت کیا کہ طالبان کا تجزیہ سو فیصد درست تھا۔ وقت واقعتاً طالبان کی مٹھی میں قید تھا اور گھڑی واقعتاًامریکہ کی کلائی پر بندھی ہوئی تھی۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو افغانستان میں امریکہ کی شکست وقت کے ہاتھوں گھڑی کی شکست ہے۔

اقبال زندہ ہوتے تو وہ افغانستان میں اپنی شاعری کو زندۂ جاوید ہوتے دیکھ کر کتنا خوش ہوتے۔ اقبال کا شعر ہے ؎

کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسا
مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی

بہت سے لوگ شاعری کو خیالی پلائو سمجھتے ہیں، مگر بڑی شاعری افراد کیا تہذیبوں کے باطن کو عیاں کردیتی ہے۔ افغانستان کے مجاہدین نے سوویت یونین کے خلاف بھی اقبال کے اس شعر کو درست ثابت کیا، اور پھر امریکہ اور اُس کے اتحادیوں کے خلاف بھی اس شعر کو حقیقت ثابت کیا۔ لیکن افغانستان میں اقبال کا صرف ایک شعر زندہ حقیت ثابت نہیں ہوا، اقبال کا ایک بہت عجیب شعر ہے، اقبال نے کہا ہے ؎

اگر ملک ہاتھوں سے جاتا ہے، جائے
تُو احکامِ حق سے نہ کر بے وفائی

اقبال مصورِ پاکستان ہیں، چنانچہ اصولاً اس شعر کے سچا ہونے کی گواہی پاکستان سے آنی چاہیے تھی۔ مگر پاکستان کے حکمرانوں نے نائن الیون کے بعد صرف ایک ٹیلی فون کال پر پورا ملک امریکہ کے حوالے کردیا۔ البتہ مُلاّعمر نے رزم گاہِ حیات میںکھڑے ہوکر گواہی دی کہ اہمیت ملک کی نہیں احکامِ حق کی ہے۔ انہوں نے احکامِ حق کی پاسداری کرتے ہوئے نہ صرف یہ کہ پورا ملک اور اپنا اقتدار دائو پر لگا دیا بلکہ اپنی جان بھی دائو پر لگا دی۔ اقبال کا ایک اور شعر یاد آیا ؎

یہ راز کسی کو نہیں معلوم کہ مومن
قاری نظر آتا ہے حقیقت میں ہے قرآن

انسانی تاریخ میں حکمرانوں نے ہمیشہ اپنی جان بچائی ہے۔ اپنا اقتدار بچایا ہے۔ اپنا ملک بچایا ہے۔ مگر ملاعمر نے صرف ’’احکامِ حق‘‘ کو بچایا۔ اس طرح ایک بار پھر اسلامی تاریخ کے عہدِ زریں نے خود کو دہرا دیا، وہ بھی وقت کی واحد سپرپاور کے مقابلے پر۔

افغانستان کی سرزمین پر گزشتہ 20 سال میں ایک اور بڑا کمال ہوا۔ باطل اور اُس کے پرستاروں نے ساری دنیا میں اِس خیال کو عام کیا ہوا ہے کہ ہمارا عہد سائنس اور ٹیکنالوجی کا عہد ہے۔ ایمان کا زمانہ لد چکا۔ اب ایمان سے ٹیکنالوجی کو شکست نہیں دی جا سکتی۔ لیکن افغانستان کی سرزمین پر ایمان اور ٹیکنالوجی کا مقابلہ ہوا تو ایمان نے ٹیکنالوجی کی بھد اڑا دی۔ ایمان نے ثابت کیا کہ ٹیکنالوجی بہت طاقت ور ہے مگر ایمان سے زیادہ طاقت ور نہیں، ایمان آج بھی تاریخ کے دھارے کا رخ بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ امریکہ نے افغانستان میں ایٹم بم کے سوا طاقت کی ہر صورت استعمال کرلی، اپنی ہر ٹیکنالوجی کو بروئے کار لاکر دیکھ لیا، مگر وہ ایمان کے قلعے کو فتح کرنے میں بری طرح ناکام رہا۔ ایمان کے ہاتھوں ٹیکنالوجی کی یہ شکست کوئی قصہ کہانی نہیں، یہ افغانستان میں 20 سال پر پھیلی ہوئی زندہ تاریخ ہے… 21 ویں صدی کی تاریخ۔ اس تاریخ کو پوری دنیا نے کھلی آنکھوں سے ملاحظہ کیا ہے۔ ایک وقت تھا کہ امریکہ طالبان کو وحشی، درندے اور دہشت گرد کہا کرتا تھا۔ پھر وہی امریکہ وحشیوں، درندوں اور دہشت گردوں سے مذاکرات کی بھیک مانگتا نظر آیا۔ مذاکرات کی تاریخ یہ ہے کہ وہ ہمیشہ مساوی الحیثیت قوتوں کے درمیان ہوتے ہیں۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ امریکہ بھی سپرپاور ہے اور مجاہدین بھی سپرپاور ہیں۔ اقبال پھر یاد آئے، انہوں نے فرمایا ہے ؎

غیرت ہے بڑی چیز جہانِ تگ و دو میں
پہناتی ہے درویش کو تاجِ سرِ دارا

اس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ امریکہ افغانستان سے دُم دبا کر بھاگ رہا ہے، اور افغانستان پر ایک بار پھر طالبان غالب آتے نظر آرہے ہیں۔ امریکہ طالبان کو دھمکا رہا ہے کہ اگر تم نے کابل پر قبضہ کیا تو ہم تم پر فضائی حملہ کردیں گے، مگر امریکہ 19 سال تک اپنے فضائی حملوں سے طالبان کا کچھ نہ بگاڑ سکا تو وہ انخلا کے بعد اپنے فضائی حملوں سے طالبان کا کیا بگاڑ لے گا! اس صورتِ حال میں امریکہ ایک بار پھر پاکستانی حکمرانوں پر زور دے رہا ہے کہ افغاستان کی داخلی کشمکش کو گود لے لیں، مگر عمران خان تواتر سے کہہ رہے ہیں کہ ہم امن میں امریکہ کے ساتھ ہیں، جنگ میں نہیں۔ یہی بہترین حکمتِ عملی ہے۔ لیکن سوال تو یہ بھی ہے کہ امریکہ افغانستان سے واپس کیوں جارہا ہے؟ اس سوال کا ایک جواب یہ ہے کہ امریکہ کے انخلا کا ایک سبب اُس کی بدترین شکست ہے۔ امریکہ کے انخلا کا دوسرا سبب یہ ہے کہ وہ اب چین اور روس کی مزاحمت کرنا چاہتا ہے۔ اس کا خیال ہے کہ اگر چین اور روس کی طاقت کو اِس وقت آگے بڑھنے سے نہ روکا گیا تو پھر پوری دنیا ہی امریکہ کے ہاتھ سے نکل جائے گی۔

(This article was first published in Friday Special)