دنیا کا مہنگا ترین زہر

255

جب کوئی انسان خودکشی کرنا چاہتا تو وہ آسان راستہ ہی چنتا ہے جس میں اسے زیادہ محنت نہ کرنا پڑے اور ان میں سے ایک زہر کھانا بھی ہے۔ مگر شاید ہی دنیا میں ایسا کوئی شخص ہوگا جو اپنے مرنے کیلئے اربوں روپے کا زہر خریدے۔ جی ہاں اتنا مہنگا زہر موجود ہے۔

دنیا کا سب سے مہنگا زہر بچھوؤں کی ایک قسم ’’لیوریئس کوانکوسٹیریئس‘‘ میں پایا جاتا ہے جسے جان لینے والا بچھو بھی کہتے ہیں۔ اگرایک بار کوئی اس بچھو کے زہر کا نشانہ بن گیا تو اسے بچانا نہایت مشکل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس بچھو کا زہر دنیا میں سب سے مہنگا ہے۔

ڈیتھ اسٹاکر کہلانے والے اس خطرناک ترین بچھو کا تعلق بچھوؤں کے خاندان ’’بوتھائی ڈی‘‘ سے ہے جبکہ اسے اسرائیلی اور فلسطینی بچھو بھی کہا جاتا ہے۔ یہ دنیا کا سب سے خطرناک بچھو ہے جسے لیوریئس کوانکوسٹیریئس کا نام اس کی دم پر موجود 5 حصوں کی وجہ سے دیا گیا ہے۔ اس کا رنگ پیلا ہوتا ہے اور یہ 30 سے 77 ملی میٹر تک لمبا ہوتا ہے۔

عام طور پر یہ بچھو شمالی افریقا اور وسطی ایشیا کے ریگستانوں میں پایا جاتا ہے۔ یہ بچھو اپنے قیمتی زہر کی وجہ سے دنیا بھر میں مقبول ہے اور اس کے ایک لیٹر زہر کی قیمت تقریباً 10.5 ملین ڈالر (1 ارب 10 کروڑ 63 لاکھ پاکستانی روپے) ہے۔ یعنی اس کا صرف ایک گیلن تقریباً 5 ارب 15 کروڑ روپے کا ہوتا ہے۔

تاہم خطرناک ہونے کے ساتھ اس بچھو کا زہر بہت کارآمد بھی ہے۔ تل ابیب یونیورسٹی کے پروفیسر مائیکل گریوٹز کے مطابق اس زہر کا استعمال بہت سی طبی تحقیقات اور علاج میں کیا جا رہا ہے۔ اس زہر میں کچھ ایسے اجزاء موجود ہوتے ہیں جو درد کش ادویہ کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں۔ 2013 میں شائع ہونے والی فریڈ ہچنسن کینسر ریسرچ سینٹر کی ایک رپورٹ کے مطابق اس بچھو کا زہر کینسر والے خلیوں کو بننے سے روکتا ہے۔

سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ زہر جسمانی اعضا کی محفوظ منتقلی میں بھی معاون ہوتا ہے۔ کئی بار جسم میں اعضا کی پیوند کاری پر انسانی جسم انہیں قبول کرنے سے انکار کر دیتا ہے۔ ایسی صورتحال میں اس زہر میں تبدیلی کر کے، بہت ہی معمولی مقدار میں جسم کے اندر داخل کیا جائے گا جس کے بعد یہ سیدھا مدافعتی نظام پر عمل کرے گا اور مصنوعی اعضا مسترد ہونے کا امکان کم ہوجائے گا۔

اس کے علاوہ یہ زہر ہڈیوں کی بیماریوں میں بھی بہت فائدہ مند ہے۔ عمر بڑھنے کے ساتھ انسانی جسم میں ہڈیاں کمزور ہونے لگتی ہیں اور اس طرح کام نہیں کر پاتیں جیسے ایک نوجوان کے جسم میں ہڈیاں کام کرتی ہیں۔ لہٰذا اس زہر کو استعمال کرکے ہڈیوں کے کمزور ہونے کا عمل سست رفتار بنایا جاسکتا ہے۔ 2011 میں کیوبا کے ایک 71 سالہ شخص نے دعویٰ کیا تھا کہ لیوریئس کوانکوسٹیریئس قسم کے کچھ بچھوؤں سے انہوں نے خود کو کٹوایا تھا۔ جیسے ہی بچھوؤں کا زہر اس کے جسم میں داخل ہوا، اس کے سارے درد غائب ہوگئے۔

ان بچھوؤں کا زہر نکالنے کےلیے لیبارٹری میں انہیں کرنٹ دیاجاتا ہے جس کے باعث بچھوؤں کا زہر ان کے ڈنک میں آجاتا ہے جسے ایک بوتل میں محفوظ کرلیا جاتا ہے۔