طالبان سے جھڑپ، ایک ہزار سے زائد افغان فوجی جان بچا کر تاجکستان میں داخل

164

کابل: طالبان کیخلاف جنگ سے بھاگ کر ایک ہزار سے زائد افغان سیکیورٹی اہلکاروں نے سرحد پار کر کے تاجکستان میں پناہ لے لی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق تاجکستان کی قومی سلامتی کمیٹی کا کہنا ہے کہ افغان فوجی اہلکاروں نے طالبان کے ساتھ جھڑپوں کے بعد تاجکستان کا رخ کیا ہے، انہوں نے بتایا کہ بھاگ کر آنے والے فوجی اہلکاروں کا کہنا تھا کہ ہم بھاگ کر آنا نہیں چاہتے تھے،  لیکن آگے سے کمک نہ ملنے کی صورت میں ہمیں پسپائی کا راستہ اختیار کرنا پڑا۔

تاجکستان نیشنل سیکیورٹی کمیٹی نے بیان میں کہا ہے کہ 1 ہزار 37 افغان فوجی جان بچانےک ے لیے تاجکستان آئے، جنہیں اچھے پڑوسی ہونے کے ناطے ملک میں داخل ہونے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

افغانستان کے شمالی صوبے بدخشاں میں طالبان تیزی سے پیش قدمی کرتے ہوئے سرحد کی طرف بڑھ رہے ہیں، اور صوبے کے 6 اضلاع کا مکمل کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ دوسری جانب طالبان کی پیش قدمی صوبہ تخار میں بھی جاری ہے، جہاں انہوں نے صوبے کے تمام 17 اضلاع پر قبضہ کرلیا ہے، پولیس ہیڈ کوارٹر اور گورنر ہاؤس پر بھی طالبان نے کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

واضح رہے کہ طالبان اور امریکا کے درمیان دوحہ قطر میں معاہد طے پایا تھا، جس کے مطابق امریکا 11 ستمبر تک تمام افواج کو افغانستان سے نکال کر لے جائے گا۔

طالبان نے اعلان کیا ہے کہ تمام غیر ملکی فوجیوں کو مقررہ وقت پر افغانستان سے جانا ہوگا، نہ جانے کی صورت میں بھرپور ردعمل دیا جائے گا۔