کروڑوں سال قبل پاکستان دیوہیکل خرطوم داروں کی زمین، جدید تحقیق

408

چین کے صوبے گانسو میں ایک دیوہیکل جانور کی باقیات دریافت ہوئی ہیں۔ ان باقیات کو دیکھ کر محققین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت گینڈے سے قریب تر ایک نسل خرطوم دار (Tapir) سے ملتی ہے لیکن قدیم زمانے میں یہ دیوقامت رہا ہوگا۔ جس کی لمبائی زرافہ سے بھی کئی گنا بڑی تھی۔

پیراسیراتھیریم لنکسیانس نامی یہ حیوان تقریبا ڈھائی کروڑ سال پہلے موجود تھا۔ اس کا وزن 21 ٹن تھا اور اس کی جسامت چار بڑے افریقی ہاتھیوں کے برابر تھی۔ اس کی ظاہری ساخت خرطوم دار (Tapir) جیسی ہے۔

کمیونیکیشنز بیالوجی جریدے میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں سائنس دانوں نے بتایا کہ اس جانور کے جیواشم (Fossil) کے تجزیے نے ایک بالکل نئی نسل کی طرف اشارہ کیا ہے جو بظاہر تو دیگر قدیم دیوہیکل گینڈوں سے مختلف تھی لیکن اُن کی نسل سے قریب تر تھی۔

ماہرین نے یہ بھی کہا ہے ان دیوہیکل حیوانات کی اصل سرزمین موجودہ پاکستان ہے۔ چین میں ان کی دریافت اس کا پتہ دیتی ہے کہ کچھ دیوہیکل خرطوم داروں نے پاکستان سے وسطی ایشیا میں ہجرت کی ہوگی۔