یہود کی شر انگیزی ، بیت المقدس میدان جنگ بن گیا

182
مقبوضہ بیت المقدس: قابض اسرائیلی فوج یہودی آبادکاروں کی شرانگیزی کے خلاف احتجاج کرنے والے فلسطینیوں کو گرفتار کررہی ہے

مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) اسرائیل میں شدت پسند سیاست دان نفتالی بینت نے وزیراعظم کا منصب سنبھالتے ہی یہودی آباد کاروںکو مارچ کی اجازت دے دی۔ اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہودی آباد کاروں کو مقبوضہ بیت المقدس میں علم بردار جلوس کے دوران فول پروف سیکورٹی فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا،جس کے بعد متنازع مارچ کے دوران بیت المقدس کو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کردیا گیا۔ عبرانی اخبار معاریو کے مطابق اسرائیلی پولیس اور فوج کی بھاری نفری نے بیت المقدس میں علم بردار جلوس کے راستوں کو سیل کردیا اور شہر میں جگہ جگہ بھاری تعداد میں فوج اور پولیس تعینات کردی گئی۔ نئی حکومت نے فیصلے سے قبل پیر ہی کے روز جلوس کے راستوں کو محفوظ بنانے کے لیے بیت المقدس کو فوج اور پولیس کے حوالے کردیا تھا۔ اس سلسلے میں دیگر علاقوں سے بھی نفری منگوائی گئی۔ اس دوران صہیونی اہل کاروںنے نام نہاد سیکورٹی تحفظات کے نام پر قبلہ اول میں گھس کر مقدس مقام کی بے حرمتی کی۔ اسرائیلی خفیہ پولیس کو باب العامود اور اس کے اطراف میں تعینات کیا گیا، تاکہ متنازع جلوس کے راستوں کو سیل کرکے فلسطینیوں کو آنے سے روکا جائے۔ جلوس کے شرپسند یہود مسجد اقصیٰ کے باب العامود کے سامنے جمع ہوئے، تاہم انہیں بیت المقدس قدیم میں اسلامی کالونی کے راستوں سے گزرنے سے روک دیا گیا۔ صہیونی حکومت کی جانب سے یہو د کو کھلی چھوٹ اور مسلمانوں کو گھروں میں محصور کرنے پر فلسطینی سخت مشتعل ہوگئے اور انہوں نے سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا۔ اس دوران کئی مقامات پر فلسطینی شہریوں اور صہیونی فوج کے درمیان جھڑپیں ہوئیں اور کئی مظاہرین کو حراست میں لے لیا گیا۔ دوسری جانب صہیونی حکومت کے متنازع فیصلے کے تناظر میں اقوام متحدہ کے خصوصی سفیر ٹور وینس لینڈ نے خبردار کیا کہ اسرائیل میں یہودیوں اور فلسطینیوں کے مابین کشیدگی ایک بار پھر بڑھ رہی ہے، جس سے ایک بار پھر جھڑپوں کا آغاز ہوسکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ کے امن عمل کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی نمایندے نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ اقوام متحدہ اور مصر جنگ بندی کو مستحکم کرنے کے لیے سرگرم ہیں، لیکن بیت المقدس میں پھر سے کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ادھر یہودی شدت پسندوں کو مارچ کرنے کی اجازت کے بعد حماس نے مصرکو یقین دلایا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ کشیدگی نہیں بڑھانا چاہتی۔حماس اور اسلامی جہاد نے قاہرہ کو متنازع مارچ پر اپنے تحفظات سے آگاہ کرتے ہوئے تصادم کا خدشہ ظاہر کیا۔