موم کی ناک

146

بزرگو ں کا ارشاد گرامی ہے کہ پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں۔ مگر تحریک انصاف کی حکومت نے ثابت کردیا ہے کہ تمام انگلیاں برابر ہوتی ہیں حتی کہ امپائر کی انگلی بھی مختلف نہیں ہوتی۔ یہ الگ بات ہے کہ بعض امپائر اپنی انگلی کو موم کی ناک کی طرح استعمال کرتے ہیں مگر وہ بھول جاتے ہیںکہ حالات اور واقعات کی تپش موم کو پگھلا دیتی ہے۔ ہم تحریک انصاف کے چودھری فواد کو ایک معقول اور متحمل مزاج سیاست دان سمجھتے تھے۔ مگر حالات و واقعات نے ثابت کردیا ہے کہ وہ جس جماعت میں شامل ہوتے ہیں اسی کے رنگ میں رنگ جاتے ہیں بخدا ہمارے کہنے کا یہ مطلب نہیں کہ وہ تھالی کے بیگن کی طرح تھالی کے تابع ہوتے ہیں۔ تھالی جدھر چاہے اُدھر لڑھکا دیتی ہے۔ موصوف نے انکشاف کیا ہے کہ ہم تو اوور سیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینا چاہتے ہیں مگر مسلم لیگ نواز اس معاملے میں سنجیدہ نہیں چودھری صاحب آپ اس معاملے میں سنجیدگی کا اظہار کرتے۔ اس حقیقت سے سب ہی واقف ہیں کہ پاکستان وہ بد نصیب ملک ہے کہ جہاں پٹھان پنجابی بلوچ سرائیکی اور مہاجر ہیںکوئی خود کو پاکستان کہلوانے کا روادار نہیں اور اس سے بڑا المیہ یہ ہے کہ رہی سہی کسر سیاست دانوں نے پوری کردی ہے۔ کوئی لیگی ہے، کوئی پی پی ہے، کوئی سرائیکی ہے، کوئی مہاجر ہے اور اب تو انصافی بھی وجود میں آگئے ہیں یہ وبا ابھی تک پاکستان میں تھی مگر جب اوور سیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دیا جائے تو وہ بھی لیگی، پیپلز، مہاجر، سرائیکی بن جائیں گے۔ پاکستانی ہونے کے احساس پر سیاسی جماعتوں کا رنگ غالب آجائے گا اور انتشار کا یہ عمل پاکستانیوں کو بیروں ممالک میں بھی منتشر کرنے کا باعث بنے گا ۔ ہم چودھری فواد سے استدعا کریں گے کہ وہ عرب ممالک میں پاکستانیوں کے حالت زار کا تجزیہ کریں اور اس کے اسباب پر غور کریں۔ کبوتر کے آنکھیں بند کرنے سے بلی بھاگ نہیں جاتی بلکہ بھاگ کر پکڑ لیتی ہے۔ یہ کیسی بد نصیبی ہے کہ عرب ممالک میں پاکستانیوں سے زیادہ بھارتیوں پر بھروسا اور اعتماد کیا جاتا ہے۔ ان کی عزت اور احترام بھی کیا جاتا ہے عربیوں کی نظر میں پاکستانیوں کی کوئی حیثیت نہیں من حیث القوم ہم حقائق سے چشم پوشی کرنے کے خوگر ہوچکے ہیں کشمیر بنے گا پاکستان کا نعرہ لگا کر ہمدردی نہیں دشمنی کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقوام عالم ہمارے اس نظر یے کو کسی صورت تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں۔
ملک میں کوئی بھی بحران آئے تحریک انصاف اس کے ہم نوا سوچے سمجھے بغیر سابقہ حکومتوں کو اس کا ذمے دارقرار دیتے ہیں۔ کراچی سے سرگودھا جانے والی ٹرین گھوٹکی کے قریب ہولناک حادثے کی ذمے داری بھی سابقہ حکومتوں کے سر منڈہی جارہی ہے۔ کہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کی کرپشن اس حادثے کا سبب ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ پچھلی حکومتوں کے دوران جو حادثات ہوئے تھے تب بھی چودھری فواد مذکورہ پارٹیوں کا حصہ تھے اس پس منظر میں بعض لوگوں کا یہ کہنا کوئی غلط نہیں کہ یہ لوگ اپنی آبادی میں اضافے کا ذمے دار بھی سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف اور سابق صدر آصف علی زرداری کو قرار دیں گے ۔ چودھری فواد کا فرمان ہے کہ سعد رفیق کے گناہ کی سزا اعظم سواتی کیوں بھگتیں۔ سو افراد جان سے گئے مگر یہ کہتے ہیں کہ ہم کیوں جائیں غلطی تو ٹرین چلانے والوں کی ہے سابقہ حکومتوں کی ہے۔ گویا حکمرانوں کو حادثے اور حادثے میں جان بحق ہونے والوں سے کوئی ہمدردی نہیں۔ اسی طرح پی آئی اے کے حادثے کے ذمے دار بھی سابق حکومتوں کو قرار دیا گیا تھا۔ خدا جانے وزیر اعظم عمران خان کی لغت میں اہلیت کے کیا معنی درج ہیں۔ اور نا اہلی سے کیا مراد ہے ۔ مگر عوام جانتے ہیں کہ خان صاحب خود پسندی کی وبا میں مبتلا ہیں موصوف ایک ایسی احساس برتری کا شکار ہیں جو احساس کمتری کی بدترین صورت ہوتی ہے۔ فوجی حکومتوں کی ناکامی اور رسوائی کی ایک اہم وجہ یہ بھی رہی ہے کہ سولین کو اہمیت دینے میں تذبذب کی وبا میں مبتلا ہوجاتے تھے۔