زمین پر خدا بننے والے خود زیر زمین چھپ گئے

271

22 ہزار مربع کلومیٹر پر محیط ناجائز ریاست اسرائیل کی کل آبادی تقریباً 85 لاکھ 50 ہزار افراد پر مشتمل ہے ۔ یہ آبادی گویا پاکستان کے شہر لاہور سے بھی کم ہے لیکن یہ ملک دنیا پر حکمرانی کرتا ہے ۔
آج اسرائیل دنیا کی اعلیٰ ترین ٹیکنالوجی رکھنے والی سپر پاور بن چکا ہے جبکہ اسرائیل دنیا کے ان پانچ بڑے ممالک میں شامل ہے جو پوری دنیا کو سب سے زیادہ اسلحہ بیچتے ہیں۔ اسرائیل ہر سال 7 ارب ڈالر کا اسلحہ فروخت کرتاہے ۔ اسرائیل کے اسلحہ کے گاہکوں میں روس، جنوبی کوریا، آسٹریلیا، فرانس اور جرمنی جیسے ترقی یافتہ ممالک بھی شامل ہیں۔ اس بات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اسرائیل کتنی بڑی طاقت بن چکا ہے ۔ اسرائیل ہی ڈرون برآمد کرنے والا دنیا میں سب سے بڑا ملک بھی بن چکا۔ ڈرون کی 60 فیصد عالمی مارکیٹ اسرائیل کے قبضے میں ہے ۔ اس کے علاوہ آج اسرائیل 60 ارب ڈالر سے زائد کا سامان بیرون ممالک فروخت کرتا ہے ۔ ان برآمدات میں سے تقریباً 22 ارب ڈالر مالیت کی اشیاء جدید ترین عسکری و غیر عسکری سازو سامان پر مشتمل ہیں۔ ان اشیا میں جنگی طیارے ، ڈرون، جدید کمپیوٹر، انٹیگریٹیڈ سرکٹ اور میزائل وغیرہ شامل ہیں۔
یہ تو تھا ایک مختصر تعارف ایک ناجائز قابض ریاست اسرائیل کا۔ اب کچھ تفصیلات اس بے یار و مددگار نہتی قوم کی کہ جس کے پاس اسپتالوں میں ادویہ نہیں، اسکول نہیں، حتیٰ کہ کھانے کو دو وقت کی روٹی بھی نہیں۔ لیکن اس کسمپرسی کا شکار، نہتی قوم نے اس زمینی خدا کی ناک میں دم کررکھا ہے ۔
تقریباً 80 لاکھ فلسطینیوں پر مشتمل مقبوضہ فلسطین میں پچاس لاکھ کے لگ بھگ فلسطینی مقبوضہ بیت المقدس اور اس کے قرب و جوار میں مقیم ہیں۔ دس لاکھ کے لگ بھگ غرب اردن اور اس کے اطراف میں، جبکہ بیس لاکھ افراد (جو گزشتہ 14 سال سے اسرائیل کی جانب سے غیرقانونی ناکہ بندی کا شکار ہیں) محصور شہر غزہ میں قید ہیں۔
غزہ ہی وہ شہر ہے کہ جس نے دنیا کی جدید ترین ٹیکنالوجی اور طاقتور ترین اسلحہ رکھنے والی دنیا کی چوتھی خطرناک ترین فوج کے دانتوں تلے پسینے نکال دیئے ہیں۔
غزہ وہ شہر ہے جس کی ایک جانب سمندر ہے اور دوسری جانب ناجائز اسرائیلی ریاست۔ یہ اس طرح اسرائیلی ناکہ بندی کے حصار میں ہے کہ نکلنے کا صرف ایک رستہ ہے ، جسے کو ‘‘رفح گزرگاہ’’ کہا جاتا ہے ، جو مصر کے صحرائے سینا سے ملتی ہے اور اسے بھی مصر نے اسرائیلی حکم پر بند رکھا ہوا ہے ۔ یہ غزہ گزشتہ 14 سال سے اسرائیلی ناکہ بندی میں ہے کہ یہاں سیمنٹ کی ایک بوری بھی اسرائیل کی مرضی کے بغیر لانا ناممکن ہے ۔
غزہ کی بیس لاکھ آبادی میں تقریباً 7 لاکھ بے روزگار ہیں جبکہ دیگر کی یومیہ آمدنی 2 ڈالر سے بھی کم ہے ۔ یہاں اقوام متحدہ کی تنظیم ‘‘اونروا’’ کے تحت غذا فراہم کی جاتی ہے جبکہ ادویہ انسانی ہمدردی کے تحت پہنچائی جاتی ہیں۔ (یہ بھی اسرائیل کی اجازت پر منحصر ہے کہ وہ ادویہ کی فراہمی کی اجازت دیتا ہے یا نہیں۔ اسرائیل میں ایسے کینسر اور دیگر خطراناک امراض کے شکار ہزاروں مریض بچے اور خواتین شامل ہیں جن کو علاج کے لیے غزہ سے باہر جانے کی اجازت نہیں۔)
یہ صورتحال اپنی جگہ مسلمہ حقیقت ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اس چھوٹے سے ٹکڑے میں موجود فلسطینیوں نے اسرائیل کے ناقابلِ تسخیر ہونے کے تاثر کو خاک میں ملادیا ہے ۔
یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ فلسطین میں موجود بے بس سمجھے جانے والے حریت پسندوں نے ، جن میں حماس، جہاد اسلامی اور دیگر شامل ہیں، اسرائیل کو اس کی اوقات بتادی ہے ؛ بلکہ یہ 2014، 2008 میں بھی دیکھا گیا ہے ۔ علاوہ ازیں 2005 میں مجاہدین نے غزہ کو اسرائیلی تسلط سے خالی کرالیا تھا جس کے بعد سے اسرائیل نے غزہ پر سخت ترین پابندیاں عائد کررکھی ہیں۔
اخلاقی طورپر دیکھا جائے تو جب آپ اپنے دشمن پر اپنا خوف طاری نہ کرسکیں تو یہ بات طے ہے کہ آ پ شکست کھا چکے ہیں، اور یہی کچھ اسرائیل کے ساتھ گزشتہ 70 سال سے ہوتا آرہا ہے ۔ اسرائیل تمام ریاستی دہشت گردی اور طاقت کے بے دریغ استعمال کے باوجود آج تک فلسطینیوں کو موت سے نہیں ڈرا سکا، جو اسرائیل کی شکست ہے ۔ یہ قوم کیسے شکست کھا سکتی ہے جس کے بچے بمباری دیکھتے ہوئے بھی اپنے کھیل میں مصروف ہوں؟
خیر، یہ تو ہے ایک اور پہلو، لیکن یہاں میں کچھ ایسے حقائق کا تذکرہ کرنا چاہوں گا جو ابھی تک بہت کم لوگوں کی نظروں میںہیں۔
اسرائیل کی تازہ اور تاریخی تذلیل کی کہانی اس وقت شروع ہوئی جب مقبوضہ فلسطین میں صہیونی فوج نے مقبوضہ بیت المقدس کے مشرقی علاقے شیخ جراح میں موجود فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کرنے کے لیے طاقت کا مظاہرہ کیا جس کے جواب میں فلسطینیوں نے مزاحمت کی۔ فلسطینیوں کی مزاحمت کے خلاف اسرائیل نے روایتی دہشت گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسجد اقصیٰ پر حملہ کیا، اس کی بے حرمتی کرتے ہوئے مسجد کو نقصان پہنچایا، روزہ داروں کو تشدد کا نشانہ بنایا، سیکڑوں کو زخمی اور درجنوں کو گرفتارکرلیا۔
غزہ میں موجود مزاحمتی تنظیم حماس نے اسرائیل کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ فوری طور پر مسجد اقصیٰ سے نکل جائے اور اس کی بے حرمتی سے باز رہے ، بصورت دیگر شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اسرائیل نے حماس کے بیان کو غیر سنجیدہ لیا اور کارروائی جاری رکھی۔ اس کا خیال تھا کہ حماس کے پاس دیسی ساختہ مختصر فاصلے کے چند راکٹ ہیں جس کو انکا آئرن ڈوم فضائی دفاعی نظام کوئی حیثیت ہی نہیں دے گا کیونکہ غزہ میں اسلحہ تو دور، روٹی کا حصول بھی بہت مشکل ہے ۔ لہٰذا اسرائیل نے مسجد اقصیٰ پر دہشت گردی جاری رکھی، لیکن اسرائیل کو ایک غیرمعمولی صورتحال کا سامنا اس وقت کرنا پڑا جب اسرائیل کے سرحدی شہروں کے ساتھ ساتھ یروشلم تک حماس کے جدید ٹیکنالوجی کے راکٹوں نے بارش کردی۔
اسرائیل کا یہ نقصان اتنا غیرمعمولی اور اچانک تھا کہ اس کے ردعمل میں بھی کچھ وقت لگا۔ یہاں ایک بات اور واضح کرتا چلوں کہ اسرائیل کا کوئی آئین نہیں۔ وہ ‘‘تورات’’ کو وہ اپنا قانون اور آئین کہتے ہیں۔ ان کی قومی پالیسی ہے کہ دنیا میں کہیں بھی کوئی یہودی اگر مارا جاتا ہے تو چاہے وہ اسرائیل کا شہری نہ بھی ہو لیکن اس کا بدلہ لینا اسرائیل پر فرض ہے ۔ اس لئے اپنے نقصان کی وہ تفصیلات منظر عام پر نہیں لائی گئی ہیں جو حقیقت میں ہوئی ہیں۔
بین الاقومی میڈیا پر اسرائیل کے نقصان کے حوالے سے کوئی خاص خبر نہیں۔ یوں لگتا ہے کہ بس چند راکٹ کھلے میدان میں گرے ۔ دنیا کا تمام میڈیا اسرائیل کے اختیار میں ہے (اس حوالے سے بہت تفصیل اپنے گزشتہ بلاگز میں دے چکا ہوں، پوری تفصیل کے ساتھ کہ دنیا میں جتنے بھی بڑے میڈیا ہاؤسز ہیں وہ یہودیوں کے ہیں) اس لئے اسرائیل کے ہونے والے نقصان کو معمولی نقصان بتایا جارہا ہے ، بلکہ یوں کہا جارہا ہے کہ ان حملوں میں اسرائیل کا کوئی نقصان ہوا ہی نہیں ۔ پہلے دن یہ خبر آئی کہ بس معمولی نقصان ہوا۔ دوسرے دن خبر آئی کہ تمام نقصان عسقلان شہر میں ہوا ہے جو غزہ سے متصل ہے ، جس میں ایک بس، عمارتیں، ایک پائپ لائن اور کچھ گاڑیاں شامل ہیں۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے ۔ فلسطینی مزاحمت کاروں کی جانب سے اسرائیل پر حملہ اس قدر خطرناک ہے کہ اسرائیل اس کو جھیل نہیں سکا۔
آج سے پہلے فلسطینی مزاحمت کاروں کی جانب سے بھیجے گئے راکٹ محدود رینج کے ہوتے تھے جو بس چند کلومیٹر تک مار کرتے تھے لیکن جمعرات سے ہونے والے حملوں میں حیران کن تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ فلسطینی مزاحمت کاروں نے اسرائیل کے شہر یروشلم تک کو نشانہ بنایا جو ناقابل یقین تھا۔
کینیڈا کی بروکس یونیورسٹی کے آپریشن ریسرچ کے ایسوسی ایٹ پروفیسر مائیکل آرمسٹرونگ نے کینیڈا کے اخبار ٹورانٹو اسٹار میں لکھے گئے اپنے مضمون میں فلسطینی مزاحمت کاروں کے ردعمل کو انتہائی خطرناک اور ناقابل یقین قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی کو بھی امید نہیں تھی کہ حماس کے پاس اتنی جدید گائیڈڈ میزائل ٹیکنالوجی ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ اسرائیل پر حملے کے پہلے 24 گھنٹوں کے دوران، غزہ سے 470 راکٹ فائر کئے گئے جن میں سے درجنوں سیلف گائیڈڈ تھے ، جو اسرائیل کے جدید ترین دفاعی نظام ‘‘آئرن ڈوم’’ (Iron Dome) کو ناکارہ بنانے میں کامیاب ہوئے اور اپنے ہدف پر پہنچے ۔ (واضح رہے کہ اسرائیل کا فضائی دفاعی نظام ‘‘آئرن ڈوم’’ ایک جدید ترین نظام ہے جو امریکا اور فرانس سمیت دیگر دو ممالک کے پاس موجود ہے ۔)
انہوں نے بتایا کہ اس سے قبل فلسطینی راکٹ بے ضابطہ تھے یعنی unguided ہوتے تھے جن کا باقاعدہ ہدف نہیں تھا۔ یہ فائر کرنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ کہاں گرے گا۔ تاہم گزشتہ چار روز میں داغے جانے والے راکٹوں میں ایسے میزائل استعمال ہوئے ہیں جو گائیڈڈ (guided) تھے ، جنہوں نے آئرن ڈوم سسٹم کو پار کرکے عسقلان کے بجلی گھر کو تباہ کردیا۔ صرف عسقلان ہی نہیں، یہ میزائل یروشلم اور ‘‘اشدود’’تک پہنچے ۔
اشدود کے گورنر نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں نیتن یاہو کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ شہر میں صورتحال قابو سے باہر ہے ، متعدد مکانات تباہ اور درجنوں افراد زخمی ہوئے ۔
یہ حملہ اس قدر شدید تھا کہ اسرائیلی میڈیا نے بتایا کہ 50 فیصد سے زائد اسرائیلیوں نے ایک دن اور ایک رات زیر زمین پناہ گاہوں بسر کی۔ اسرائیلی حکومت نے تل ابیب میں سارے دفاتر زیر زمین بنکرز میں منتقل کردیئے اور 5000 کی ریزرو فوج طلب کرلی۔
اسرائیلی میڈیا کی جانب سے دو دن بعد آنے والی خبروں میں بتایا گیا ہے کہ حملوں میں ایک آئل فیلڈ، ایک ٹیلی وژن اسٹیشن کی عمارت، ایک شاپنگ مال، بعض رہائشی مکانات اور ایک عارضی فوجی اسلحہ خانے کو معمولی نقصان ہوا ہے جبکہ ذرائع سے حاصل معلومات کے مطابق، اسرائیل میں اس وقت ایک غیریقینی کی صورتحال ہے ۔ اسرائیل کے اسلحہ خانے کو تباہ کیا گیا ہے ۔ بین گوریان انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ایک حصے پر میزائل لگے ہیں۔ اسرائیلی سمندری بندرگاہ کو جزوی نقصان ہوا ہے اور 5 فوجیوں سمیت کم سے کم 20 اسرائیلی شہری مارے گئے ہیں۔
اسرائیلی فوج کی ترجمان نے اسرائیل کے عبرانی معروف اخبار ‘‘یسرائیل ہیوم’’ میں شائع اپنے بیان میں کہا ہے کہ بظاہر فلسطینی کئی اقسام کے راکٹ استعمال کر رہے ہیں مگر ان میں سے کوئی زیادہ نئے یا پیچیدہ ڈیزائن کے نہیں ہیں اور نہ ہی اسرائیل کے لیے خطرناک۔ یہ انہوں نے بتایا ہے کہ مگر واقعہ یہ ہے کہ حماس کے پاس چھوٹی رینج کے کئی میزائل ہیں جیسے کہ قسام (6 سے 10 کلومیٹر رینج) یا القدس 101 (16 کلومیٹر رینج)۔ ان کے علاوہ گریڈ سسٹم (55 کلومیٹر رینج) اور سیجل 55 (55 کلومیٹر رینج) بھی موجود ہیں۔ سب سے کم رینج کے لیے مارٹر گولے استعمال ہوتے ہیں۔
یہی نہیں بلکہ حماس کے پاس طویل رینج کے سسٹم بھی ہیں جیسے کہ ایم75 (75 کلومیٹر رینج)، الفجر (100 کلومیٹر تک)، آر160 ( 120 کلومیٹر تک) اور کچھ ایم302 ایس جو 200 کلومیٹر رینج کے ہیں۔
تو یہ واضح ہے کہ حماس کے ہتھیار تل ابیب یا یروشلم کو نشانہ بنا سکتے ہیں اور اسرائیل کے ساحلی علاقے ، جہاں اس ملک کی زیادہ تر آبادی اور اہم ترین تنصیبات ہیں، ان کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں۔
تاہم حقائق اس کے برعکس ہیں۔ جمعرات کے روز حماس نے ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ اس کے پاس 250 کلومیٹر کی رینج والا میزائل تھا، جسے ‘‘آیاش’’ کہا جاتا ہے ؛ اور کہا گیا ہے کہ اس نے رامون ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا تھا، جس کی اسرائیل نے تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہوائی ٹریفک متاثر نہیں ہوا ہے ۔
واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ فار نیئر ایسٹ پالیسی میں اسرائیل دفاعی دستوں کے سربراہ ریٹائرڈ بریگیڈیئر جنرل مائیکل ہرزوگ نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج اور انٹیلی جنس حکام اب فلسطینیوں کی میزائل تیار کرنے کی صلاحیتوں کے بارے میں زیادہ تشویش میں مبتلا ہیں جو اس سے پہلے نہیں تھے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ حماس کے پاس کتنے اور کس قسم کے ہتھیار ہیں؟ اس کا اندازہ لگانا ناممکن ہے ۔ اس سے قبل فلسطینیوں کے پاس کورنٹ گائیڈڈ ٹینک شکن میزائل تھے جو مصر سے سرنگوں کے ذریعے لائے گئے تھے ، لیکن اسرائیل نے 2014 کی جنگ میں وہ تمام سرنگیں تباہ کردی تھیں۔ ایسی صورتحال میں حماس کے پاس جدید میزائلوں کا ہونا، اسرائیل کے لیے انتہائی تشویشناک بات ہے ۔