بھارتی پنجاب میں مسلم اکثریتی علاقے کو ضلع بنانے کا اعلان ، پی جے پی سیخ پا

166
ممبئی : مچھیرے اپنی کشتیوں کو طوفان سے بچانے کے لیے محفوظ مقام پر منتقل کررہے ہیں، طوفان ٹکرانے کے بعد بلند لہریں اٹھ رہی ہیں، تیسری تصویر میں ممبئی میں درخت گرنے کے باعث گاڑی تباہ ہوگئی ہے

چندی گڑھ (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارتی ریاست پنجاب کی حکومت نے مسلم اکثریتی علاقے مالیر کوٹلہ کو نیا ضلع بنانے کا اعلان کیا،جس پر شدت پسند ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی شدید برہم ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق پنجاب کی کل آبادی پونے تین کروڑ ہے اور وہاں مسلمان 2فیصد سے بھی کم ہیں۔ تاہم سرحدپر واقع مالیر کوٹلہ واحد ایسا علاقہ ہے ، جہاں مسلمانوں کی آبادی 70 فیصد سے زیادہ ہے۔ ریاستی وزیر اعلیٰ امرندر سنگھ نے عید کے موقع پر مالیر کوٹلہ کو ریاست کا ایک نیا ضلع بنانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اب پنجاب میں 23 اضلاع ہو گئے ہیں۔ تقسیم ہند سے قبل مالیر کوٹلہ مسلمان نوابوں کی ایک ریاست تھی اور اسے ضلع کا درجہ دینے کا ایک مطالبہ بہت دیرینہ تھا،جسے اب تسلیم کیا گیا ہے۔ وزیر اعلی اموندر سنگھ نے کہاکہ عید کے مبارک موقع پر حکومت کی جانب سے مالیر کوٹلہ کو نیا ضلع قرار دینے پر بے حد خوشی محسوس ہو رہی ہے۔ ریاست کا یہ تئیسواں ضلع تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔دوسری جانب سخت گیر ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی نے اسے تفرقہ بازی قرار دیتے ہوئے کانگریس پارٹی پر سخت نکتہ چینی کی ہے۔ اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی ادتیہ ناتھ نے اپنی ایک ٹوئٹ میں لکھاکہ مذہب اور عقائد کی بنیاد پر کوئی بھی تفریق بھارت کے آئین کی روح کے منافی ہے۔ مالیر کوٹلہ کی تشکیل کانگریس کی فرقہ پرست سیاست کی عکاس ہے۔ادھر بی جے پی کے کئی دیگر رہنماؤں نے بھی پنجاب حکومت کے فیصلے کو فرقہ پرستی پر مبنی قرار دیا ہے۔ جواب میں امرندر سنگھ نے ان تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے بی جے پی پر سخت نکتہ چینی کی ہے۔ انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی ادتیہ ناتھ کو پنجاب کے بارے میں کچھ نہیں معلوم اور انہیں ریاست کے معاملات سے بالکل الگ رہنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ پنجاب اترپردیش سے کہیں بہتر ہے، جہاں بی جے پی کی فرقہ پرست اور تباہ کن حکومت4برس سے مذہبی اختلافات کو فروغ دینے کا کام کرتی رہی ہے۔