غزہ پر شدید بمباری اسپتالوں تک جاتی تمام سڑکیں تباہ،مزید 30فلسطینی شہید،تعداد 218 ہوگئی

222

غزہ/نیویارک/انقرہ(خبرایجنسیاں+مانیٹرنگ ڈیسک) فلسطین میں اسرائیل کی بمباری دوسرے ہفتے میں داخل ہوگئی۔اسرائیل کے 50لڑاکا طیاروں نے پیر کی صبح غزہ شہرپرشدیدبمباری کی جس کے نتیجے میں مزید30 فلسطینی شہید ہوگئے جب کہ اسپتالوں تک جانے والی تمام سڑکیں تباہ ہوگئیں۔غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق مسلسل 20منٹ تک جاری رہنے والے حالیہ فضائی حملوں سے غزہ شہر شمال سے جنوب تک لرز اٹھا۔اسرائیلی طیاروں نے یکے بعد دیگرے 70 مقامات پر بم برسائے، رہائشی کالونی دھماکوں سے گونج اٹھی، فلسطینیوں کے بڑی تعداد بتاہ ہونے والی عمارتوں کے ملبے تلے زندہ درگور ہوگئی ۔ ہر طرف قیامت کے مناظر ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق تازہ ترین اسرائیلی حملے گزشتہ ہفتے ہونے والے تمام حملوں کے مقابلے میں زیادہ خطرناک اور وسیع پیمانے پر کیے گئے۔ان حملوں کے نتیجے میں کئی علاقوں کی بجلی منقطع ہو گئی اور بڑی تعداد میں عمارتوں کو نقصان پہنچا۔غزہ کے ایک رہائشی کا کہنا ہے کہ حملوں کی یہ شدت پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ اس نے غزہ میں حماس کے 9 کمانڈروں کے گھروں پر حملے کیے جب کہ سیو دی چلڈرن نامی این جی او کے مطابق پیر کے روز اسرائیلی حملوں سے غزہ میں ہر گھنٹے میں تقریباً 3 بچے زخمی ہوئے ہیں۔ مقامی میڈیا کے مطابق تازہ ترین حملوں میں مرکزی ساحلی سڑک، سیکورٹی کمپاؤنڈز اور کھلی جگہوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔فلسطینی وزارت صحت نے بتایا ہے کہ اسرائیلی جارحیت میں اب تک 85 بچوں اور 34 خواتین سمیت شہید ہونے والوں کی تعداد 218 ہوگئی ہے جبکہ ساڑھے 5 ہزار سے زیادہ زخمی ہیں۔ ڈاکٹروں کی عالمی تنظیم ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز کے غزہ میں تعینات سربراہ ہیلن اوٹنز پیٹرسن نے کہا ہے کہ غزہ پر گزشتہ ایک ہفتے سے ہونے والی بھاری بمباری ایک ’سانحہ‘ بن چکی ہے۔ان کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سڑکیں، پانی، اور بنیادی ضروریات سے منسلک دیگر ڈھانچوں کو نقصان پہنچایا گیا ہے جس سے اس علاقے میں پہلے سے ہی کمزور صحت کے نظام پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اسپتالوں تک رسائی اب انتہائی مشکل ہو چکی ہے سوائے ان لوگوں کے جو اپنے چاہنے والوں کو اسٹریچرز پر اٹھا کر اسپتالوں تک لا رہے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارا اندازہ ہے کہ غزہ کے پاور پلانٹ میں تیل کی جلد کمی ہونے والی ہے، اس کا صحت کے نظام پر بہت برا اثر پڑے گا۔اوٹینز پیٹرسن کا کہنا تھاکہ اس وقت غزہ میں لوگ ذہنی طور پر شدید دباؤ میں ہیں۔ میری یہاں موجود اسٹاف اور طبی عملے سے فون پر بات ہوئی ہے اور وہ اس وقت اس دباؤ کو سہنے کی ہمت نہیں رکھتے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق نہتے فلسطینیوں کے خلاف حملوں میں اسرائیلی افواج اور یہودی آباد کار دونوں پیش پیش ہیں۔علاوہ ازیں حماس کی جانب سے بھی پیر کو اسرائیل پر متعدد راکٹ فائرکیے گئے ہیں۔جنوبی اسرائیل کے مختلف مقامات پر خطرے کے سائرن سنائی دیے گئے ۔اسرائیلی حکام کے مطابق راکٹوں کے حملوں سے کئی افراد زخمی ہو ئے ہیں ،حماس کے راکٹ اشدود شہر میں جا گرے۔حماس کے مسلح ونگ نے کہا کہ اسرائیل پر راکٹ سے حملہ پیر کی صبح اسرائیلی فضائی حملے کے جواب میں ہے۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق بیرشیبا، اشدود اور اشکیلون میں سائرن کی آواز سنائی دی گئی ہے۔مزید برآں امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیل کو درست نشانے پر مار کرنے والے 73 کروڑ 50 لاکھ ڈالر مالیت کے ہتھیار فراہم کیے ہیں۔اخبار کے مطابق یہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تشدد کے آغاز کے عین ایک ہفتے پہلے کی بات ہے۔اخبار کے مطابق جو بائیڈن کے چند ساتھی ڈیموکریٹس اب اسلحے کی فروخت پر تنقید کر رہے ہیں۔کانگریس کی خارجہ امور کی کمیٹی میں شامل ایک ڈیموکریٹ نے اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل پر فائر بندی کا دباؤ ڈالے بغیر ان اسمارٹ بموں کی فروخت کی اجازت مزید تباہی کا پیش خیمہ ہو سکتی ہے۔دوسری جانب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس میں اسرائیل کی پرتشدد کارروائیوں پر عدم اتفاق کے نتیجے میں مشترکہ بیان جاری نہیں ہوسکا۔چین نے امریکا پر الزام عائد کیا کہ واشنگٹن ہی کونسل کو ‘مشترکہ بیان’ دینے سے روکتا ہے۔ادھرترک صدر رجب طیب اردوان نے امریکی صدر جوبائیڈن کو اسرائیل کی حمایت پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں اردوان نے کہا کہ امریکی صدر جوبائیڈن نے اسرائیل کی حمایت کرکے اپنے ہاتھ خون آلود کرلیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جوبائیڈن خون آلود ہاتھوں سے تاریخ لکھ رہے ہیں۔ترک صدر نے امریکی ہم منصب کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ جوبائیڈن آپ نے ہمیں یہ سب کہنے پر مجبور کیا ہم پیچھے نہیں ہٹ سکتے۔علاوہ ازیں ترک صدر رجب طیب اردوان اور کیتھولک چرچ کے سربراہ پوپ فرانسس نے ٹیلی فون پر اسرائیلی حملوں سے متعلق گفتگو کی۔ ترک کمیونیکیشنز ڈائریکٹوریٹ کے مطابق ترک صدر نے کہا کہ فلسطین میں ظالمانہ حملے ہو رہے ہیں اور یہ حملے صرف فلسطینی شہریوں کے خلاف نہیں بلکہ تمام مسلمانوں ، عیسائیوں اور انسانیت کے خلاف ہو رہے ہیں۔ ترک صدر نے زور دیا کہ عالمی برادری کو اسرائیل کو عبرتناک جواب دینا اور اسے سبق سکھانا چاہیے اور اس سمت میں ٹھوس اقدامات کرنے چاہییں ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب تک عالمی برادری اسرائیل کو سزا نہیں دیتی اور اس کے خلاف اقدامات نہیں کرتی تب تک فلسطینیوں کا قتل عام اور انسانیت کے خلاف جرم جاری رہے گا۔ اردوان نے مزید کہا کہ ترکی نے تمام متعلقہ عالمی پلیٹ فارمز خصوصا اقوام متحدہ میں اپنے تمام سفارتی ذرائع استعمال کیے ہیں لیکن اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل احساس ذمے داری کا مظاہرہ نہیں کرسکی ہے۔ صدر اردوان نے اس بات پر زور دیا کہ فلسطینیوں پر اسرائیلی حملوں سے متعلق پوپ فرانسس کے بیانات اور ردعمل سے مسیحی برادری کے ساتھ عالمی برادری کو بھی متحرک کرنے میں مدد ملے گی۔