کورونا: بھارت میں ایک روز میں ریکارڈ 4 ہزار 77 اموات

104

نئی دہلی/ واشنگٹن/ ریوڈی جنیرو (صبا ح نیوز+ اے پی پی) بھارت دنیا میں کورونا کے پھیلاؤ کا مرکز بن گیا، 24 گھنٹے کے دوران 3 لاکھ26 ہزار سے زائد نئے کیس رپورٹ اور وائرس سے 4 ہزار 77 اموات ریکارڈ، متاثرہ مریضوں کی مجموعی تعداد 2 کروڑ 46 لاکھ سے تجاوز کرگئی اورمجموعی ہلاکتوں کی تعداد 2 لاکھ 70 ہزار 284 ہوگئی اور فعال کیسز کی تعداد 36 لاکھ 18 ہزار تک پہنچ گئی ہے، بھارت میں کورونا وبا کے دوران سیاسی قیدی سب سے زیادہ پریشانی کا شکار ہیں۔ دوسری جانب امریکا اور برازیل سمیت دنیا بھر میں کورونا وائرس سے اموات اور مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق دنیا کے مختلف ممالک میں وائرس سے اموات کی تعداد 33 لاکھ 84 ہزار 845 تک پہنچ گئی جبکہ متاثرین کی تعداد 16 کروڑ 32 لاکھ 19 ہزار 391 سے تجاوز کرگئی ہے اور فعال متاثرین کی تعداد ایک کروڑ 71 لاکھ 65 ہزار 99 سے زائد ہے۔ امریکا کورونا وبا سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے جہاں ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور مجموعی ہلاکتوں کی تعداد دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ ہے۔ برازیل کورونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کے لحاظ سے دوسرے اور مریضوں کے حوالے سے تیسرے نمبر پر ہے جبکہ بھارت کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد کے اعتبار سے دوسرا اور میکسیکو ہلاکتوں کے اعداد و شمار سے تیسرا شدید متاثرہ ملک ہے ۔ امریکی حکام کے مطابق امریکا میں کوروناسے اموات کی تعداد6 لاکھ تک پہنچ گئی ہے جبکہ متاثرہ افراد کی تعداد 3کروڑ 36 لاکھ 95 ہزار سے زاید ہوگئی ہے، کورونا کے مریضوں کی مجموعی تعداد 3 کروڑ 36 لاکھ 95 ہزار 916 اور فعال مریض 59 لاکھ 97 ہزار 433 ہیں۔ برازیل میں ہلاکتوں کی تعداد 4 لاکھ 34 ہزار سے زاید جبکہ مریضوں کی تعداد ایک کروڑ 55 لاکھ 90 ہزار سے تجاوز کرگئی۔ گزشتہ 24 گھنٹے میں 67 ہزار 9 نئے کیسز سامنے آئے، متاثرین کی مجموعی تعداد ایک کروڑ 55 لاکھ 90 ہزار 613 ہوگئی ہے اور ہلاکتوں کی مجموعی تعداد4 لاکھ 34 ہزار 852 اور فعال مریضوں کی تعداد 10 لاکھ 93 ہزار 365 ہے۔ علاوہ ازیں بھارت میں وبا کے دوران سیاسی قیدی سب سے زیادہ پریشانی کا شکار ہیں، فروری 2020ء میں دہلی میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کے سلسلے میں تہاڑ جیل میں نظر بند 32 سالہ عمر خالد کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔ عمر خالد کے والد اور ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کے صدر ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے امریکی نشریاتی ادارے کو بتایا ہے کہ انہوں نے جیل انتظامیہ سے ٹیسٹ کرانے کو کہا تھا لیکن حکام نے کوئی توجہ نہیں دی، سماجی کارکن خالد سیفی اور دیگر قیدی بھی کورونا سے متاثر ہیں اور ان لوگوں کی حمایت میں آواز اٹھانے والا کوئی نہیں ہے۔