شوکت ترین مردِ حریت یا ’’سلطان راہی‘‘؟

284

وزیر خزانہ شوکت ترین آئی ایم ایف کے خلاف ’’مردِ حریت‘‘ بن کر سامنے آئے ہیں۔ ان کے اس نعرۂ مستانہ کا راز کیا ہے؟ اور وہ حقیقی مردِ حریت ہیں یا سلطان راہی کی طرح ان کی باتیں محض عوام کو وقت طور پر خوش کرنے کا باعث بنتی ہیں یہ حقیقت معلوم ہونا ابھی باقی ہے۔ آئی ایم ایف کی پالیسیوں کے بخیے ادھیڑ کر رکھ دیے ہیں۔ پہلی خوش آئند بات تو یہ ہے کہ حفیظ شیخ کے برعکس انہوں نے اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے کہ ملک میں مہنگائی ہے اور حکومت مہنگائی کے خلاف ہر حد تک جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی کے معاملے میں مڈل مین کی کمر توڑ دیں گے۔ اے سی ڈی سی کیا سو رہے ہیں؟۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف اتنا گلہ دباتا ہے کہ سانس لینا مشکل ہوجاتا ہے۔ جیسے آئی ایم ایف کہہ رہا ہے ویسے نہیں کرسکتے۔ ہمیں اپنے طریقے سے ریونیو بڑھانا ہوگا۔ ہم ان سے کہیں گے کہ ہمیں سانس لے کر آگے بڑھنے کا موقع دیں۔ زمینی حقائق کے برعکس معاشی شرائط طے کیے جانے کے سبب نوے فی صد آئی ایم ایف پروگرام ناکام ہوجاتے ہیں۔ ہمیں اس کی سیاسی قیمت ادا کرنے پڑرہی ہے۔ شوکت ترین کا یہ پیرایۂ اظہار ملک کی اقتصادیات کو کنٹرول کرنے والے عالمی ادارے کے خلاف مکمل چارج شیٹ بھی ہے اور ملک کی سنگین معاشی صورت حال کا عکاس بھی۔
یہ تصویر کا وہ پہلو ہے جو معاشی ماہرین کی وہ ٹیم اس وقت دکھا رہی تھی جب حکومت آئی ایم ایف کے پاس جانے یا نہ جانے کے معاملے میں تذبذب کا شکار تھی۔ آگے آئی ایم ایف کی کڑی شرائط کی گہری کھائی تھی اور پیچھے معاشی بدحالی اور دیوالیہ پن کا کنواں تھا۔ اسد عمر اس تذبذب میں رہے اور ملکی معیشت کے پائوں اکھڑتے چلے گئے۔ اسد عمر کے تذبذب کی ایک وجہ سمجھ میں آتی ہے کہ وہ اسلام آباد سے ووٹ لے کر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہو کر وزیر خزانہ بنے تھے اور آئی ایم ایف کی شرائط کے مقابلے میں انہیں اسلام آباد کی جھگیوں کے مکینوں کے چہرے دکھائی دے رہے ہوتے۔ انہیں یہ احساس تھا کہ کل کسی لمحے حلقے میں جانا پڑے گا اور یہ احساس ان کے تذبذب کی وجہ رہی ہوگی۔ اس تذبذب ہی میں ان کی وزارت چلی گئی اور آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے لیے حفیظ شیخ منظر پر اُبھرے اور انہوں نے آئی ایم ایف کی کڑی شرائط پر ہی معاہدہ کر لیا۔ وہ ایک ٹیکنو کریٹ ہونے کے ساتھ ساتھ آئی ایم ایف کے پسندیدہ اور چنیدہ انسان تھے اس لیے انہیں نہ سیاسی غیر مقبولیت کا غم تھا نہ ووٹروں کی ناراضی کا خوف۔ نہ کوئی انتخابی حلقہ نہ سیاسی مجبوریوں کا بوجھ۔ ایسے میں ان سے جس قسم کے فیصلے کی توقع تھی وہی ہوا۔ اس کے بعد آئی ایم ایف نے اپنی شرائط پر قرض کی پہلی قسط دی اور عوام کی چیخیں نکلنا شروع ہو گئیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ حکومت تیزی سے غیر مقبول ہو گئی اور یہ وہ سیاسی قیمت تھی جس کا اشارتاً تذکرہ شوکت ترین نے بھی کیا ہے۔
آج عمران خان کی حکومت آئی ایم ایف کی کڑی شرائط کی قیمت چکا رہی ہے۔ یہ قیمت معاہدہ کرنے والے حفیظ شیخ کو بھی چکانا پڑی کہ وہ سینیٹ انتخابات میں ہار کر حکومت سے قانونی اور جمہوری طریقے سے باہر ہوگئے۔ حکومت کے لیے اس شکست کے بعد حفیظ شیخ کو گھر بھیجنا آسان ہو گیا۔ جس کے بعد شوکت ترین ایک آخری کارڈ اور چارہ کار کے طور پر سامنے لائے گئے ہیں۔ شوکت ترین ماضی میں بھی وزیر خزانہ کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ انہوں نے آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کرکے ایک پیکیج منظور کرایا تھا۔ اب شوکت ترین کا کہنا ہے کہ اس وقت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ساتھ دینے کی وجہ سے عالمی حالات پاکستان کے مواقف تھے اس ساز گار ماحول کی وجہ سے آئی ایم ایف نے آسان شرائط پر قرض دیا۔ دوسرے لفظوں میں وہ یہ کہہ رہے ہیں آج پاکستان کو اس کے سیاسی فیصلوں کی سزا آئی ایم ایف کے ذریعے دی جا رہی ہے۔ صرف آئی ایم ایف ہی نہیں بلکہ مسلمہ امریکی اثر رسوخ کے حامل تمام عالمی اداروں کے ذریعے پاکستان کی کلائی مروڑ کر اسے کچھ فیصلوں کی سزاد ی جا رہی ہے۔ ایف اے ٹی ایف کی طرف سے پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈالنا اور مسلسل نگرانی کرنا بھی کچھ فیصلوں کی قیمت ہے۔ پاکستان کے خلاف مغربی قانون ساز اداروں میں منظور کی جانے والی قراردادیں بھی سیاسی بدنیتی کی عکاس ہیں۔
یہ بات اب ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ امریکا پاکستان کو چین کے ساتھ کھڑا ہونے کی سزاد ے رہا ہے۔ افغانستان میں اپنی ناکامیوں پر پاکستان سے خفا ہے۔ امریکا اس نتیجے پر پہنچ چکا ہے کہ پاکستان اب اس کی عالمی اور علاقائی اسکیم میں پوری طرح شریک ہونے کو تیار نہیں۔ جب تک امریکا کو پاکستان سے اس راستے کے واپس لوٹنے کی امید تھی تو آئی ایم ایف کا رویہ بھی کسی حد تک ہمدردانہ اور مشفقانہ تھا اور جب امریکا کی امیدیں ختم ہوگئیں تو آئی ایم ایف ایک اقتصادی غارت بن کر پاکستانی عوام کا معاشی بھُرکس نکالنے لگ گیا۔ جس حکومت سے امریکا کو کسی بہتری کی امید ہوتی تو اس کے لیے بین الاقوامی اداروں کے راستے کھل جاتے ہیں۔ ہر جانب سے آسانیاں پیدانے لگتی ہیں۔ رکاٹیں دور ہونے لگتی ہیں۔ یہ خود موجودہ عالمی نظام اور اداروں کی ساکھ کا سوال بھی ہے۔ گویا کہ یہ نظام کسی انصاف کے اصول پر کھڑا نہیں بلکہ سیاسی ضرورتوں کا اسیر ہے۔ اس کے تمام فیصلے ایک یا چند ملکوں کے ایک کلب کے سیاسی اور دفاعی ضرورتوں کے تابع ہیں۔ یہ ممالک جس کی چاہیں کلائی مروڑ کر اسے معاشی، عالمی سماجی اور دفاعی میدان میں ’’نکو‘‘ بنا کر چھوڑ دیں اور جس پر مہربان ہوجائیں اس پر وسائل کی بارش ہوجائے۔ افغان جہاد اور نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں یہی پاکستان مغرب کا محبوب نظر تھا تو دنیا کے سب ادارے پاکستان پر مہربان تھے اور اب جبکہ حالات بدل گئے ہیں اور مغرب کے زیر اثر عالمی اداروں کا رویہ بھی بدل گیا ہے۔ شوکت ترین کے نعرۂ مستانہ سے یہی کچھ سمجھ میں آتا ہے۔ اس سب کے باوجود وہ آئی ایم ایف کے متبادل ذرائع کس طرح پیدا کر یں گے؟ یہ ایک سوالیہ نشان ہے۔