عید الفطرمسلمانوں کا جشن آزادی

88

یوں تو ہر قوم اور مذہب کے ما ننے والے کسی نہ کسی انداز میں کوئی نہ کوئی مذہبی و قومی تہوار مناتے چلے آئے ہیں اور اس دن وہ اجتماعی طور پر خوشی کا اظہار کر تے ہیں اسی طرح اسلام جو دین فطرت ہے اس میں بھی بندگان خدا کی مسرت و شادمانی کے مواقع رکھے گئے ہیں۔ جس طرح دنیا کے دیگر تہواروں کے پس منظر ہوتے ہیں۔ عید الفطر کا تہوار بھی اپنے جلو میں عظیم الشان پس منظر رکھتا ہے۔ یہ تہوار اہل اسلام رمضان المبارک کے مقدس و پاکیزہ مہینے کے اختتام اور شوال المکرم کی پہلی تاریخ کو رب تعالیٰ کے حضور ماہ رمضان المبارک میں رکھے گئے روزں راتوں کے قیام تلاوت و سماعت قرآن مجید زکواۃ صدقات خیرات اور نیکی و بھلائی کے کاموں کی انجام دہی پر سجدہ شکر بجا لانے پر خوشی و مسرت کے دن کے طور پر مناتے ہیں۔ یہ دن مسلمانان عالم کے لیے جشن آزادی کی حیثیت رکھتا ہے۔ چونکہ یہ وہ دن ہے کہ جب ہمارا خالق حقیقی ہماری رمضان المبارک میں کئی گئیں عبادتوں و ریاضتوں پر خوش ہو کر اپنے مومن بندوں کی گردنوں کو جہنم سے آزادی اور جنت میں داخلے کی سند فضیلت عطا فرما تا ہے۔ آج کا دن بڑا ہی بابرکت اور خوشیوں سے بھرا ہے چونکہ آج مزدوروں کو انکی اجرت ملنے والی ہے۔ جیسا کہ ایک حدیث مبارکہ میں رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔
ترجمہ! شب عید (یعنی چاند رات) کا نام لیلۃ الجائزہ یعنی انعام والی رات ہے۔ عید کی صبح کو اللہ تعالیٰ بہت سارے فرشتوں کو شہروں میں بھیجتا ہے۔ وہ گلیوں کو چوں اور راہ گزاروں میں کھڑے ہو کر پکارتے ہیں جن کی پکار کو جن وانس کے سوا تمام مخلوقات سنتی ہیں۔ فرشتے کہتے ہیں اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے امتیو تم اپنے رب کریم کی طرف نکل چلو جو بہت انعام دیتا اور بڑے بڑے گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ جب روزہ دار عید گاہ کے اندر پہنچ جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ فرشتوں کے درمیان (اپنے ان بندوں پر فخر کرتا اور اور) فرما تا ہے اے میرے فرشتو ذرا یہ تو بتلاؤ کہ ان مزدوروں کا بدلہ کیا ہونا چاہئے جنہوں نے اپنی مزدوریاں ٹھیک ٹھیک طور پر پوری کردی ہوں۔ فرشتے جواب دیتے ہیں کہ اے ہمارے معبود و آقا ایسے مزدوروں کا بدلہ تو یہی ہونا چاہئے کہ انکی پوری پوری اجرت دے دی جائے۔ جو اب میں اللہ تعالیٰ فرما تا ہے۔ اے میرے فرشتوں تم گواہ رہو کہ ان (یعنی اہل ایمان) کے رمضان کے روزوں اور نماز کی وجہ سے میں ان سے خوش ہو گیا اور ان کو بخش دیا ہے اور اللہ تعالیٰ نظر رحمت کر تے ہوئے اپنے بندوں سے ارشاد فرما تا ہے کہ اے میرے بندو تم مجھ سے مانگو مجھے اپنی عزت و جلالت کی قسم ہے کہ اس اجتما ع میں دنیا و آخرت کی جو بھی بھلائی مجھ سے مانگو گے میں عطا کروں گا اور تمہارا خاص خیال رکھوں گا اور جب تک تم میری خشیت اختیار کیے رکھو گے میں تمہاری خطاؤں اور لغزشوں سے در گزر کر تا رہوں گا اور مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم ہے کہ نہ تمہیں ذلیل و رسوا کروں گا اور نہ (قیامت والے دن) مجرموں کے درمیان تمہیں سر زنش کرونگا تم سب کو میں نے معاف کر دیا تم نے مجھے راضی کرنے کی کوشش کی تو میں تم سے راضی ہو گیا۔ امت مسلمہ پر رب تعالیٰ کی یہ انعامات و بخشش کی بارش دیکھ کر فرشتے خوشیاں مناتے ہیں (الترغیب و الترہیب) معلوم ہوا کہ یوم عید الفطر جہنم سے آزادی کا پروانہ حاصل کرنے کا دن ہے اور یقینا جسے اتنی عظیم نعمت غیر مترقبہ حاصل ہوجائے تو اسکی خوشیوں کا کیا ٹھکانہ ہو گا۔ لیکن بقول شاعر
خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی ؐ
کے مصداق اہل اسلام اس جشن آزادی کے موقع پر دیگر اقوام و ملل کی طرح غیر شائستہ غیر اخلاقی حرکات کا ارتکاب نہیں کرتے جیسا کہ غیر مسلم اقوام کا وطیرہ ہے۔ جیسا کہ وہ اپنے تہواروں کے جشن شراب نوشی قمار بازی اور دیگر لہوو لعب کے کاموں میں دھینگا مشتی کر تے ہوئے مناتے ہیں اسکے برعکس اسلام کے ماننے والے اتنی عظیم خوشخبری کے حصول پر بھی آپے سے باہر نہیں ہوتے بلکہ اپنے اس جشن آزادی جہنم و حصول جنت پر دن کی ابتداء و انتہا رب تعالیٰ کی عبادت اور خوشنودی کے حصول میں صرف کر تے ہیں۔ یقینا یوم عید الفطر خوشی اور کھانے پینے کا دن ہے۔ آج کے دن روزہ رکھنا اسی لیے حرام قرار دیا گیا ہے کہ اہل ایمان سارا ماہ رمضان بھوک و پیاس کی شدت برداشت کر تے رہے اور دن رات مشقت اٹھا کر رب کی رضا جوئی تلاش کر تے رہے تو اب مزدوری کی تقسیم کا دن ہے۔ لہٰذا اب بھوکا پیاسا نہیں رہنا بلکہ حسب توفیق خود بھی کھائیں اور دوسروں کو بھی کھلائیں پلائیں۔آج کے دن ایک دوسرے سے عید ملنا اور خوشیاں بانٹنا سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ سارا مہینہ آپ نے اپنے نفس کی اصلاح و تربیت میں گزارا لہٰذا آج آپکا رب آپکو اپنی رضا مندی کے سر ٹیفیکیٹ عطا فرما رہا ہے۔ اس لئے آج کا دن مسرت و شادمانی اور سجدہ شکر بجا لانے کا ہے کہ ہمارا رب ہم سے راضی ہو گیا۔ یہی وجہ ہے کہ اہل ایمان اس عظیم دن کو بھی رب کی یاد میں گزارتے او رہر طرح کی نا فرمانیوں سے بچتے ہیں چونکہ مومن کا وصف تو یہ ہے کہ جب اسے کوئی خوشی حاصل ہو تی ہے تو اس پر اپنے رب کا شکر ادا کرتا ہے اور جب کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اس پر صبر کر تا ہے دونوں مواقع پر حد اعتدال سے نہیں گزارتا بلکہ ہر حال میں اپنے رب کی طرف رجوع کر تا ہے۔اس لئے عید کے موقع پر بھی اہل ایمان رب تعالیٰ کے حضور اظہار عبودیت کرتے ہوئے معافی کے طلب گار ہو تے ہیں۔ اس انداز بندگی کو سراہتے ہوئے انکا رب انہیں عید گاہ سے اس حال میں رخصت کر تا ہے کہ سب کو مغفرت و رحمت کے پروانے جاری ہو جاتے ہیں اور انکی گردنیں جہنم سے آزاد کر دی جاتی ہیں۔ کسی عربی شاعر نے کیا خوب کہا ہے۔
ترجمہ! عید انکی نہیں جنہوں نے عمدہ لباس سے اپنے آپکو آراستہ کیا عید تو انکی ہے جو اللہ کی وعید اور پکڑ سے بچ گئے عید انکی نہیں جنہوں نے آج بہت سی خوشبوؤں کا استعمال کیا عید تو انکی ہے جنہوں نے اپنے گناہوں سے توبہ کی اور اسپر قائم رہے عید ان لوگوں کی نہیں جنہوں نے بڑی بڑی دیگیں چڑھا دیں اور بہت سے کھانے پکائے عید تو انکی ہے جنہوں نے حتی الا مکان مقدور کے ساتھ سعادت حاصل کی اور نیک بننے کا عہد کیا۔
عید انکی نہیں ہے جو دنیاوی زینت کے ساتھ نکلے عید تو انکی ہے جنہوں نے تقویٰ و پرہیز گاری کا توشہ بنا لیا عید انکی نہیں جنہوں نے عمدہ سواریوں پر سواری کی عید تو انکی ہے جنہوں نے گناہوں کو ترک کر دیاعید انکی نہیں جنہوں نے اعلیٰ درجے کے فرش سے اپنے مکانوں کو آراستہ کیا عید تو انکی ہے جو دوزخ کے پل سے گزر گئے۔
قارئین کرام! عید الفطر جہاں جہنم سے آزادی کا نوشتہ ئ جانفزا ہے۔ وہیں اس بات کا احساس بھی ہے کہ جس طرح ماہ رمضان المبارک میں ہم نیکیاں کر تے ہوئے گناہوں سے دامن بچاتے رہے بعینہ سارا سال بلکہ بقیہ پوری زندگی تقویٰ و پرہیز گاری کے ساتھ رب کی مرضیات و رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی پاکیزہ سیرت کے مطابق گزاریں تب تو ہماری عید حقیقی عید ہے وگرنہ محض کھانے پینے نئے لباس پہن لینے کا نام عید نہیں یہی عید الفطر کا فلسفہ ہے کہ بندہ پوری زندگی اپنے خالق و مالک کے احکامات پر کار بند رہتے ہوئے سنت مصطفوی صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل پیرا رہے۔ یہی عید کا پیغام ہے۔اسکی نظریاتی اساس یعنی اسلام کے سانچے میں ڈھالا جائے گا اور ہم من الحیث القوم صحیح معنوں میں اسلامی اقدار اور نظام حیات کو جاری و ساری کریں گے۔ ان اقدامات اور کاوشوں سے رب کی رضا اور اسکے فیوض و برکات حاصل ہونگے۔ اللہ تعالیٰ پاکستان کی حفاظت فرمائے اور ہمیں صحیح معنوں میں مسلمان بنائے۔ آمین یا رب العالمین۔