مالدیپ کے سابق صدر بم دھماکے میں زخمی

85
مالدیپ: جائے وقوع کو فوج نے گھیر رکھا ہے‘ زخمی سابق صدر محمد نشید کو اسپتال منتقل کیا جارہا ہے

مالے (انٹرنیشنل ڈیسک) مالدیپ کے سابق صدر محمد نشید قاتلانہ حملے میں زخمی ہوگئے۔ خبررساں اداروں کے مطابق واقعہ دارالحکومت مالے میں پیش آیا۔ 53سالہ سابق صدر محمد نشید اپنی کار میں سوار ہو رہے تھے کہ قریب ہی کھڑی موٹر سائیکل میں نصب بم پھٹ گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ انہیں علاج کے لیے قریبی اسپتال میں منتقل کیا گیا،تاہم ان کے زخموں کی نوعیت سنجیدہ نہیںہے۔ ادھر وزیر خارجہ عبداللہ شاہد نے محمد نشید پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے جمہوریت پر حملہ قرار دیا۔ واضح رہے کہ محمد نشید اس وقت پارلیمان کے اسپیکر ہیں۔ وہ اس عہدے پر مئی 2019 ء میں فائز ہوئے تھے۔ اس سے قبل وہ 2008 ء میں ملک کے جمہوری طور پر پہلے صدر منتخب ہوئے تھے۔ وہ 2012 ء تک اس عہدے پر فائز رہے ، تاہم بعد میں ایک بغاوت کے نتیجے میں انہیں اپنا عہدہ چھوڑنے کے لیے مجبور ہونا پڑا تھا۔ محمد نشید کو مقدمات کا سامنا بھی کرنا پڑا اور انہیں دہشت گردی کے الزام میں 13برس قید کی سزا سنائی گئی۔ تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ان پر عائد الزامات سیاسی انتقام پرمبنی ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے محمد نشید کو ضمیر کا قیدی قرار دیا ہے۔ محمد نشید کو علاج کے لیے جیل سے ضمانت پر رہائی ملی تو وہ ملک چھوڑ کر فرار ہوگئے تھے اور برطانیہ میں سیاسی پناہ حاصل کرلی تھی۔ وہ 2018 ء میں مالدیپ واپس آّئے اور 2019 ء میں پارلیمان کے اسپیکر منتخب ہوئے۔ یہ مالدیپ میں دوسرا سب سے طاقت ور سیاسی عہدہ ہے۔ مالدیپ کے وزیر خارجہ عبداللہ شاہد نے محمد نشید پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے ٹوئٹر پر لکھا اس طرح کے بزدلانہ حملوں کے لیے ہمارے معاشرے میں کوئی جگہ نہیں ہے۔