برطانیہ اور فرانس ماہی گیری کے حقوق پر لڑ پڑے

165
رودبادِ انگلستان: لندن کے زیرانتظام جرسی کی بندرگاہ کے سامنے کشتیوں میں سوار فرانسیسی ماہی گیر احتجاجی مظاہرہ کررہے ہیں‘ برطانوی بحریہ کا جہاز جزیرے کی جانب گامزن ہے

لندن (انٹرنیشنل ڈیسک) یورپی یونین سے برطانوی انخلا کے بعد ماہی گیری کے حقوق کے تنازع پر برطانیہ اور فرانس نے جنگی جہاز اور ساحلی محافظوں کی کشتیاں روانہ کردیں۔ خبررساں اداروں کے مطابق ماہی گیری کے حقوق پر فرانس کے ساتھ کشیدگی کے تناظر میں لندن حکومت نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ شمالی فرانس سے دور جزیرے جرسی کی نگرانی کے لیے اپنی بحریہ کے 2 گشتی جہاز بھیج رہا ہے۔ جرسی شمالی فرانس کے ساحل کے قریب چینل جزائر کا سب سے بڑا اور خود مختار علاقہ ہے،جو برطانیہ کی حدود میں آتا ہے۔ برطانیہ کا کہنا ہے کہ پیرس حکومت نے جزیرے کی بجلی منقطع کرنے کی دھمکی دے کر انتہائی غیر مناسب رویہ اختیار کیا۔ جرسی کی حکومت اپنی بجلی کی ضرورت فرانس سے پورا کرتی ہے، جو زیر آب تاروں کے ذریعے فراہم کی جاتی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان ماہی گیری پر تنازع اس وقت شروع ہوا، جب ماہی گیروں کو جرسی کے پانیوں میں کام جاری رکھنے کا لائسنس حاصل کرنے کے لیے نئی شرائط پر عمل کرنے کے لیے کہا گیا۔ فرانسیسی وزیر برائے ماہی گیری اینک گیرارڈین نے منگل کے روز کہا کہ کہ فرانس انتقامی اقدامات کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے جرمنی پر الزام عائد کیا کہ وہ یورپی یونین کے ساتھ بریگزٹ سمجھوتے کی شرائط کے مطابق فرانسیسی کشتیوں کو لائسنس جاری کرتا ہے۔ ادھر لندن حکومت کا کہنا ہے کہ وہ بریگزٹ کی مدت کے اختتام کے بعد ماہی گیری کے معاملے پر یورپی یونین اور جرسی کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔ ان حالات میں فرانس کا رویہ ناقابل برداشت ہے۔ بورس جانسن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ یورپی یونین سے ہونے والے سمجھوتے میں جو قواعد طے پائے ہیں، ان پر عمل کرنے کے لیے برطانیہ اپنے 2جہازوں کو حالات کی نگرانی کرنے کے لیے روانہ کررہا ہے۔ واضح رہے کہ برطانیہ جرسی کے خارجہ تعلقات کا ذمے دار ہے، حالاں کہ جرسی تکنیکی طور پر برطانیہ کا حصہ نہیں ہے۔ دوسری جانب فرانسیسی حکومت کے ترجمان گیبریل اٹل نے بجلی منقطع کرنے کے معاملے پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔ انہوں نے بریگزٹ کے بعد برطانیہ کے ساتھ طے پانے والے معاہدے پر فرانس کی حمایت کی یقین دہانی کرائی۔ یاد رہے کہ یورپی یونین سے برطانوی انخلا کے بعد کئی معاملات میں فریقین کے درمیان شدید اختلافات تھے، جو بریگزٹ کے بعد ایک عرصے تک حل نہیں ہوسکے تھے۔ اختلافی معاملات میں آئرلینڈ اور ماہری گیری کے حقوق سرفہرست تھے۔ 2016ء میں برطانیہ میں ہونے والے ریفرنڈم میں 51.9 فیصد افراد نے یورپی یونین کے انخلا کے حق میں ووٹ دیے تھے۔