چین سے متعلق فلپائنی وزیر خارجہ کے ٹوئٹ پر کشیدگی

68

منیلا/ بیجنگ (انٹرنیشنل ڈیسک) فلپائن کے وزیر خارجہ نے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا ہے کہ چین کے جہاز متنازع سمندری حدود سے نکل جائیں۔ تاہم وزیر خارجہ نے اس پیغام کے لیے جو زبان استعمال کی، اسے سفارتی آداب کے مطابق ناشائستہ یا غیر مناسب قرار دیا جا رہا ہے۔ جنوبی چین کی متنازع سمندری حدود میں سرگرمیوں کے حوالے سے بیجنگ کے ساتھ فلپائن کی الفاظ کی جنگ میں یہ تازہ ترین اضافہ ہے۔ کسی لگی لپٹی کے بغیر کچھ بھی کہہ دینے کے لیے مشہور فلپائنی وزیر خارجہ تودورو لاکسن کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب منیلا میں مظاہرے ہو رہے ہیں اور وہ فلپائن کے پانیوں میں 200 میل پر مشتمل ایکسکلوسو اکنامک زون میں سیکڑوں چینی کشتیوں کی موجودگی کو غیر قانونی قرار دے رہے ہیں۔ وزیر خارجہ نے ٹوئٹ میں ایک ایسا لفظ لکھتے ہوئے جسے سفارتی آداب کے منافی سمجھا جاتا ہے، چین سے کہا کہ چین، میرے دوست، میں کس طرح اس بات کو نرم زبان میں بیان کر سکتا ہوں۔ انہوں نے چین سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ ہماری دوستی کے ساتھ کیا کر رہے ہیں۔ منیلا میں چینی سفارت خانے نے اس بیان پر ردعمل کی درخواست کا تاحال جواب نہیں دیا۔ چینی حکام نے کہا تھا کہ ان کی کشتیاں متنازع پانیوں میں ماہی گیری کے لیے موجود ہیں۔