دہلی ہائی کورٹ کا آکسیجن کی فراہمی روکنے پر پھانسی کا حکم

175
بھارت: کورونا کی حالیہ لہر میں جاں بحق ہونے والے مسلمانوں کی نمازِ جنازہ ادا اور تدفین کی جارہی ہے

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارتی دارالحکومت کی عدالت نے کورونا وائرس کی سنگین صورت حال میں اسپتالوں کو آکسیجن کی فراہمی روکنے پر پھانسی کا حکم دے دیا۔ نئی دہلی ہائیکورٹ کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا کہ یہ وبا کی لہر نہیں، بلکہ سونامی ہے اور ان حالات میں لوگوں کی جان کے لیے خطرہ بننے والوں کو لٹکادینا چاہیے۔ دوسری جانب مودی حکومت نے کورونا کی بدترین صورت حال میں حکومت کو تنقید کا نشانہ بنانے والے ٹوئٹر اکاؤنٹ کے خلاف کریک ڈاؤن کی درخواست دے دی۔ عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق مودی حکومت نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر کو درخواست دی ہے، جس میں حکومت کو تنقید کا نشانہ بنانے والے ٹوئٹر اکاؤنٹ کے خلاف کریک ڈاؤن کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ حکومت کی جانب سے ٹوئٹر کو جن ٹوئٹس کا حوالہ دیا گیا ہے، ان میں کئی بھارتی قانون دانوں کے ٹوئٹر اکاؤنٹ بھی شامل ہیں۔ واضح رہے ک مودی سرکار اب بھی بھارت میں ہونے والی اموات کو دنیا سے چھپانے کے لی سرتوڑ کوشش میں مصروف ہے، تاہم امریکا اور برطانیہ کے میڈیا نے بھارت کا اصل چہرہ دنیا کو دکھا دیا،جس کے بعد حکومت کی ناکامیاں کھل کر سامنے آرہی ہیں۔ امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ بھارت میں کورونا سے اموات کی اصل تعداد بہت زیادہ ہے۔ ظاہر تویہ کیا جا رہا ہے کہ روزانہ 2ہزار اموات ہو رہی ہیں، تاہم اصل تعداد 5 گنا زیادہ ہے۔ برطانوی میڈیا کے مطابق بھوپال،گجرات اور اتردیش میں روزانہ چند درجن اموات ریکارڈ پر لائی جا رہی ہیں۔ مقامی حکام موت کی وجہ کورونا کو لکھنے کے بجائے مبہم الفاظ میں بیماری لکھ دیتے ہیں۔