درجنوں فلسطینی صحافی اب تک اسرائیلی قید میں

156

اسرائیل میں اس وقت 26 فلسطینی صحافیوں کو سوشل میڈیا پر خبریں شائع کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق غزہ میں حماس کے زیرانتظام سرکاری میڈیا آفس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل فلسطینی صحافیوں اور میڈیا کے دیگر پیشہ ور ماہرین فلسطینیوں پر سب سے زیادہ گھناؤنے حملے کررہا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ صحافیوں کو ہراساں کیا گیا ، انھیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور جرمانہ بھی کیا گیا۔ گرفتار ہونے والوں میں فلسطینی مشہور صحافی بشریٰ التویل بھی شامل ہیں۔

گذشتہ روز اسرائیلی فوج نے وسطی مغربی کنارے کے شہر رام اللہ سے صحافی علی الرماوی کو بھی ان کے گھر پر چھاپے مارنے کے بعد گرفتار کیا۔

علی الرماوی کی اہلیہ نے بتایا کہ علی ریماوی نے گرفتار ہوتے وقت بھوک ہڑتال کردی تھی۔

علی الریماوی الجزیرہ مباشر کے رپورٹر کی حیثیت سے کام کرتے ہیں اور ایک میڈیا کمپنی بھی چلاتے ہیں۔ وہ سیاسی اور اسرائیلی امور کے محقق ہیں جنہوں نے دس سال سے زیادہ کا عرصہ اسرائیلی جیلوں میں گزارا ہے۔

حماس کی حکومت نے صحافیوں سمیت تمام قیدیوں کی صحت اور حفاظت کے لئے مکمل طور پر اسرائیل انتظامیہ کو ذمہ دار قرار دیا ہے اور میڈیا سے منسلک اور انسانی حقوق سے وابستہ تمام فریقوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کریں اور ان کی رہائی کے لئے عملی اقدامات کریں۔