کاروبار کی تشہیر کے لئے کئی درختوں کا صفایا کردیا گیا

184

کراچی(اسٹاف رپورٹر)شہر قائد میں درختوں کے کاٹے جانے کا واقعہ پیش آیا ہے، میونسپل کمشنر ضلع وسطی نے ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی ہدایت جاری کردی ہیں۔

ذرائع کے مطابق کراچی کے علاقے نارتھ ناظم آباد میں رات گئے نامعلوم افراد کیجانب سےکئی درخت کاٹ دیئےگئے، شجرکاری مہم کےتحت سات سال قبل اس علاقے میں کم وبیش بیس ہزار درخت لگائےگئےتھے۔

پولیس کی جانب سے درخت کاٹے جانے سے متعلق موقف سامنے آیا ہے، جس میں کہا گیا کہ کارواش سینٹر انتظامیہ نے رات میں کئی درخت کٹوائے، واقعہ سترہ اپریل کو حیدری مارکیٹ سےسیفی کالج جانیوالی سڑک پرپیش آیا، واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آگئی ہے، جس میں درختوں کی کٹائی کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ شجرکاری کی وجہ سےکار واش سینٹر نظر نہیں آرہا تھا، پولیس اورا نتظامیہ کیجانب سے معاملےکی جانچ پڑتال شروع کردی گئی ہے۔

دوسری جانب نارتھ ناظم آباد میں درختوں کی کٹائی کے معاملے پر میونسپل کمشنر وسطی علی زیدی نے ذمہ دار عناصر کےخلاف ایکشن لے لیا ہے اور ایس ایچ اونارتھ ناظم آباداورایس ایچ اوحیدری کوخط لکھ دیا ہے۔

میونسپل کمشنر نے اپنے خط میں کہا کہ حیدری گرین بیلٹ پر درختوں کو غیرقانونی طور پرکاٹا گیا، درخت کاٹنے میں ملوث افراد کےخلاف فوری کارروائی کی جائے اور کارواش سینٹر کےخلاف مقدمہ درج کیاجائے، کسی کو درخت کاٹنےکی اجازت نہیں ہے۔

خیال رہے کہ ملک بھر میں وزیرِ اعظم عمران خان کی جانب سے درخت اگاؤ مہم جاری ہے، اس کے علاوہ پاکستان میں تخفظِ ماحول کے قانون مجریہ 1997ء کی رو سے’درخت کاٹ کر سبز ماحول کو نقصان پہنچانے کا جرم مستوجبِ سزا ہے، جس پر مجرم کو تین ہزار روپے جرمانے اور چھ ما قید کی سزا رکھی گئی ہےلیکن اسکے باوجودکئی برسوں سے درختوں کی بے دریغ کٹائی نے شہر کراچی میں ماحولیاتی آلودگی میں خطرناک حد تک اضافہ کیاہے۔