روس نے 20 چیک سفارتکار ملک بدر کردیے

162
پراگ: سفارت خانے کے باہر روس کے حق میں مظاہرہ کرنے والے شہری کو پولیس دبوچ رہی ہے

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک) جمہوریہ چیک کی طرف سے 18 روسی سفارت کاروں کی بے دخلی کے بعد جوابی کارروائی کرتے ہوئے روس نے 20 چیک سفارت کاروں کو حکم دیا ہے کہ وہ پیر کی شام تک ملک چھوڑ دیں۔ روسی وزارت خارجہ نے یہ فیصلہ پراگ کے اقدام کے جواب میں کیا ہے۔ چیک جمہوریہ کے سفیر ویٹیز سلاف پیونکا کو اتوار کی شام روسی وزارت خارجہ میں طلب کیا گیا اور انہیں بتایا گیا کہ چیک سفارت خانے کے 20 ملازمین کو ناپسندیدہ قرار دیا گیا ہے۔ اس سے قبل چیک حکام نے ہفتے کے روز 18 روسی سفارت کاروں کوملک سے نکال دیا تھا۔ ان لوگوں پر 2014ء میں چیک جمہوریہ کے ہتھیاروں کے ایک ذخیرے میں ہلاکت خیز دھماکے میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ چیک پولیس کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ دھماکے کے تحقیقات کے سلسلے میں 2 روسی جاسوسوں کی بھی تلاش کر رہے ہیں، جو 2018ء میں سابق روسی ڈبل ایجنٹ سرگئی اسکریپل کو زہر دینے کے معاملے میں مبینہ طور پر ملوث ہیں۔ روسی وزارت خارجہ نے پراگ کے فیصلے کو غیر معمولی اور بے بنیاد قرار دیا ہے۔ روسی وزارت خارجہ نے اتوار کے روز ایک بیان میں کہا تھا کہ ہم جوابی کارروائی کریں گے جس سے اشتعال انگیزی کرنے والوں کو ہمارے ملک کے درمیان معمول کے تعلقات کی بنیاد کو تباہ کرنے کی اپنی مکمل ذمے داری سمجھنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔ روس کا کہنا ہے کہ چیک جمہوریہ کے اقدام میں اسے امریکا کے ملوث ہونے کا سراغ ملا ہے۔ روسی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ روس کے خلاف حالیہ امریکی پابندیوں کے پس منظر میں امریکا کو خوش کرنے کی خواہش میں چیک حکام نے اس حوالے سے اپنے آقاؤں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔ اس ہفتے کے اوائل میں امریکا نے کئی پابندیوں اور دس روسی سفارت کاروں کو بے دخل کرنے کا اعلان کیا تھا۔