سائکولوجی: زیادہ دیر تک بیٹھنے کے منفی ذہنی اثرات

264

کورونا وبا نے بہت سے لوگوں کو غیر فعال کردیا ہے۔ پہلے تو بہت سارے اسکولوں نے آن لائن کلاسیں شروع کیں۔ جب ان اسکولوں میں سے کچھ نے ذاتی طور پر کلاسز دوبارہ شروع کیں تو انہوں نے طلبا کی تعداد کو کم کردیا۔ اسی طرح بہت سی کمپنیاں لوگوں کو گھر سے کام کرنے دیتی رہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ بہت کم لوگ بس اسٹاپوں پر چل رہے ہیں اور اکثر لوگ اب بیٹھے یا لیٹے رہنے میں اضافی وقت گزار رہے ہیں۔

دن بہ دن بڑھتا ہوا یہ طرز زندگی صحت کے لئے اچھا نہیں ہے۔ انسانی جسم حرکت و سکنت کیلئے بنایا گیا ہے، اس حرکت کو محدود رکھنا ہائی بلڈ پریشر سے لے کر دائمی بیماریوں کے خطرات جیسے ذیابیطس تک کا باعث بن سکتا ہے۔ جبکہ دوسری جانب حالیہ تحقیقات ست یہ بھی پتہ چلا ہے کہ جب ہم کافی حرکت نہیں کرتے تو دماغ کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔ اور اس سے ذہنی پریشانیوں میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

جیکب برکلے اوہائیو میں کینٹ اسٹیٹ یونیورسٹی میں ایک محقق سائنسدان ہیں۔ وہ اس ٹیم کا حصہ تھے جس نے گذشتہ سال 398 کالج طلباء اور اساتذہ سے کلاسز معطل ہونے کے بعد کی سرگرمیوں کے بارے میں پوچھا تھا۔ جن لوگوں نے اب تک ورزش کم کی تھی وہ اوسطا جسمانی طور پر کم متحرک تھے جبکہ وہ لوگ جو کلاس بند ہونے کے بعد جسمانی طور پر زیادہ سے زیادہ سرگرم تھے، وہ زیادہ چاق و چوبند دکھائی دیے اور سوالات کو سمجھنے میں بھی دوسرے شرکاء کے مقابلے میں بہتر ردِعمل دیا۔

ایک اور تحقیق میں محققین نے وبائی مرض کے ابتدائی مہینوں میں 937 برازیلی بالغوں کا سروے کیا۔ وہ زیادہ تر گھر میں ہی رہتے تھے ، سوائے ڈاکٹر سے ملنے یا کھانے کی خریداری جیسی سرگرمی کے۔ ان لوگوں میں سے ایک تہائی افراد نے روزانہ 10 گھنٹے سے زیادہ بیٹھے رہنے کا انکشاف کیا اور ایسے لوگوں میں افسردگی کی علامات کی اطلاع زیادہ تھی۔