وزیراعظم نے یوٹرن، اعلانات اور تبدیلیوں کے نئے ریکارڈ قائم کر لیے، لیاقت بلوچ

194

لاہور: نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان اور سابق پارلیمانی لیڈر لیاقت بلوچ نے کہاہےکہ وزیراعظم عمران خان نے یوٹرن ، مہنگائی ، بے روزگاری ، زبان درازی ، اعلانات اور وفاقی وزراء کی تبدیلیوں کے نئے ریکارڈ قائم کر لیے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان کا کہنا ہے کہ  گڈ گورننس کی بجائے حکومت کی نقشہ گری عوام کے لیے وبال جان بن گئی ہے، عوام کو بڑی توقعات تھیں کہ فوجی آمریتوں ، پی پی ، مسلم لیگ کی حکومتوں کی ناکامیوں سے سبق سیکھا جائے گا ۔

لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ ایک پیج پر ہیں ،عوام کو ریلیف ملے گا لیکن عمران سرکار ماضی کی ناکام حکومتوں کا ہی تسلسل ثابت ہوئی ہے ، اسد عمر کے بعد حماد اظہر کو منتخب ممبران میں سے بہترین بنا کر پیش کیا لیکن عالمی مالیاتی اداروں نے ڈاکٹر حفیظ شیخ کے بعد اپنی چوائس وزارت خزانہ پر مسلط کرالی۔

انہوں نے کہا کہ  یہ المیہ ہےکہ حکومت کا ریاستی نظام چلانے کا کوئی وژن اور تیاری نہیں اور بڑے دعوے اب بھی جاری ہیں جبکہ حکومت اونچی دکان پھیکا پکوان ہے۔

لیاقت بلوچ نے کہاکہ یہ درست ہے کہ ریاست کو کوئی بھی یرغمال نہ بنائے، تشدد ، انتہا پسندی ، عدم برداشت سے ریاست کو نقصان پہنچ رہاہے لیکن ریاست بھی یہ تصور نہ کر لے کہ ریاست غیر آئینی ، غیر جمہوری اور عوام دشمن اقدامات سے عوام کو زر خرید اور غلام بناسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریاستی طاقت کا جب بھی غیر آئینی استعمال ہوتا ہے تو عوام اپنے حقوق چھین لینے کے لیے سڑکوں پر نکلتے ہیں، سیاست ،پارلیمنٹ ، ریاستی ادارے آئینی حدود کی پاسداری ، آئین قانون اور انصاف کی علمبرداری قائم کریں۔

لیاقت بلوچ نے کہاکہ ماہ رمضان میں بھی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی دہشتگردی اپنے عروج پر ہے ، کشمیری آزادی ، حق خود ارادیت ، اسلام اور پاکستان کے لیے لازوال قربانیاں دے رہے ہیں، پاکستان کے لیے کشمیریوں کی قربانیوں اور استقامت کو بھلا کر بھارت سے دوستی اور مودی سے یاری کا کھیل بہت خراب نتائج لائے گا۔

لیاقت بلوچ نے کہا کہ بھارت مکاری سے ہمیشہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کو دھوکہ دیتا ہے، بھارت ہی ہمیشہ مذاکرات کی میز الٹ دیتاہے جبکہ پاکستان کے لیے واحد راستہ کشمیریوں کی پشتی بانی اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق عالمی محاذ پر کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی جنگ ہے اور یہ طے شدہ امر ہے کہ آزادیٔ کشمیر کا حل جہاد ہے۔