دل صاف کرنے کا وقت

173

پی ڈی ایم ملک کی سیاسی جماعتوں کا کوئی پہلا اتحاد نہیں ہے کہ سیاسی جماعتیں اتحاد کے ٹی او آرز سے واقف نہ ہوں، مسلم لیگ (ن) پیپلزپارٹی، اے این پی، جے یو آئی اور اس اتحاد میں شامل دیگر جماعتیں کسی نہ کسی وقت سیاسی اتحادوں میں شامل رہی ہیں، پاکستان قومی اتحاد سے لے کر متحدہ مجلس عمل اور اب پی ڈی ایم تک ملک میں بہت سے اتحاد بنے، اور بے شمار بار ایسے مراحل آئے کہ جس سے اندازہ ہوتا کہ اتحاد ابھی ٹوٹا کہ ٹوٹا، لیکن معاملات سنبھالنے والے اس وقت عمر رسیدہ سیاست دان تھے، جنہوں نے سیاسی کلچر میں رہ کر مار کھائی ہوئی تھی، اور اسی سبب بہت کچھ سیکھ چکے تھے، پاکستان قومی اتحاد پیپلزپارٹی کے خلاف وجود میں آیا، اسے پہلا پتھر اتحاد کے اندر ہی سے مارا گیا تھا جب پیر اشرف نے بھٹو سے ملاقات کی تھی، کسی نے اس وقت اس سیاسی جماعت کو شو کاز نوٹس نہیں دیا تھا جس سے پیر اشرف وابستہ تھے، ہاں البتہ ہوا یہ کہ پیر صاحب کی جگہ پروفیسر غفور احمد پاکستان قومی اتحاد کے سیکرٹری جنرل بنائے گئے، پھر یہی اتحاد بھٹو حکومت ختم ہوجانے کے بعد ضیاء الحق کی کابینہ میں جانے کے معاملے پر تقسیم ہوتا رہا، باہم دست وگریبان جیسی صورت حال بھی رہی، مگر اتحاد کے سربراہ نے کسی رکن جماعت کو شو کاز نوٹس جاری نہیں کیا، اس کے بعد ایم آر ڈی بنی، سب کچھ ہوتا رہا، مگر شو کاز نوٹس نہیں دیا گیا، نواز شریف حکومت برطرف ہوئی اور جنرل مشرف اقتدار میں آئے تو اے آر ڈی وجود میں آئی، اس سے پہلے سیاسی اتحاد جی ڈی اے کے نام سے تھا، جس میں طاہرا لقادری اور عمران خان بھی موجود تھے، نواب زادہ نصراللہ اس اتحاد کے سربراہ تھے، یہ اتحاد بھی بڑے ہی مدو جذر سے گزرا، کئی بار محسو ہوا کہ اتحاد گیا، مگر قیادت معاملات سنبھالتی رہی، ایک موقع تو ایسا بھی آیا کہ اے آر ڈی کے ایک اجلاس میں محترمہ کلثوم نواز صاحبہ (اللہ ان کی مغفرت فرمائے) شریک تھیں اور فیصلہ ہورہا تھا کہ لانگ مارچ کرنا ہے جلوس اسلام آباد سے گوجرانوالہ جائے گا، رات بھر فیصلے ہوتے رہے اور اگلی صبح شریف خاندان جہاز میں سوار جدہ کی اڑان بھر رہا تھا، مگر کسی نے مسلم لیگ(ن) کو نوٹس جاری نہیں کیا۔ متحدہ مجلس عمل میں کیا ہوتا رہا؟ جے یو آئی (ف) اس وقت (صوبہ سرحد) کی وزارت اعلیٰ لی اور بلوچستان میں مسلم لیگ (ق) کے ساتھ صوبائی حکومت میں شامل ہوئی، مگر کسی نے اسے شو کاز نوٹس جاری نہیں کیا تھا، متحدہ مجلس عمل اور مسلم لیگ (ق) کے مابین آئین کی سترویں ترمیم کے لیے معاہدہ ہوا، جے یو آئی (س) اس معاہدے میں شریک نہیں ہوئی اس کا ایک دھڑا الگ ہوا اور جے یو آئی (سینئر) بن گیا جس نے اس معاہدے پر دستخط کیے، اس وقت تو کسی نے جے یو آئی (س) کو نوٹس جاری نہیں کیا تھا۔
سارے پس منظر کا مقصد یہ ہے کہ سیاسی اتحاد اس طرح نہیں چلتے، شو کاز نوٹس دیے جائیں اور کہہ دیا جائے کہ خدا حافظ، اور ہاں ایسا بھی نہیں ہوتا اکہ اگر وضاحت مانگی جائے تو یہ خط ہی پھاڑ دیا جائے، اسلام میں قاصد اور لائے جانے والے پیغام کی بہت اہمیت ہے، حکم ہے کہ قاصد کو عزت دی جائے… لیکن اب یہ ماحول نہیں رہا، کبھی کہا جارہا ہے کہ نواز شریف واپس آئیں، کبھی کہا جارہا ہے کہ پیپلزپارٹی جوب دہ ہے، سوال تو موجود ہے کہ کیا سابق وزیراعظم نواز شریف وطن واپس آ سکتے ہیں؟ نواز شریف کے علاج کی غرض سے برطانیہ جانے کے بعد حالت تبدیل ہورہے ہیں شہبازشریف نے آر یا پارکی سیاست کرنے سے پرہیز کیا نواز شریف کی طاقتور لوگوں پر تنقید کی وجہ سے ادارے بیک فٹ پر بھی گئے تھے تاہم اب نواز شریف نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے، ان دنوں مریم نواز کی بیرون ملک روانگی کی بھی باتیں چل رہی ہیں یہ بات زیادہ چل رہی ہے کہ مریم نواز کو باہر جانا ہے لیکن شرائط بیان نہیں کی جارہی ہیں۔
پاکستان کی سیاست میں بہت نشیب و فراز ہیں، ہمارا ملک اس وقت اندورنی اور بیرونی محاذ پر مشکل میں ہے، کشمیر کے لیے بہت سے سوالت اٹھائے جارہے ہیں، گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے کی باتیں بھی ہورہی ہیں، اس خطہ میں چین، امریکا، روس، برطانیہ کے اپنے مفادات ہیں یہ سب ممالک اپنے مفادات کی نگہبان بنے ہوئے ہیں اور ہم ہیں کہ دست و گریبان ہیں، کہیں ڈیڈ لاک ہے، کہیں عالمی کھلاڑیوں کی باتیں ہورہی ہیں کوئی کہہ رہا ہے کہ مریم نواز کو بیرون ملک جانے دیں، کوئی کہہ رہا ہے انہیں یہیں رکھا جائے، نواز شریف کو بھی واپس لایا جائے، اگر انہیں واپس ہی لانا تھا تو بھیجا کیوں تھا؟ ایک ہی اتحاد میں رہتے ہوئے طعنے دیے جارہے ہیں کہ پیپلزپارٹی ریلیف لے چکی ہے اور جواب میں کہا جارہا ہے مسلم لیگ (ن) بھی ریلیف لینے والی ہے، مگر سیاسی زمینی حقائق سب کے سامنے ہیں۔
2000 ء میں جب شریف خاندان ایک غیر ملکی ضامن کے باعث باقاعدہ ایک معاہدے کے بعد جدہ کے لیے جلاوطن ہوا تھا تو اس وقت بھی سیاسی اتحاد اے آر ڈی کو قائم ہوئے ہفتے ہی ہوئے تھے، اسی لیے اس وقت سیاسی اتحاد کے سربراہ نواب زادہ نصر اللہ خان نے تبصرہ کیا تھا کہ ’’زندگی میں پہلی بار تاجر سے ہاتھ ملایا تھا مگر وہ ہمارے ساتھ ہاتھ کر گئے ہیں‘‘۔ اکیس سال کے وقفے کے بعد ملک میں ایک بار پھر ویسی کی صورت حال نظر آرہی ہے مگر اس بار مولانا فضل الرحمن پریشان ہیں کہ پی ڈی ایم تو حکومت کے خلاف عوامی تحریک چلانے کے لیے بنایا گیا تھا مگر اب اس اتحاد کی سیاسی قوت حکومت کے خلاف استعمال کرنے کے بجائے اتحاد میں شامل دو بڑی جماعتوں نے اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کی ہے۔ ملک کی سیاست میں ایک نیا کردار بھی ابھر رہا ہے جہانگیر ترین کی صورت میں، وزیراعظم کو پارٹی رہنمائوں کی جانب سے رپورٹس پیش کی گئیں کہ مخدوم احمد محمود کے ذریعے گیلانی کو لاجسٹک سپورٹ دی گئی حکومتی امیدوار حفیظ شیخ کے مقابل یوسف رضا گیلانی کو جہانگیر ترین کی سپورٹ حاصل تھی جس کا ذریعہ مخدوم احمد محمود بنے۔ ان کا یوسف رضا گیلانی سے سیاسی تعلق ہے جب کہ جہانگیر ترین کے بھی رشتہ دار ہیں۔ عمران خان کو اس کے متعلق ثبوت بھی پیش کیے گئے۔ بتایا گیا ہے کہ جہانگیر ترین اور عمران خان کے درمیان تلخیاں کم ہو گئی تھی لیکن اس رپورٹ کے بعد دوریاں مزید بڑھ گئی مگر مشترکہ دوست ابھی بھی پر امید ہیں۔