عمران خان کی رام کہانی

188

جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے بجا طور پر درست کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان عوام کی فلاح و بہبود کے اہل نہیں۔ موصوف نے انتخابی مہم کے دوران عوام کو سہولتیں اور مراعات فراہم کرنے کے ایسے ایسے وعدے کیے تھے جنہیں سن کر عوام خوشی سے پاگل ہوگئے تھے۔ عمران خان کی حکومت اسی پاگل پن کا ثبوت ہے۔ آثار وقرائن بتا رہے ہیں کہ عوامی مسائل اور مشکلات سے نبرد آزما ہونا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں۔ عمران خان نے آدھی مدت الف لیلا کی داستان سنا سنا کر گزاردی۔ اور بقیہ مدت وہ اپنی رام کہانی سنا کر پوری کردیں گے۔ مگر عوام اب کچھ سننے کے روادار نہیں اب تو بچے بھی کہانیاں سننا پسند نہیں کرتے خدا جانے عمران خان کس دنیا میں رہتے ہیں کہانیاں عوام کے مسائل کا حل نہیں۔ عوام کو اپنی اور اپنے خاندان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے پیسے کی ضرورت ہوتی ہے اور پیسہ روزگار سے ملتا ہے۔ کبھی کبھی تو یہ خدشہ حقیقت کا روپ دھار لیتا ہے کہ عمران خان کو ملک کی معیشت اپنے پائوں پر دیکھنا پسند نہیں شاید وہ یہ چاہتے ہیں کہ ملک کی معیشت بے ساکھیوں کے سہارے چلے۔ تاکہ چندہ دینے والے بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور شوکت خانم اسپتال کی طرح ریاست پاکستان ریاست عمرانیہ بن جائے۔ عمران خان جب سے وزارت عظمیٰ کی مسند پر براجمان ہوئے ہیں ان کی سمجھ لندن کوچ کرگئی ہے۔ کبھی وہ ادھر اُدھر کی باتیں کرکے اپنے ہونے کا احساس دلاتے رہتے ہیں۔ کبھی پاکستان کو ریاست مدینہ بنانا چاہتے ہیں کبھی چین کا طرز حکمرانی ان کو اپنی جانب کھنچنے لگتا ہے۔ کبھی امریکا اور برطانیہ کے ناز وانداز موصوف کو بے قرار کردیتے ہیں۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ خان صاحب نے اپنی حکومتی مدت کا آدھا حصہ اضطرابی کیفیت میں گزار دیا ہے۔ یہ بات پورے یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ جس نے اپنی آدھی جوانی اضطراب میں گزاری ہو وہ اپنی بقیہ زندگی بھی اضطراب میں ہی گزارے گا۔ یہاں ہمیں وہ نجومی یاد آرہا ہے جس نے قسمت کا حال پوچھنے والوں سے کہا تھا کہ تمہارے ہاتھ کی لکیریں بہت صاف اور نمایاں ہیں انہیں پڑھنے میں مجھے کسی دشواری کا سامنا نہیں۔ اس نے پوچھا کیا کہہ رہی ہیں میرے ہاتھ کی لکریں… ’’تمہارے ہاتھ کی لکیریں بڑے مزے مزے کی باتیں کررہی ہیں کچھ تو مجھے بھی سنائو مجھے بھی مزہ آئے‘‘۔ لکیریں کہہ رہی ہیں کہ تمہاری آدھی زندگی بہت دشوار گزرے گی اس کے بعد کیا ہوگا سوال کیا گیا…؟ پھر تم اس دشوار زندگی کے عادی ہوجائو گے۔
جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے خان صاحب کو انتہائی معقول اور قابل عمل مشورہ دیا ہے مگر المیہ یہی ہے کہ خان کوئی بھی ہو دوسرے کے مشورے پر عمل نہیں کرتے شاید خود کو عقل کل سمجھتے ہیں۔ موصوف نے خان صاحب کو مشورہ دیا ہے کہ بس بہت ہوچکا وزارت عظمیٰ کی مسند پر بیٹھے کی خواہش پوری ہوچکی ہے۔ خواہش بھی منت جیسی ہوتی ہے منت پوری ہو یا خواہش منزل مراد کو پہنچے کہا سنا معاف کراکر گوشہ نشیں ہونے ہی میں عافیت سمجھی جاتی ہے۔ اب یہ الگ موضوع ہے کہ سب لوگ ایسا نہیں کرتے مگر جو گرتے پڑے اپنی منزل تک پہنچتے ہیں وہ لمبی تان کر سونے ہی میں اپنی عافیت سمجھتے ہیں۔ آج نہیں کل کا ورد، جان کی امان پانے والے کرتے ہیں۔ جان کی امان پانے والوں کی جان بچ جاتی ہے تو اونٹ کے بجائے بکری قربان کردیتے ہیں باخدا ہمارا یہ مقصد نہیں کہ حکومت کی مدت خیرو عافیت سے گزر گئی تو بکری کی قربانی دی جائے گی۔ قربانی کے لیے عوام کی کمی نہیں انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجی کے دور میں عوام کو موم کی ناک نہیں بنایا جاسکتا۔ حکومت کی کارکردگی نے عوام کو ہر حکمران سے بد گمان کردیا ہے مگر جماعت اسلامی عوام کو یقین دلاتی ہے کہ مکمل فلاحی پروگرام کے ساتھ میدان عمل میں اتری ہے۔ ہماری تحریک کامقصد پاکستان کو امریکا چین وغیرہ بنانے کا نہیں ہم حقیقی معنوں میں پاکستان کو دین کے نقش و قدم پر گامزن کریں گے۔ اور پاکستان کو اسلام کا قلعہ بنا کر دنیا کا ایک عظیم ملک بنائیں گے۔ عوام کے سامنے حق واضح ہے۔ ان کی ذمے داری ہے کہ وہ سچے اور ایمان دار لوگوں کو منتخب کریں۔ تاکہ پاکستان کو فلاحی مملکت بنایا جاسکے۔ جب تک سرمایہ دار اور جاگیردار برسر اقتدار رہیں گے۔ لوٹ مار کا کلچر پروان چڑھتا رہے گا۔ تحریک انصاف کی حکومت سب کچھ بیچ دو کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔