‘ ہم کمشنر کراچی کو ہٹانے جارہے ہیں’

203

چیف جسٹس نے کراچی تجاوزات کیس میں کمشنر کراچی اور ایس بی سی اے حکام پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ  ہم کمشنر کراچی کو ہٹانے جارہے ہیں کراچی کا کچھ نہیں پتا یہ   صرف ربر  اسٹیمپ ہیں۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں شہر میں تجاوزات کے خلاف کیس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں بنچ نے کی۔ سماعت کے دوران کمشنر کراچی، ایس بی سی اے حکام اور دیگر اداروں کے افسران پیش ہوئے۔

کمشنر کراچی کی جانب سے ڈپٹی کمشنرز کی رپورٹ پیش کرنے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا  کہ آپ سے جو کام کرنے کو کہا تھا کیا ہوا؟ کیا سرکاری دفتر سمجھا ہے چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ  کمشنر کراچی ،ڈی جی ایس بی سی اےکوپتا نہیں بعدمیں کتنےنیب کیس بنیں گے کراچی کا کچھ نہیں پتا یہ   صرف ربر  اسٹیمپ ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہمارے لئے مشکلات پیدا کررہے ہیں تو لوگوں کے لئے کتنی مشکلات پیدا کرتے ہوں گے ہم نے میٹنگ کا کہا تھا کچھ نہیں کیا شہر کے لئے نہ کچھ کرنا چاہتے ہیں، کل کو میرے گھر پر کوئی پلان لا کر بنادے گا،  ہمارےسامنےاپنےون ونڈوآپریشن کی بات نہ کریں ہم جانتےہیں، سب رجسٹرار آفس ،ایس بی سی اےمیں سب سےزیادہ کمائی ہورہی ہے۔

ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ ایس بی سی اے متعلقہ اداروں کی اجازت کے بعد تعمیرات کی اجازت دیتاہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل صاحب ایسی باتیں کررہے ہیں جیسے کچھ معلوم ہی نہیں،کمشنر کراچی سے کہا کہ آپ کوشہرکاکچھ نہیں پتا علاقوں کی تاریخ کاکچھ پتاہے؟ اگر یہ مختیار کار فیروز آباد میں آگئے تو کراچی کراچی نہیں رہے گا وزیر اعلیٰ سندھ آئیں اور بتائیں یہ مختیار کار کیسے کام کررہے ہیں  ابھی تو ڈی ایچ اے کا مختیار کار آنے والا ہے۔