کیا پی ڈی ایم نے اپنا ہدف حاصل کر لیا؟

175

پاکستان میں پہلی مرتبہ نہیں ہو رہا کہ حکومت مخالف اتحاد وجود میں آیا ہو۔ کئی دہائیوں سے یہی سلسلہ ہے جو چلتا چلا آ رہا ہے۔ اگر دیانتدارانہ تجزیہ کیا جائے تو کبھی کوئی اتحاد اپنے بنیادی مقصد میں کبھی ناکام نہیں رہا۔ جتنے بھی سیاسی اتحاد اب تک وجود میں آئے انہوں نے اپنے اپنے اہداف لازماً پورے کیے۔ ایسے ہی اتحادوں کے نتیجے میں کبھی حکومتیں گریں اور کبھی حکومتیں نہیں بھی گریں تب بھی ان کی ساکھ پورے ملک میں بری طرح خراب ہوئی جس کا اثر آئندہ آنے والے دنوں اور خصوصاً الیکشن کے وقت ضرور دیکھنے میں آیا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان اور قادری صاحب کا اس وقت کی حکومت کے خلاف اتحاد اور پھر 126 دنوں کا دھرنا حکومت تو نہ گرا سکا لیکن یہ بھی نہیں کہ اپنے اہداف پورے کرنے میں مکمل ناکام رہا ہو۔ کئی ایسے قانونی سقم تھے جو عوام کے سامنے اجاگر کیے گئے جن کا علم اگر عام افراد کو تھا بھی تو اتنا واضح نہیں تھا جتنا طاہر القادری نے عوام کے سامنے واضح کیا۔ اس وقت کی مسلم لیگ ن کی حکومت سیاسی عدم استحکام کا شکار ہوئی اور ساتھ ہی ساتھ پی ٹی آئی کا تعارف عوام کے سامنے آتا چلا گیا، یوں پی ٹی آئی کو آنے والے ادوار میں سیاسی لحاظ سے بہت فائدہ ہوا یہاں تک کہ 2018 کے الیکشن نے اس کو کرسی اقتدار تک پہنچا دیا۔ پی ڈی ایم کی شکل میں بننے والا موجودہ اتحاد بظاہر اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام نظر آ تا ہے، لیکن تجزیہ کیا جائے تو جو جو اہداف پی ڈی ایم نے طے کیے تھے وہ تمام کے تمام پی ڈی ایم حاصل کر چکا ہے۔ حکومت کی بہت ساری کمزوریاں عوام کی سامنے اجاگر ہو جانا، بہت آرام کے ساتھ حکومت نہ کرنے دینا، اپنے ہی ارکان حکومت کو ایک دوسرے سے بد گمان کر دینا، کابینہ کے اندر شکوک و شبہات پیدا کر دینا، حکومت کو اپنے اہم اہداف سے بہت دور کر دینا اور اسی قسم کے بیسیوں شگاف حکومت کے دریاؤں کے تمام پشتوں میں ڈال دینا جیسے اہداف بہت حد تک پی ڈی ایم نے حاصل کر لیے ہیں جس کے نتیجے میں کابینہ میں تبدیلیاں اور اپنے ساتھیوں کے شیشہ ٔ دل میں بال ڈال دینا جیسے اہداف کے نتائج تیزی کے ساتھ سامنے آ رہے جو آخر کا موجودہ حکومت کی دیواریں کسی وقت بھی ڈھا کر رکھ سکتے ہیں۔
موجودہ حکومت کے وجود میں آنے سے پہلے دو عزائم ایسے تھے جن کا یقین بہت شدت کے ساتھ دلایا گیا تھا۔ ان میں ایک ہدف مہنگائی کا خاتمہ اور دوسرا بڑا ہدف کرپشن کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دینا تھا۔ کرپشن کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے جو سب سے بڑا نعرہ تھا وہ ’’میں این آر او نہیں دوں گا‘‘ کا تھا۔ اسی سلسلے میں موجودہ حکومت کا یہ کہنا تھا کہ وہ کسی بھی کرپٹ فرد سے نہ تو کوئی سمجھوتا کرے گی اور نہ ہی ان کو ان کے آخری انجام تک پہنچائے بغیر چین سے بیٹھی گی۔ عوام موجودہ حکومت سے نہ صرف ہر قسم کی آس لگائے بیٹھے تھے بلکہ ملک کی دولت لوٹ کر ملک سے باہر لیجانے والوں کو بہر لحاظ سولی پر لٹکا ہوا دیکھنا چاہتے تھے جس کے لیے وہ مہنگائی جیسی اذیت بھی سہنے کے لیے ذہنی طور پرتیار تھے۔
گزشتہ الیکشن، جس میں سینیٹرز کا چناؤ کیا گیا تھا اور خاص طور سے وفاق کے تحت ہونے والے سینیٹ کے الیکشن میں موجودہ حکومت کے 16 ارکان کا بازار مصر میں فروخت ہوجانا تھا، نہ صرف حکومت کے اس عزم کی نفی ثابت ہوا کہ وہ کرپشن کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دے گی بلکہ ساتھ ہی ساتھ کسی کو ’’این آر او‘‘ نہیں ملے گا کا مذاق ثابت ہوا۔ ایک تو حکومت کے 16 سے زیادہ ارکان کا بازار مصر میں فروخت ہونا ہی ایک بڑا سانحہ تھا لیکن اس سے بڑھ کر 16 ارکان کی حمایت کو دوبارہ قبول کر لینا پہلے سانحے سے بھی بڑھ کر سانحہ کہا جائے تو بات بے جا نہ ہوگی۔ 16 کرپٹ افراد کو گلے لگا لینے کا دوسرا مطلب اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ موجودہ حکومت میں نہ تو کرپٹ افراد کو اپنے آپ سے دور رکھنے میں کوئی صداقت ہے اور نہ ہی اس بات میں کوئی سچائی کہ کسی کو بھی ’’این آر او‘‘ نہیں دیا جائے گا۔ پی ڈی ایم کا سب سے بڑا کارنامہ ہی یہ ہوا کہ حکومت کے دو بڑے نعرے، ’’کرپشن کا خاتمہ اور کرپٹ افراد کو این آر او‘‘ نہیں ملے گا، کو عوام کے سامنے الم نشرح کر دینا ہے۔ اس کے علاوہ کئی اہداف ایسے ہیں جن کو نہات غیر محسوس طریقے سے حاصل بھی کر لیا گیا۔
ہر اتحاد کا ایک بڑا مقصد حکومتی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہوتا ہے اور بلا شبہ پی ڈی ایم نے حکومتی ساکھ کو نقصان پہنچایا جس کا ثبوت سات آٹھ ضمنی الیکشن کے نتائج ہیں جس میں پی ٹی آئی کو بری طرح ہزیمت کا سامنا رہا۔ یہی نہیں ہوا بلکہ پی ڈی ایم کی تمام جماعتوں نے اپنے اپنے حلقہ انتخاب میں اپنی اپنی مقبولیت کو استحکام بخشا جس میں پی پی پی، ن لیگ اور جے یو آئی قابل ذکر ہیں۔ جب سے پی ڈی ایم متحرک ہوئی، دیکھا گیا ہے کہ ادارے بھی حکومتی کمزوریوں کی وجہ سے اپنا پہلے جیسا اعتماد برقرار نہ رکھ سکے اور شاید یہی پی ڈی ایم کا وہ اصل ہدف تھا جس کو کافی حد تک حاصل کر لیا گیا ہے۔ بے شک تازہ ترین صورت حال پی ڈی ایم کے لیے بہت خوش کن نہیں اور پی ڈی ایم سے سیاسی گٹھ جور کرنے والی تمام جماعتیں ایک دوسرے کے ساتھ سخت کشیدگی کا شکار ہیں لیکن وہ حکومت کے اعتماد کی بنیاد میں بے اعتمادی اور بد گمانیوں کا ایک ایسا خلفشار برپا کرنے میں ضرور کامیاب ہو چکی ہے جس کے بعد حکومت گرانے کے لیے پی ڈی ایم کی صورت میں مزید اتحاد بنانے کی شاید ہی کوئی ضرورت باقی رہ گئی ہو۔