روس بھارت کو افغانستان میں امن کے لیے مثبت کردار پر آمادہ کرسکتا ہے، شاہ محمود

53

اسلام آباد (اسٹاف رپورٹر)وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے روس کے وزیر خارجہ سرگئی لیوروف کے دورہ پاکستان کے حوالے سے اپنے بیان میں کہاہے کہ ہمارے دو طرفہ تعلقات میں بہتری آ رہی ہے ،روسی وزیر خارجہ کے ساتھ دو طرفہ تجارت کے فروغ کے حوالے سے بات چیت ہو گی ،روس بھارت کو افغانستان میں قیام امن کیلیے مثبت کردار ادا کرنے پر آمادہ کر سکتا ہے۔ منگل کو انپے بیان میں انہوںنے کہاکہ یہ کسی روسی وزیر خارجہ کا نو سال کے بعد پاکستان کا دورہ ہے،اس بات سے کوئی اختلاف نہیں کر سکتا کہ روس اس خطے کا انتہائی اہم ملک ہے،یہ دورہ اس بات کی عکاسی کر رہا ہے کہ روس کے ساتھ ہمارے دو طرفہ تعلقات ایک نیا رخ اختیار کر رہے ہیں ،ہمارے دو طرفہ تعلقات میں بہتری آ رہی ہے ،ہم ایک دوسرے کے ساتھ خطے میں تعاون کا ارادہ رکھتے ہیں،ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے معاشی اور دفاعی تعلقات کیسے آگے بڑھ رہے ہیں ،نارتھ ساؤتھ گیس پائپ لائن منصوبے کو ہم دونوں آگے بڑھانا چاہتے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ ہمارے ہاں جب آٹے کا بحران پیدا ہوا تو روس نے ہمیں بروقت گندم فراہم کی تاکہ ہماری قیمتیں مستحکم رہیں،روسی وزیر خارجہ کے ساتھ دو طرفہ تجارت کے فروغ کے حوالے سے بات چیت ہو گی ۔ انہوںنے کہاکہ اسٹیل مل انہوں نے لگائی تھی اگر اس کی بحالی کیلیے سرمایہ کاری کی صورت نکل آئے یا کوئی اور سرمایہ کاری کی سبیل نکلتی ہے تو دو طرفہ تعاون بڑھانے کے اچھے مواقع ہمیں میسر آ سکتے ہیں ،پاکستان اور روس، مل کر افغان امن عمل میں کردار ادا کر رہے ہیں ،18 مارچ کو ماسکو میں ایک سہ فریقی اجلاس ہوا جس میں پاکستان نے شرکت کی ۔علاوہ ازیںروس کے وزیر خارجہ سرگئی لیوروف منگل کو وفد کے ساتھ پاکستان کے2 روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے۔وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے ائرپورٹ پر روسی ہم منصب کا پرتپاک خیر مقدم کیا۔روس میں تعینات پاکستانی سفیر شفقت علی خان اور وزارتِ خارجہ کے سینئر افسران بھی اس موقع پر وزیر خارجہ کے ساتھ تھے۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لیوروف بدھ کے روز وزارت خارجہ تشریف لائیں گے۔ وزارت خارجہ میں پاکستان اور روس کے مابین دو طرفہ وفود کی سطح پر مذاکرات ہوں گے۔وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی پاکستانی وفد جبکہ روسی وزیر خارجہ روسی وفد کی قیادت کریں گے۔ان مذاکرات میں کثیر الجہتی شعبہ جات میں دو طرفہ تعاون، اقتصادی روابط کے فروغ، اہم علاقائی و عالمی امور سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔روسی وزیر خارجہ، وزیر اعظم عمران خان و دیگر اعلی قیادت سے بھی ملاقاتیں کریں گے ۔