چین سے معاہدے کیخلاف ایرانی عوام سڑکوں پر

172
تہران: چین کے ساتھ 25 سالہ معاہدے کے خلاف شہری احتجاجی مظاہرہ کررہے ہیں

تہران (انٹرنیشنل ڈیسک) ایران میں چین کے ساتھ طے پائے طویل مدتی تزویراتی معاہدے کے خلاف عوام کا احتجاج سامنے آیا ہے۔ خبررساں اداروں کے مطابق اس تناظر میں دارالحکومت تہران میں پیر کی شام پارلیمان کی عمارت کے سامنے عوامی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین ایران اور چین کے درمیان حال ہی میں دستخط کیے جانے والے سمجھوتے کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ ان کا ماننا ہے کہ سمجھوتے میں خفیہ شقیں بھی شامل ہیں۔ سوشل میڈیا پر زیر گردش وڈیو کلپوں میں درجنوں شہریوں کو یہ مطالبہ کرتے دیکھا گیا کہ مذکورہ معاہدے کے مندرجات کو منظر عام پر لایا جائے۔ مظاہرین ’’ایران برائے فروخت نہیں‘‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹوں پر دعوت دی گئی تھی کہ اس سمجھوتے کے خلاف ایران کے مختلف صوبوں میں احتجاج کیا جائے۔ برز اور اصفہان میں بھی شہریوں نے گورنر کے دفتر کے سامنے جمع ہوکر سمجھوتے کے خلاف مظاہرہ کیا۔ تاہم تہران کے مظاہرے کو عوامی تحریک کا نقطہ آغاز قرار دیا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں مقیم ایرانی شہریوں نے چین کے قونصل خانے کے سامنے جمع ہوکر احتجاج کیا۔ یاد رہے کہ ہفتے کے روز تہران میں ایران اور چین کے درمیان 25 سالہ معاہدے کے نام سے تعاون کی ایک دستاویز پر دستخط کیے گئے تھے۔ اس حوالے سے امریکی صدر جوبائیڈن کا کہنا ہے کہ چین اور ایران کے درمیان بڑھتے تعلقات پر کئی سال سے پریشان ہوں۔ چین اور ایران کے درمیان بڑھتی قربتوں نے امریکی صدر کو پریشان کیا ہوا ہے۔ جو بائیڈن اس سے قبل بھی کئی بار چین سے کشیدہ تعلقات پر تشویش کا اظہار کرچکے ہیں، تاہم حالیہ معاہدے پر بات کرتے ہوئے پہلی بار امریکی صدر نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ائرپورٹ پر روانگی سے قبل صحافی کے سوال پر کہ کیا چین اور ایران کے درمیان معاہدے پر خدشات ہیں۔ امریکی صدر کے بیان کا جواب قومی سلامتی کی ایرانی سپریم کونسل کے سیکرٹری علی شمخانی نے اپنی ایک ٹوئٹ میں دیا ہے۔ شمخانی کا کہنا تھا کہ ایران اور چین کے درمیان تزویراتی شراکت داری کے سبب بائیڈن کی تشویش بجا ہے، کیوں کہ یہ سرگرم مزاحمتی پالیسی کا حصہ ہے۔ سمجھوتے کے مطابق چین کو ایران میں تیل اور گیس کی صنعتوں میں کھلی چھوٹ حاصل ہو گی۔ چین کو خصوصی رعایت کے ساتھ ایرانی تیل خریدنے کا بھی حق ہو گا۔ چین خریداری کے 2 سال بعد بھی ادائیگی کرسکے گا۔