کشمیر میں پاکستان کے نعرے ،میر واعظ دوبارہ نظر بند، مظاہرین پر تشدد ، متعدد زخمی

78

سری نگر/واشنگٹن(اے پی پی+صباح نیوز) بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموںوکشمیر میں بھارتی پولیس نے سری نگر میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہو گئے ۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق کشمیری نوجوانوں نے سری نگر کی تاریخی جامع مسجد کے باہر نماز جمعہ کے بعد آزادی کے حق میں اور بھارت کے خلاف مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے ہم آزادی چاہتے ہیں، جیوے جیوے پاکستان اور پاکستان زندہ باد کے فلک شگاف نعرے لگائے۔مظاہرین نے حریت فورم کے چیئرمین میر واعظ عمر فاروق کی تصویروں والے پوسٹر اٹھا رکھے تھے جنہیں قابض بھارتی انتظامیہ نے قریباً 20 ماہ گھر میں غیر قانونی طورپر نظر بند رکھنے کے بعد گزشتہ روز رہا کیا تھا ۔ میرواعظ کو جامع مسجد میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرنا تھا تاہم انتظامیہ نے رات کو انہیں پھر گھر میں نظر بند کر دیا۔ بھارتی پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے گولے داغے جس کی وجہ سے ایک صحافی سمیت متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ دوسری جانب واشنگٹن میں قائم تنظیم عالمی کشمیر آگاہی فورم کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر غلام نبی فائی نے نئی دہلی اور اسلام آباد کے مابین کنٹرول لائن پر جنگ بندی معاہدے کو بامعنی بنانے کے لیے 8 نکاتی فارمولا پیش کر دیا ہے ۔ ڈاکٹر غلام نبی فائی نے ایک مضمون میں نئی دہلی اور اسلام آباد کے مابین جنگ بندی پر اتفاق رائے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے کو بامعنی بنانے کے لیے بھارت کو اپنی ذمے داری پوری کرنی ہوگی،اس سلسلے میں بھارت مقبوضہ کشمیر میں تشدد کا خاتمہ کرے ، کشمیر یوں کے خلاف فوجی کارروائی بند کرے، جموں وکشمیر سے فوجی انخلا عمل میں لائے ، بنکرزاور رکاوٹیں ختم کی جائیں ، سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے ، کالے قوانین واپس لیے جائیں، مذاکراتی عمل کے حامی سیاسی رہنماوں کا حق سفر بحال کیا جائے ، بیرونی دنیا میں آباد کشمیری رہنمائوں کو کشمیر جانے کی اجازت دے تاکہ وہ قیام امن کے عمل میں مدد فراہم کر سکیں۔ غیر ملکی ایجنسی کے مطابق ڈاکٹر غلام نبی فائی نے ترکی کے وزیر خارجہ کی طرف سے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 46ویں اجلاس میں دیے گئے بیان کا خیر مقدم کیا ہے ۔