حریت رہنما میرواعظ عمرفاروق کو جلد رہا کیے جانے کا امکان

166

حریت فورم کے چیئرمین میرواعظ عمرفاروق کی جلد رہائی کا امکان ہے اور انہیں  خطبہ جمع کی اجازت بھی مل سکتی ہے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق میرواعظ عمر فاروق 20 ماہ سے سری نگرمیں اپنی رہائش گاہ میں نظربند ہیں۔ میر واعظ عمر فاروق کی جمعہ سے قبل نظربندی ختم ہوسکتی ہے۔

حریت رہنما کوکل سری نگرکی جامع مسجد میں خطبے کی اجازت بھی مل سکتی ہے۔ میرواعظ عمر فاروق کو4 اگست 2019 کو ان کی رہائش گاہ پرنظر بند کیا گیا تھا۔

بھارت نے 5 اگست کو راجیہ سبھا میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا بل پیش کرنے سے قبل ہی صدارتی حکم نامے کے ذریعے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی تھی اور ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر کو وفاق کے زیرِ انتظام دو حصوں یعنی (UNION TERRITORIES) میں تقسیم کردیا تھا جس کے تحت پہلا حصہ لداخ جبکہ دوسرا جموں اور کشمیر پر مشتمل ہوگا۔

راجیہ سبھا میں بل کے حق میں 125 جبکہ مخالفت میں 61 ووٹ آئے تھے۔ بھارت نے اب یہ دونوں بل لوک سبھا سے بھی بھاری اکثریت کے ساتھ منظور کرائے۔

بھارتی فوجیوں نے 2 درجن سے بھی زائد کشمیری حریت کارکنان کو سری نگر سے گرفتار کر کے بھارت کی دوسری ریاست اترپردیش کے آگرہ سینٹرل جیل میں منتقل کیا۔

بھارت نے اپنے کٹ پتلی رہنماؤں فاروق عبداللہ، عمرعبداللہ، محبوبہ مفتی اور سجاد لون کو بھی گرفتار کر رکھا ہے۔