دھندے میں ایسا ہی ہوتا ہے

228

وزیراعظم عمران خان سمجھتے ہیں کہ ان کے مقبرے پر عقیدت کے چراغ جلانے کے لیے پانچ سال کم ہیں۔ پہلے وہ سو دن کو بھی تبدیلی کے لیے بہت سمجھتے تھے تاہم اب ان کا خیال ہے ملک کا مستقبل پانچ سال کی پلاننگ سے نہیں بن سکتا۔ ان کے خیال میں فی الحال اقتدار کی مدت دس پندرہ سال ہونی چاہیے، بعد کی بعد میں دیکھی جائے گی۔ عمران خان کی حکومت کی خوبی یہ ہے کہ اس نے جس کے پاس جو تھا اس میں اضافہ کیا ہے۔ غریبوں سے غربت چھینی ہے اور نہ امیروں سے امارت، اضافہ ہی کیا ہے۔ اسی لیے اپنی مدت اقتدار میں بھی وہ اضافہ چاہتے ہیں۔ بے کاری، غربت، بیماری اور جہالت میں من چاہے اضافے کے لیے پانچ سال بھی کوئی مدت ہے۔ وزیراعظم کے دل کی یہ بات کسی چن ماہیے نے ان کے کان میں انڈیلی ہوگی اس یقین کے ساتھ کہ:

تیری راہوں میں کھڑے ہیں دل تھام کے

ووٹر ہیں دیوانے تیرے نام کے

ووٹروں کے تین درجے ہیں۔ نچلے، درمیانے اور اعلیٰ۔ نچلے اور درمیانے ووٹرز جو قومی اور صوبائی اسمبلی کے امیدوار چننے کے لیے ووٹ ڈالتے ہیں انہیں عوام کہا جاتا ہے وہ تقریروں، خوابوں، وعدوں، بریانی اور برگر کے چند ڈبوں سے بہل جاتے ہیں لیکن اعلیٰ درجے کے ووٹر جو سینیٹ کے الیکشن میں ووٹ ڈالتے ہیں وہ سودا بہت دیکھ بھال کر کرتے ہیں، حالات پر گہری نظر رکھتے ہیں اور ڈوبتی ہوئی کشتی سے چھلانگ لگانے میں دیر نہیں کرتے۔ عمران خان اور اصول دونوں ایک دوسرے کے ایسے دشمن ہیں کہ انہیں اس وقت تک ایک بستر پر نہیں سلایا جاسکتا جب تک عمران خان جاگ رہے ہوں۔ جب سینیٹ الیکشن کے سلسلے میں عمران خان کو اصولی باتیں کرتے دیکھا تو بڑی حیرت ہوئی۔ وجہ اس وقت سمجھ میں آئی جب ضمنی الیکشن میں عوام نے تحریک انصاف کے تینوں امیدواروں کو ووٹ نہ دے کر اپوزیشن کو مسترد کردیا۔ جب عوام حکومت کے ساتھ یہ کارروائی کرسکتے ہیں تو اراکین اسمبلی کیا نہیں کرسکتے۔ اسی لیے خان صاحب خفیہ رائے شماری کی مخالفت کررہے ہیں۔ چند ماہ پہلے جب پی ڈی ایم نے سنجرانی صاحب کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی تھی، خان صاحب کے اقتدار کی دھڑکنیں نارمل تھیں، ایک درجن سے زائد سینیٹر ان کے ہتھے چڑھ گئے تھے اس لیے کھلے عام رائے شماری کا انہیں خیال بھی نہیں آیا۔ خفیہ رائے شماری جس پر وہ آج کل روزانہ سیاہ حاشیے لگا رہے ہیں انہیں اس پالتو کتے کی طرح محسوس ہورہی تھی جو اپنی گلی میں شیر ہو۔ اب انہیں ڈر ہے کہ یہ شیر واپس کتا بن کر نہ صرف ان پر بھونکنا شروع کردے گا بلکہ کاٹ بھی سکتا ہے۔

دوسری طرف بھی یہی حال ہے۔ پی ڈی ایم والے جو کل تک خفیہ رائے شماری کے ڈسے ہوئے تھے اب انہیں خفیہ رائے شماری کے افق پر ستارے ہی ستارے چٹکتے نظر آرہے ہیں۔ وہ ستارے جو کل تک ان کے آنگن میں گر کر ٹوٹ جاتے تھے اب کسی کے اشارہ ابرو پر ان کی تقدیر کی خبر لا رہے ہیں۔ اپوزیشن کی یہی وہ خود اعتمادی ہے جس نے خان صاحب کو پریشان کررکھا ہے۔ پی ڈی ایم والے اب کھلی رائے شماری کے چاند کو دور سے بھی سلام کرنا گوارا نہیں کرتے۔ ہارس ٹریڈنگ اگر پی ڈی ایم کے خلاف ہو تو بری ہے لیکن اگر ان کے لیے سازگار ہو تو کیا کہنے۔ اصولوں کا جنازہ بڑی دھوم دھام سے نکالا جارہا ہے۔ دوستوں کی دلداری میں زرداری صاحب کا بڑا نام تھا

لیکن عمران خان اس شعبے میں بھی وہ کام کررہے ہیں جو زرداری تو کیا رستم سے بھی نہ ہو۔ غیر ملکی شہریت کو چھپانے کے لیے فیصل واوڈا نے دانستہ غلط بیانی کی تھی۔ قومی اسمبلی کے ایوان سے وہ کک آئوٹ ہونے ہی والے ہیں لیکن عمران خان کو یہ فرقت منظور نہیں وہ ان کے لیے سینیٹ کے دروازے کھول رہے ہیں۔ عمران خان بھی کیا کریں ان کے لوگ مینڈکوںکی طرح ترازو میں تل رہے ہیں دو کو پکڑو تو چار پھدک جاتے ہیں۔ پرویز خٹک بھی پس پردہ تو کیا کھل کر تڑیاں لگارہے ہیں۔ سینیٹ الیکشن کے موقع پر وہ کہیں تگ ودو کرتے نظر نہیں آرہے۔ جہانگیرترین اب وہ تریاق ہیں جو عراق میں بھی دستیاب نہیں۔ ایسے میں فیصل واوڈا کا دم غنیمت ہے۔ ان کے علاوہ کون ہے جو فوجی بوٹ میز پر رکھ کر تحریک انصاف کی ترجمانی کرسکے۔

پہلے عدالت عظمیٰ میں صدارتی ریفرنس، پھر پارلیمان پھر صدارتی آرڈی ننس سینیٹ میں اصولوں کی پاسداری کے لیے وزیراعظم اجتماعی سطح پر ہی نہیں انفرادی سطح پر بھی کوشاں ہیں۔ خیبر پختون خوا کے سینئر وزیر عاطف خان کو دو دیگر وزراء کے ہمراہ پارٹی کے خلاف سرگرمیوں کے الزام میں صوبائی کابینہ سے نکال دیا گیا تھا اب عاطف خان صوبے کے گورنر اور وزیراعلیٰ کے دوش بدوش نظر آتے ہیں۔ اس قربت کا سینیٹ الیکشن سے کوئی تعلق نہیں۔ دوستی اور آنکھ کی شرم اور پرانے تعلق کی بھی کوئی اہمیت ہوتی ہے یا نہیں۔ بعض دشمن اسے خان صاحب کی گھبراہٹ سے تعبیر کررہے ہیں کیونکہ خیبر پختون خوا میں 144ارکان کے ایوان میں پی ٹی آئی سو سے زائد نشستیں رکھتی ہے۔ بنی گالا سے لے کر سینیٹ الیکشن تک اعلیٰ عدلیہ بھی خان صاحب کے آئوٹ ہونے میں دیوار ہے۔ لیکن صاحبو آئن اسٹائن کے نظریہ کے مطابق ہی نہیں برے وقت میں بھی فاصلہ اور رفتار کے اعتبار سے طول وعرض کا تصور بدل جاتا ہے۔ عاطف خان وزیراعلیٰ بننے کے امیدوار ہیں لیکن پرویز خٹک کی مخالفت کی وجہ سے ایسا ممکن نہ ہوسکا تھا۔ اب پرویز خٹک خود مشتبہ اور منہ زور سے چل رہے ہیں۔ اب اقتدار کے عالم رنگ وبو میں رہنے کے لیے دوستوں کا بندوبست تو کرنا پڑتا ہے نا۔

موجودہ ہائبرڈ نظام کی خوبی یہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن جمہوریت کے بہروپ میں سب کے ہی کردار اور چہرے بے نقاب ہوگئے ہیں۔ سب ہی جانتے ہیں کہ سینیٹ الیکشن میں عظیم الشان منڈی لگتی ہے۔ کروڑوں روپے میں خود کو بیچ کر غربت کے ظالم شکنجے سے نکلا جاتا ہے۔ وڈیو لیک ہونے سے اس پر تصدیق کی مہر بھی ثبت ہوگئی۔

کروڑوں میں میرے بچے بھی کھیلیں

میری قسمت کے تارے جگمگادے

گرانی پوچھتی ہے نام مجھ سے

خدایا! مجھ کو سینیٹر بنادے

سوال یہ ہے کہ سینیٹ الیکشن میں ایسی کیا کشش ہے کہ سب دیوانے ہوئے جارہے ہیں۔ سینیٹر کی تنخواہ اور مراعات کی سپر کرپشن سے کوئی نسبت نہیں پھر بھی سب سینیٹر بننے کے لیے بائولے ہورہے ہیں۔ اربوں روپے ادھر ادھر ہورہے ہیں۔ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی طرح سینیٹ بھی قانون ساز ادارہ ہے جہاں ملک کے لیے قوانین پالیسیاں اور ضوابط بنائے جاتے ہیں۔ یہ کرپشن کی منڈیاں اور لونڈیاں اس وقت بنتی ہیں جب ملکی اور غیر ملکی استعمار کی ڈکٹیشن کو قومی مفاد کے نام پر قانون کا روپ دیتی ہیں اور اس کی قیمت وصول کرتی ہیں۔ کرپٹ سرمایہ داروں، جاگیرداروں، اے ٹی ایموں کے مفاد کو قوانین اور پالیسیوں کی شکل دیتی ہیں۔ یہ اسمبلیاں اور سینیٹ ہی تھیں جہاں حکومت اور اپوزیشن نے مل کر امریکی ہدایات پر 17ویں ترمیم سے لے کر انسداد دہشت گردی کے قوانین در قوانین منظور کیے تھے۔ ایف اے ٹی ایف کی ڈکٹیشن پر قوانین پاس کیے گئے۔ تیل بجلی گیس چینی ادویات تعلیم اور دیگر معاملات میں عوام کا خون نچوڑنے کے لیے قوانین اور پالیسیاں وضع کی گئیں۔ اور سب کچھ قانون کے نام پر۔ بحث کی اجازت بھی نہیں۔ جمہوریت کے دھندے میں ایسا ہی ہوتا ہے۔