بیٹری کیلئے لیتھیئم کی کمیابی، کیا نمک متبادل ہوسکتا ہے؟

387

وہ چیز جو خاموشی سے ہماری زندگی کو آسان ترین بنا دیتی ہے، وہ ہے بیٹری اور بیٹری کی تیاری میں لیتھیئم مادے کا اہم کردار ہے۔ ہمارے فون ، لیپ ٹاپ اور کاریں اسی پر انحصار کرتی ہیں۔ اس کے باوجود بیٹری کا حقیقی انقلاب ابھی باقی ہے، الیکٹرک گاڑیاں ہی لیجئے: 2019 میں دنیا کی سڑکوں پر برقی کاروں کی تعداد محض 7 ملین سے زیادہ تھی لیکن اس کی توقع ہے کہ 2030 تک اس میں 200 ملین تک اضافہ ہوجائے گا۔ اور پھر ونڈ ٹربائنز اور سولر پینلز کا انحصار بڑی بڑی بیٹریوں پر ہے جو ضرورت پڑنے پر بجلی کو ذخیرہ کرسکتے ہیں۔

اس تقاضے کو پورا کرنے کے لئے دنیا بھر کی کمپنیاں بیٹری فیکٹریوں کو چلا رہی ہیں لیکن بیٹری میں بہت زیادہ لیتھیئم کی ضرورت ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق زمانے میں ایک موڑ ایسا آسکتا ہے جہاں لیتھیئم بہت کم ہوجائے اور مہنگا ہوجائے جبکہ بیٹری ٹکنالوجی میں انقلاب لانے کیلئے یہ کلیدی جزو ہے۔

کیا ہوگا اگر ہم لیتھیئم کی جگہ عام چیز کا استعمال کرتے ہوئے بیٹریاں بناسکیں۔ محققین برسوں سے ایسی بیٹریوں پر کام کررہے ہیں جو لیتھیئم پر مبنی نہیں بلکہ اس کے قریبی کیمیائی کزن سوڈیم کلورائد یعنی عام نمک سے بنائی جارہی ہیں۔ یہ آسان نہیں ہے۔ لیکن آخر کار ہمارے پاس اس لیتھیئم کا جلد سے جلد سے متبادل تلاش کرنا بھی ضروری ہے اور یہ یقینی بنانا ہوگا کہ نمک سے تیار ہونے والی بیٹریاں ویسی ہی کارکردگی دکھائیں جیسے لیتھیئم سے بنی بیٹریاں کرتی آرہی ہیں۔