سمندر میں پھنسے بھوکے پیاسے روہنگیاؤں کو بچانے کی اپیل

48

نیویارک (انٹرنیشنل ڈیسک) اقوام متحدہ نے سمندر میں پھنسی روہنگیا پناہ گزینوں کی کشتی کو بچا نے اپیل کردی۔ مہاجرین سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے کا کہنا ہے کہ کشتی میں سوارسے لوگ بیمار ہیں، جب کہ بہت سے دم توڑ چکے ہیں۔ یو این ایچ سی آرکے ترجمان نے بتایا کہ خستہ حال کشتی میں سوار افراد بھوک اور پیاس سے نڈھال ہیں اور ان کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ مہاجرین کے مقام کے بارے میں صحیح معلومات نہیں مل سکیں، لہٰذا ہم نے متعلقہ سمندری علاقوں کے حکام کو متنبہ کر دیا ہے اور اپیل کی ہے کہ وہ جلد از جلد اس کشتی کو مدد پہنچائیں۔’ یہ کشتی بنگلا دیش کے کاکسس بازار اور ٹیکناف سے 10 روز قبل روانہ ہوئی تھی، لیکن اچانک اس کا انجن خراب ہوگیا، جس کے بعد سے وہ کھلے سمندر میں لہروں کے رحم کو کرم پر ہے۔ اقوام متحدہ کے حکام اس بات کی تصدیق نہیں کر سکے کہ کشتی میں کتنے افراد سوار ہیں۔ مہاجرین سے رابطہ ہونے پر انہوں نے بتایا کہ ان کا کھانے پینے کا سامان کئی روز پہلے ہی ختم ہوگیا تھا۔ دوسری جانب خبررساں ادارے رائٹر نے بھارتی کوسٹ گارڈ ز کے حوالے سے بتایا کہ کشتی کا پتاچل گیا ہے، تاہم اس میں سوار افراد کی حالات کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ اقوام متحدہ کے ترجمان کے مطابق مہاجرین اور تارکین وطن کا خطرناک سفر اب بھی جاری ہے اور ان کی فوری تلاش اور امداد کی اشد ضرورت ہے۔ واضح رہے کہ میانمر کی ریاست راکھین میں فوج نے اگست 2017ء میں بڑے پیمانے پر قتل و غارت گری کا بازار گرم کیا تھا،جس کے باعث وہاں سے 7 لاکھ 30 ہزار روہنگیا باشندے نقل مکانی کر کے ہمسایہ ملک بنگلادیش میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے تھے۔ لاکھوں مہاجرین آج بھی بنگلادیش میں میانمر کی سرحد کے قریبی علاقوں میں موجود کیمپوں میں انتہائی تکلیف دہ حالات میں مقیم ہیں۔