صارفین کے اعتماد میں اضافہ ہوا، سروے رپورٹ

87

 

پاکستان میں بحالی کے آثار دکھائی دے رہے ہیں۔نعمان لاکھانی

کراچی:

گیلپ پاکستان نے مشترکہ طور پر 2020 کی چوتھی سہ ماہی کیلئے پاکستان کے صارفین کے اعتمادکے اعشاریوں پر مبنی کنزیومرکانفیڈینس انڈیکس(CCI) اپنی ابتدائی رپورٹ جاری کردی ہے۔رپورٹ کے مطابق سال 2020کی تیسری سہ ماہی کے 88.7 پوائنٹس کے مقابلے میں چوتھی سہ ماہی میں صارفین کا اعتماد 1.8فیصد اضافے کے ساتھ 90.3 فیصد رہا۔ مجموعی اعتماد میں اضافے کی بنیادی وجہ پاکستانی عوام کی جانب سے موجوہ حالات میں بہتری کی توقعات ہیں جوکہ پچھلے 6 ماہ میں کورونا کی وجہ سے خراب رہی تھی۔ سی سی آئی رپورٹ مجموعی معاشی صورتِ حال پر صارفین کے اعتماد اوران کے ذاتی مالی حالات کو مدِ نظر رکھ کر تیار کی گئی ہے۔ سی سی آئی انڈیکس میں گھریلو مالی صورتِ حال، ملکی معاشی حالات، بے روزگاری اور گھریلو بچت جیسے چار کلیدی پیرامیٹرز کا احاطہ کیا گیا ہے۔انڈیکس میں گذشتہ 6 ماہ میں ہونے والی معاشی تبدیلیوں اور آئندہ 6ماہ میں ہونے والی متوقع معاشی تبدیلیوں کے بارے میں ملک بھر کے صارفین کی رائے کی عکاسی کی گئی ہے۔
سروے میں صارفین کے اعتماد کے اعشاریوں کی رینج صفر سے 200 پوائنٹس تک مقرر کی گئی تھی جبکہ 100پوائنٹس کو غیر جانبدارقرار دیا گیا تھا۔سروے میں 100پوائنٹس سے کم اسکور مایوسی کی نشاندہی کرتا ہے۔
اس موقع پر ڈن اینڈ بریڈ اسٹریٹ کے کنٹری منیجر نعمان لاکھانی نے کہا کہ سال 2020کے اختتام پر کنزیومیر کانفیڈنس انڈیکس کے چوتھے شمارے کا اجراءکردیا گیا ہے۔ رپورٹ میں تیسری اور چوتھی سہ ماہی میں صارفین کے اعتماد میں ہونے والی تبدیلیوں کا موازنہ کیا گیا ہے۔ گذشتہ سہ ماہی کے مقابلے میں چوتھی سہ ماہی میں صارفین کے اعتماد میں تقریباً15فیصداضافہ خوش آئند ہے۔ پاکستان میں بحالی کے آثار دکھائی دے رہے ہیں لیکن پھر بھی صارفین محتاط طور پر پر امید ہیں کیونکہ تیسری سہ ماہی کے مقابلے میں مستقبل کی توقعات میں 6.0فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ رپورٹ آنے والے سالوں میں ملک میں معاشی بہبود کا پیرا میٹر ثابت ہوگی۔
گیلپ پاکستان کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر بلال اعجاز گیلانی نے سروے رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ 2020 میں پاکستانی صارفین جن کے تاثرات ہم نے سی سی آئی رپورٹس میں جاننے کی کوشش کی ہے مستقبل کے بارے میں محتاط طور پر پرامید ہیں جس کی بنیادی وجہ گھریلو معاشی صورتِ حال میں ابتری اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری کے خدشات ہیں۔ہمیں یقین ہے کہ حقیقی چیلنج معیشت کو کرونا سے پہلے کے دور پر بحال کرنا نہیں بلکہ اصل چیلنج یہ ہے کہ معیشت کو تیزی رفتار ترقی کی طرف گامزن کیا جائے۔
سروے کے دوران گھریلو اور ملکی معاشی صورتِ حال اور بے روزگاری کے حوالے سے امید میں بہتری لیکن گھریلو بچت کی امید میں کمی واقع ہوئی ہے۔یہ بنیادی طور پر مستقبل میں گھریلو بچت کے بارے میں صارفین کے خدشات کا اظہار ہے۔ اس سے ملک میں اثاثوں سے متعلق سرمایہ کاری اور صارفین کے مجموعی اخراجات پر زبردست اثر پڑ سکتا ہے۔ 2020کی چاروں سہ ماہی میں ملکی معیشت کے حوالے سے مجموعی تاثرمیں بہتری آئی ہے جس نے رپورٹ میں صارفین کی حوصلہ افزائی کو اجاگر کیا ہے۔رپورٹ میں گھریلو مالیاتی صورتِ حال سب سے زیادہ پر امیدپیرامیٹر تھا جو ظاہر کرتا ہے کہ کووِڈ 19کی وجہ سے صارفین کی گھریلو آمدنی میں آنے والی کمی میں بہتری آئی ہے۔ چوتھی سہ ماہی کے دوران گھریلو مالیاتی پیرامیٹر واحد سی سی آئی پیرامیٹر تھا جو موجودہ صورتِ حال میں بہتری کی وجہ سے مجموعی طور پر مثبت رہا۔ پہلی، دوسری اور تیسری سہ ماہی کے بالترتیب32،28اور30فیصد صارفین کے مقابلے میں 33فیصد صارفین کا خیال ہے کہ اگلے 6ماہ کے دوران چوتھی سہ ماہی میں ان کی آمدنی میں بہتری آئے گی۔
اس کے برعکس بڑھتا ہوا افراطِ زر اور بے روزگاری صارفین کی امید کو کم کررہی ہے کیونکہ رپورٹ میں بے روزگاری سب سے مایوس کن پیرامیٹر رہا۔بے روزگاری میں مجموعی طور پر امید میں اضافے کے باوجود تیسری سہ ماہی کے 77فیصد صارفین کے مقابلے میں ہر4 میں سے 3 (73فیصد)صارفین کا خیال ہے کہ پچھلے چھ ماہ میں بے روزگاری میں اضافہ ہواہے۔تیسری سہ ماہی کے 91فیصد صارفین کے مقابلے میں چوتھی سہ ماہی کے 93فیصد صارفین کا خیال ہے کہ پچھلے چھ ماہ میں مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے۔ رائے دہندگان کے مطابق اگلے چھ ماہ میں بھی ملازمتیں کم ہوں گی اور ہر 5میں سے 3صارفین کے خیال میں ملک کی مجموعی معاشی صورتِ یکساں یا مزید خراب رہے گی۔
مجموعی طور پر تمام صوبوں (شہری اور دیہی)اور مختلف عمر کے صارفین سال 2020کی تیسری سہ ماہی کے مقابلے میں موجودہ اقتصادی صورتِ حال کے بارے میں زیادہ پر امید ہیں۔