پرویز رشید کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے جانے پر جواب طلب

132

الیکشن ٹریبونل نے سینیٹ الیکشن کے لیے ن لیگ کے پرویز رشید کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے جانے پر جواب طلب کرتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کردیے۔

لاہور ہائیکورٹ کے الیکشن ٹریبونل میں پرویز رشید کی جانب سے کاغذات نامزدگی مسترد کیے جانے پر اپیل کی سماعت ہوئی تو  درخواست گزار کے وکیل اعظم تارڑ نے موقف اپنایا کہ پرویزرشید نے واجبات ادا کرنے کی کوشش کی لیکن وصول نہیں کیے گئے۔

وکیل نے کہا کہ پرویزرشید کوپنجاب ہاؤس نےواجبات کیلئے فوٹوکاپی نوٹسزجاری کیے،سپریم کورٹ کے فیصلوں کےتحت یہ رقم کسی بھی وقت جمع کرائی جاسکتی ہےپرویزرشید 28 گھنٹے پیسے لےکر پھرتے رہے کسی نے رقم وصول نہیں کی۔

جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ پرویزرشیدنےجب پنجاب ہاؤس سےچیک آؤٹ کیاتب ہی یہ رقم جمع کرانی چاہیے تھی۔

پرویز رشید نے استدعا کی کہ پنجاب ہاؤس کی واجب الادا رقم جمع کرانے اور ریٹرننگ افسر کو درخواستگزار کے کاغذات نامزدگی منظور کرنےکاحکم دیاجائے۔

ٹریبونل نے  پرویز رشید کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے جانے پر جواب طلب کرتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کردیے۔

واضح رہے کہ پرویزرشید نے سینیٹ انتخابات کےلیے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کےخلاف اپیل دوبارہ دائرکی اور رجسٹرار آفس کا کاغذات نامزدگی کے ساتھ تصدیق شدہ دستاویزات لف نہ کرنے کا اعتراض بھی دور کیا۔

پرویزرشیدنے الیکشن کمیشن اور ریٹرنگ آفیسر کو فریق بناتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ریٹرنگ افسر نے غیر قانونی طور پر کاغذات نامزدگی مسترد کیے، اعتراض دور کرنے لیے تگ و دو کی پر اعتراض دور نہیں کیے گئے۔ الیکشن کمیشن کے اعتراض پر رقم جمع کرانے کےلیے تیار ہوں، ن لیگی رہنما نے الیکشن کمیشن سے استدعا کی کہ کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کا اقدام کالعدم قرار دیا جائے۔