کینسر سے کس طرح محفوظ رہیں؟ نئی تحقیق سامنے آگئی

120

دنیا میں کورونا وائرس کی وباء کو آئے ہوئے سال بیت چکا ہے۔ اب تک لاکھوں انسان اس وباء سے متاثر ہوچکے ہیں۔ کورونا کے سبب مختلف ممالک میں لاک ڈاؤن رہا، معملات زندگی بری طرح متاثر رہے، گھروں میں مقید ہونے اور جسمانی سرگرمیوں سے دور رہنے کی وجہ سے برطانیہ میں زیادہ تر لوگوں کے وزن میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ لوگوں کے مطابق وزن میں اضافے کا واضح سبب روغن اور تلی ہوئی خوراک کا استعمال ہے جسے عام طور پر جنک فوڈ کہا جاتا ہے۔

اس ضمن میں ماہرین صحت کی ایک نئی تحقیق کے مطابق موٹاپے کا شکار ہونے کی وجہ سے جسم  میں موجود ٹشوز کو نقصان پہنچتا ہے جس کی وجہ سے ٹیومرکی نشونما ممکن ہوجاتی ہے اور انسان رفتہ رفتہ موت سے قریب تر ہوجاتا ہے۔ ایڈن برگ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر بؤائلڈ کا کہنا ہے کہ  کینسر جیسے موذی مرض سے بچنے کے لیے اچھی خوراک اور ورزش کو معمول کا حصہ بنایا جائے جبکہ موٹاپہ کینسر کی کئی اقسام کی بنیاد ہے۔ دنیا بھر میں تمباکو نوشی کینسر کے پھیلاؤ کی دوسری بڑی وجہ ہے اور اس بات کا غالب ہے کہ عنقریب تمباکو نوشی دنیا میں کینسر کے پھیلاؤ کا واحد سبب بن جائے گی۔

یہ تحقیق اس لحاظ سے بھی اہمیت کی حامل ہے کہ دنیا میں گذشہ ایک دہائی میں  جگر کے کینسر میں نمایاں حد تک اضافہ ہوا ہے- آج بھی یومیہ 17 افراد جگر کےکینسر میں مبتلا ہوکر ہسپتال کا رخ کرتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بین الااقرامی سطح پر کینسر کی روک تھام کے لیے کوئی جامع پالیسی ترتیب دے کر اقدامات کیے جائیں تاکہ انسانیت اس موذی مرض سے محفوظ رہ سکے۔