استحکام خاندان میں خواتین کا کردار

59

ڈاکٹر بشری تسنیم
مرد و عورت کی بحیثیت انسان برابر ذمہ داری ہے مگر صنف کے لحاظ سے دونوں کی جدا ذمہ داریاں بھی ہیں ۔ایک ماں ہی اپنی بیٹی کو بہترین انداز میں تربیت کر سکتی ہے اور بیٹے کے مزاج کو مرد ہی سمجھ سکتا ہے بحیثیت بیوی ، بہو اور ماں کے ایک عورت لمحہ لمحہ اپنی بیٹی کے لیے مثال بن رہی ہوتی ہے ۔
استحکام خاندان میں ساس اور بہو کا چولی دامن کا ساتھ ہے ۔
خواتین جب بہو لانے کا سوچتی ہیں تو وہ لڑکی کی ماں کو پرکھتی ہیں ماں اگر سسرال والوں میں ہر دلعزیز ہےخدمت گزار ہے تو اس کی بیٹی لانے کے امکانات مضبوط ہوجاتے ہیں ۔
اچھی توقعات وابستہ کرنا احسن عمل ہے لیکن رشتہ طے کرنے اور عملا نبھانے میں مشرق مغرب کا فرق ہو سکتا ہے ۔بہو کے بارے میں امکانات کے سارے پہلو ذہن میں رکھنے چاہئیں۔ رشتہ وہیں ہوگا جہاں مقدر لکھا جا چکا ہے اب صرف امکانات اورتوقعات میں توازن رکھنا ہے۔ اور اس بات کو ذہن میں رکھنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بعض کو بعض کے لئے امتحان کا ذریعہ بنایا ہے
تاکہ وہ جانچے کہ دونوں میں سے کس میں صبر و برداشت کی صفت زیادہ ہے۔ اور اللہ تعالیٰ سب کے اعمال کو دیکھ رہا ہے ۔ (سورہ الفرقان )
بہت سی خواتین اس بات پہ حیران و پریشاں ہیں کہ ہم نے ایک سلجھی ہوئی باشعور ، خدمت گزار ماں کی تعلیم یافتہ، دین دار بیٹی کا انتخاب کیا مگر بہت مایوسی ہوئی ۔ بلکہ کچھ خواتین خود بھی اپنی تربیت یافتہ بیٹی کے سسرال کے ساتھ ناروا رویے پہ نالاں ہیں ۔۔ آئیے اس کی کھوج لگاتے ہیں کہ یہ کیا معمہ ہے جب کہ ساس کی طرف سے بھی زیادتی کا امکان نہیں ہوتا ۔
ہم سب جانتے ہیں کہ ہر کام کی نیت اسے انجام تک پہنچاتی ہے اورنیت وہ پوشیدہ عمل ہے جس کی حقیقت کوئی نہیں جانتا لیکن یہ وہ پانی ہے جس سے ہر عمل پروان چڑھتا ہے ۔ کیا کسی نے سوچا کہ ایک اچھی بہو کہلانے کے لئے اس نے تن من دھن لگایا مگر کس لئے؟ لوگوں سے تعریف سننے کے لیے، گھر کی دوسری بہوؤں کو نیچا دکھانے کے لئے یا اپنے آپ کو نمایاں کرنے کے لیے، کوئی لاکھ اپنے دل کو تسلیاں دیتارہے کہ ہم تو اللہ تعالیٰ کے لئے بھلائیاں کر رہے ہیں مگر نیتوں کے پوشیدہ بھید صرف اورصرف اللہ ہی جانتا ہے ۔
ساری ماؤں کو غور کرنا ہے کہ وہ لا شعوری طور پر نیکی کا کیا تصور اپنے عمل سے بیٹی کی شخصیت میں ڈال رہی ہیں؟ تحمل، صبر و ضبط کی کیا پہچان دے رہی ہیں؟ اور نیکی کرکے اسے محفوظ رکھنے کا کیا گر سکھا رہی ہیں ؟
بحیثیت ساس کے یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ رشتے کتنے ہی جذباتی کیوں نہ ہوں ان کی نوعیت ، وقت اور عمر کے ساتھ بدلتی جاتی ہے ۔ماوں کو اس حقیقت سے نظریں نہیں چرانی چاہئیں ۔
کیا دودھ پیتے بچے اور اسکول جاتے بچے کا ماں سے تعلق اور اس کی محبت کی نوعیت ایک جیسی ہوتی ہے؟ کیا نو عمری اور جوانی میں وقت اور تعلق داری کی تقسیم ایک جیسی رہتی ہے؟ کیا ایک وقت وہ نہیں آتا کہ بیٹے کو اپنے دوست دنیا کے ہر رشتے سے زیادہ پیارے ہوتے ہیں۔ اور ماں بیٹے کی محبت میں اس کے دوستوں پہ بھی واری صدقےجاتی ہے۔کیا تعلیم ، روزگار کے سلسلے بیٹوں کو دنوں ہفتوں بلکہ مہینوں سالوں الجھا کر نہیں رکھتے ؟جب ایک سمجھدار ماں اپنے آپ کو ان سب مراحل میں جذباتی ہوکر بیٹے کا مستقبل تباہ نہیں کرتی تو پھر سوچنا ہوگا کہ اگربڑے شوق اور محبت سے بیٹے کا گھر بسایا ہے تو اس کی ضروریات جو بیوی پوری کر سکتی ہے تو وہی کرے گی اور صنفی تقاضے بہت منہ زور ہوتے ہیں ۔ بیٹےکی شادی کر کے کچھ عرصہ اسے اپنی شریک حیات کے لئے مختص کر دینا چاہیے۔ بیٹا وہ ماں کا ہی ہے اور رہے گا۔ ۔ جب وہ اپنی نئ زندگی کے ہوش ربا حالات سے معمول کی طرف آئے گا تو اسے ماں کی اعلیٰ ظرفی پہ پیار آئے گا ۔۔ محبت کبھی زبردستی ، عزت نفس مجروح کرکے حاصل نہیں ہوتی ۔ جو خواتین بہو سے اور بہو ساس سے لامتناہی غیر فطری توقعات وابستہ کر لیتی ہیں وہ نا سمجھی کا ثبوت دیتی ہیں ۔ جب توقعات ٹوٹتی ہیں تو ہر شخصیت مسخ ہو جاتی ہے ۔ مسخ شدہ شخصیات سے خاندان میں استحکام کیسےلایا جا سکتا ہے ۔