کل کیا ہو؟‎‎

311

زینب کی شادی ہوئی تو سب ہی بہت خوش تھے۔کہ اس کی عمر بھی کم تھی تو اس کے شوہر بھی اس سے بس تین سے چار سال ہی بڑے تھے۔شادی کے بعد دونوں نے ایک دوسرے کے مزاج کو اچھی طرح سمجھ لیا تھا اور اب ان کی شادی شدہ زندگی خوش و خرم گزر رہی تھی ۔دس سال کہاں گزرے؟؟ پتا ہی نہ چلا تھا۔محسوس ہوتا تھا کہ آنکھ چھپکتے ہی گزر گئے ہیں۔کہ یک دم اس کے شوہر کو ہارٹ فیل ہوا اور وہ اس دنیا ۓ فانی سے رخصت ہوگئے۔جب اس کے شوہر کے انتقال کی خبر سنی تو لگا کہ ہاں “کل کس نے دیکھا”۔نہ جانے اس کے شوہر کو کتنے کام کرنے ہوں گے اگلے چند دنوں میں لیکن۔۔۔۔
راشد صاحب سعودی عرب ایک نجی کمپنی میں اکاؤنٹنٹ کے عہدے پر فائض تھے۔معقول آمدنی تھی۔اچھا خاصہ گزر بسر ہوجایا کرتا تھا۔لہذا وہ اپنے گھر والوں کے لیے بھی خریداری کے وقت اچھی ہی چیزوں کا انتخاب کیا کرتے تھے۔اور ایک بات اُن کے مزاج کا حصہ تھی کہ جو چیز انھیں پسند آجاتی وہ اسے ضرور ہی حاصل کیا کرتے۔چاہے اُس کے لیے انھیں اگلی تنخواہ کا انتظار کرنا پڑے۔یا کچھ وقت کے لیے کسی سے قرض لینا پڑے۔ایسے ہی ایک دن وہ ایکیا (ikea (گئے تو وہاں انھیں لائٹوں والی ڈریسنگ ٹیبل نظر آئی جو کہ انھوں نے اس سے پہلے کہیں نہیںدیکھی تھی۔اور قیمت میں بھی تھوڑی مہنگی تھی۔یعنی وہ اس وقت اسے خرید نہیں سکتے تھے کہ اتنے پیسے نہیں تھے اُن کے پاس۔
لہذا انھوں نے بچت کرنا شروع کی اور اگلے چار مہینوں بعد وہ اسے خرید چکے تھے۔
ابھی انھیں اس ڈریسنگ ٹیبل کو خریدے بمشکل دو ماہ ہی ہوئے تھے کہ ایک دن جب وہ دفتر پہنچے تو وہاں سے انھیں لیٹر ملا کہ جس میں لکھا تھا کہ کمپنی کی بدلتی خراب صورت حال کے باعث انھیں نکال دیا گیا ہے۔اور اگلے مہینے انھیں سعودی عرب سے ایگزٹ لینا ہوگا۔وہ اس لیٹر کو پکڑے ہوئے تھے اور بس اُن کی آنکھوں میں اس چاہ اور بچت کی کمائی سے خریدی ڈریسنگ ٹیبل سامنے آرہی تھی کہ جسے یا تو انھیں بیچنا تھا اب یا اتنی جلدی میں ایسے ہی چھوڑ کر جانا تھا اور وہ سوچ رہے تھے کہ ہاں “کل کس نے دیکھا”۔
فاطمہ یونیورسٹی سے گھر آئی تو پتا چلا کہ کچھ مہمان اسے دیکھنے آئے ہوئے ہیں۔اس نے ہلکی سی لپ اسٹک لگا کر اور کاٹن کا سوٹ زیب تن کر کے ان کے سامنے گئی۔تو ان لوگوں نے تو اسے دیکھتے ہی پسند کر لیا۔اور چٹ منگنی پٹ بیاہ کی ٹھانی-اب اس کے گھر والوں نے جلد ہی اس کا رشتہ طے کر دیا تھا۔ابھی بہ مشکل مہینہ بھر گزرا تھا تو اسی میں ایک ہفتہ کے دن اس کے سسرال والوں نے شادی کی بھی بات کر لی کہ اس کے دیور کو جہاز پر جانا تھا اور وہ اپنے بھائی کی شادی میں شرکت کرنا چاہتے تھے۔لہذا اگلے پندرہ دن بعد اس کی شادی تھی۔اب اس نے لاکھ گھر والوں کی منت سماجت کی کہ مجھے یونیورسٹی جانے دیں۔مجھے یہ نوٹس اپنی دوست کو دینے ہیں تو فلاں اسائنمٹ جمع کرانا ہے-تو میں CR بھی ہوں تو اس کی چیزیں بھی میرے پاس ہیں۔لیکن ان سب کاموں کے لیےکہہ دیا گیا کہ تمہاری کوئی دوست آکر لے جائے گی یا کوئی بھائی تمہاری ساری امانتیں سب افراد تک پہنچا دیں گے۔تم خاموشی سے اب گھر میں بیٹھ جاؤ۔اور وہ سوچ رہی تھی کہ ہاں واقعی “کل کس نے دیکھا”۔کہ ابھی تو اسے اپنی دوستوں کی پارٹیاں کرنی تھیں تو لائبریری میں سے مزید کتابیں پڑھنا تھیں-لیکن ناہید ویسے تو بڑی نماز روزے کی پابند تھی۔لیکن کبھی اسے حج کا خیال ہی نہ آیا تھا یا آیا بھی تھا تو یہ کہ ٹال مٹول کر جاتی کہ ابھی تو بہت وقت پڑا ہے۔کر ہی لے گی ۔آخر کو سعودی عرب میں ہی موجود ہے۔
اسی اثناء کی بات ہے کہ ایک دن حج کی اہمیت کے حوالے سے بیان سُن لیا۔اب تو اس نے پکا ارادہ کیا کہ وہ اسی سال حج کرے۔لیکن یہ کیا ۔۔۔اس سال تو کرونا آگیا اور اس نے حج کے لیے اپلائی بھی کیا ۔لیکن اس کا نام نہ آسکا ۔کہ بہت ہی کم اور مخصوص افراد کو اس سال حج کرایا جارہا تھا ۔اور وہ پھر سوچ رہی تھی۔کہ ہاں واقعی نیک کام کو تو فوراً ہی کر لینا چاہیے کہ “کل کس نے دیکھا۔
اور یہ سارے واقعات پڑھ کر ذہن میں یہ حدیث آرہی تھی کہ پانچ چیزوں کو پانچ سے پہلے غنیمت شمار کرو۔اپنی جوانی کو بڑھاپے سے پہلے۔اپنی صحت کو بیماری سے پہلے۔اپنی مال داری کو تنگ دستی سے پہلے۔اپنی فراغت کو مشغولیت سے پہلے ۔اپنی زندگی کو موت سے پہلے۔
کہ ہاں جو بھی اچھے کام کر سکتے ہوں وہ کر گزریں ۔چاہے وہ کسی کو معاف کرنا ہو یا کسی بھی حوالے سے کوئی بھی اچھا کام۔کہ ہاں “کل کس نے دیکھا۔