حیا ایمان ہے‬

275

امی بھائی کے ساتھ بازار جا رہی ہوں۔۔۔ اچھا باہر جانے سے پہلے اس کا اسکارف ضرورپہن لینا نازیہ کی امی اسے یاد دہانی کرانا نہیں بولتی تھی جب بھی نازیہ باہر جاتی تو وہ عبایا اسکارف لینے کو کہتی تھی۔
امی کیا ہے جب بھی باہر جاتی ہوں آپ مجھے اسکارف عبایا اوڑھنے کو کہتی ہیں بھائی کو تو کچھ نہیں لینے کو کہتی ہو ۔۔نادیہ بیٹی حجاب ہماری پہچان ہے بیٹی جو چیز جتنی قیمتی ہوتی ہے اسے اتنا ہی ڈھانپ کررکھا جاتا ہے تاکہ یہ گردوغبار سے خراب نہ ہو اسطرح اللہ نے عورت کے پردے کو زیادہ اہمیت دی ہے کیونکہ عورت کے دم سے ہی معاشرہ پھلتا پھولتا ہے ایک با حیا پردے دار عورت سے ہی نسلیں سنور جاتی ہیں اور بے حیا بے پردہ عورت سے نسلیں بگڑ جاتی ہیں حجاب عورت کو پاکیزگی فراہم کرتا ہے چاہے ذہنی یا جسمانی ہمیں ہر طریقے سے تحفظ کا احساس فراہم کرتا ہے پردے کو کبھی اپنے لیے بوجھ مت سمجھنا اللہ اور اس کے رسول کا حکم سمجھ کر عمل کرو گی تو دنیا آخرت دونوں میں سرخرو ہو جاؤ گی ۔
امی دراصل میرے ساتھ کی کالج کی لڑکیاں نت نئے فیشن کرکے آتی ہیں تو میرا دل بھی چاہتا ہے کہ میں بھی ان کی طرح سج سنور کرآئوں اس لیےبعض اوقات اس طرح کا وسوسہ آجاتا ہے ۔ہاں بیٹی مجھے معلوم ہے ہمارا معاشرہ بے حیائی کی دلدل میں دھنستا جا رہا ہے جس میں سوشل میڈیا بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے لیکن بیٹی ایک حدیث میں ہے کہ ;قرب قیامت دین کے احکامات پر عمل کرنا ایسے ہوگا جیسے جلتا ہوا انگارہ ہاتھ میں لے لیا ہو ۔۔آج ہمارے لیے باپردہ ہونا ایک مشکل کام ہو گیا ہے مخلوط تقریبات کا انعقاد ایک عام سی بات ہوگئی ہے برائی کرنا آسان ہے بھلائی کرنا مشکل ہو گیا ہے لیکن بیٹی ہو ہمیں اپنی ناجائزخواہشات کے پیچھے نہیں چلنا بلکہ دین کے احکامات کے مطابق زندگی گزارنے کی کوشش کرنی ہے یہ دو دن کی زندگی ہے اپنے رب کو راضی کرنے میں لگانی چاہیے کبھی ہم جنت کے طلبگار بن سکتے ہیں ۔
حدیث ہے کہ
جنت کو اللہ نے مشکلات تکالیف و آزمائش میں ڈھانپ دیا ہے
اس لیے جنت کے حصول کے لیے ہمیں یہ تمام مشکلات برداشت کرنی ہوںگی ۔۔۔سمجھی بیٹی امی نے نازیہ کی طرف مسکراتے ہوئے دیکھا
جی امی زندگی کا اصل مقصد اللہ کی رضا ہے
اور اپنی خواہشات کی قربانی ہے نا۔۔۔
شاباش جیتی رہو میری بیٹی تم تو بہت سمجھدار ہو گئی ہو۔۔چلو اب جاؤ عبایا اسکارف لے کر بھائی انتظار کر رہا ہوگا۔جی امی اب میں یہ آپ کا نہیں بلکہ اللہ اور اس کے رسول کا حکم سمجھ کر پہنوںگی۔ نازیہ نے مسکراتے ہوئے کہا