‘کوئی دھمکی ، بلیک میلنگ احتساب کے عمل میں رکاؤٹ نہیں بن سکتی’

102

چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ کسی سرمایہ کارسےآج تک یہ نہیں پوچھا،آپ سرمایہ کہاں سےلائے؟ ایک صورت میں ضرورپوچھااگرآپ نےمنی لانڈرنگ کی ،پورےملک میں کہیں نظرنہیں آیاکہ اربوں ڈالرکہاں خرچ ہوئے۔

اسلام آباد میں ایوان صنعت وتجارت میں تقریب سے خطات کرتے ہوئے چیئرمین نیب نے کہا کہ ہمارے ایک ہاتھ میں کشکول ہے،اربوں ڈالرزکے مقروض ہیں تاجروں کی شکایت کا ازالہ کیا جائے گا، اصلی کاروباری فرد اورڈکیت میں فرق ہوتا ہے وہ لوگ جنہیں آپ ہاتھ تک نہیں لگاسکتے تھے ان کوبھی نیب میں بلوایا۔

انہوں نے کہا کہ چیئرمین نیب کا عہدہ عوام کی خدمت کے لیے ہے، تاجروں کےمفادات کا خیال رکھنا اولین ترجیح ہے بزنس کمیونٹی کے مفادات کا تحفظ ہورہا ہے اور معیشت میں بہتری آرہی ہےامن امان کی صورت حال پہلے سے بہترہے،کریڈٹ افواج پاکستان کوجاتا ہے۔

چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ حکومت اورریاست پاکستان میں واضح فرق ہے، حکومتیں آتی اورجاتی رہتی ہیں،ریاست ہمیشہ قائم رہےگی پورےملک میں کہیں نظرنہیں آیاکہ اربوں ڈالرکہاں خرچ ہوئے، کہ کسی سرمایہ کارسےآج تک یہ نہیں پوچھا،آپ سرمایہ کہاں سےلائے؟ ایک صورت میں ضرورپوچھااگرآپ نےمنی لانڈرنگ کی۔

انہوں نے کہا کہ بتایا گیا ہےکہ 10 سے 15 ارب روپے کی گندم چوہے کھاگئےنیب بھی جوابدہ ہے ہم جواب نہیں دیتے خاموش ہیں اگرنیب نے  غلط ریفرنس دائرکیا ہے توعدالت میں چلے جائیں کوئی دھمکی،بلیک میلنگ راستے کی رکاوٹ نہیں بن سکتی،مذموم پروپیگنڈے کی وجہ سےنیب کٹہرے میں کھڑا ہوگیا ہے۔