‘براڈشیٹ سے متعلق وزیراعظم نے سفارشات مانگی ہیں جو پبلک کی جائیں گی’

122

مشیر داخلہ و احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ وزیراعظم کی ہدایت پر ہم نے براڈ شیٹ کے وکلا سے اپنے وکلا کے ذریعے رابطہ کیا ،  براڈ شیٹ کے وکلا سے تحریری طور پر وہ فیصلے پبلک کرنے کی اجازت لی جو پہلے پبلک نہیں تھی اب 48 گھنٹوں میں وزیراعظم نے سفارشات مانگی ہیں وہ بھی پبلک کی جائیں گی۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شہزاد اکبر نے کہا کہ 20 مئی 2008 میں براڈشیٹ کیساتھ سیٹلمنٹ ہوئی،1.5 ملین ڈالرز کی ادائیگی ہوئی، دسمبر 2000 میں نوازشریف ڈیل کرکے سعودی عرب چلے گئے تھے جب کہ 28 اکتوبر2003 میں نیب نے براڈشیٹ کے ساتھ معاہدہ منسوخ کیا اور  جولائی 2019 میں ہائیکورٹ میں اپیل کی تھی اس کا فیصلہ براڈشیٹ کے حق میں آیا۔

انہوں نے کہا کہ براڈ شیٹ کے معاملے پر ملک میں بڑی بحث ہو رہی ہے کہ وزیراعظم کی ہدایت پر ہم نے براڈ شیٹ کے وکلا سے اپنے وکلا کے ذریعے رابطہ کیا ،  براڈ شیٹ کے وکلا سے تحریری طور پر وہ فیصلے پبلک کرنے کی اجازت لی جو پہلے پبلک نہیں تھی اب 48 گھنٹوں میں وزیراعظم نے سفارشات مانگی ہیں وہ بھی پبلک کی جائیں گی۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ ایک چیز واضح ہوتی ہے کہ ماضی کی ڈیلز اور این آر او کا خمیازہ آپ کو بھرنا پڑ رہا ہے، براڈشیٹ کو ادائیگی ٹیکس دہندگان کی رقم سے ہوئی،احتساب کے لیے سب سے زیادہ ضروری شفافیت ہے ہمیں اپنے اداروں پربھی اعتماد کرنا چاہیے، براڈ شیٹ کے معاہدے میں منصورالحق کانام نہیں ہے ہمارا موقف تھا کہ ریکوری نہیں ہوئیں،برطانوی عدالت نے کہا کہ آپ براڈ شیٹ کو ادائیگی کریں اس فیصلے کے مطابق ان کی چوری کا تخمینہ 16 ارب روپے لگایا گیا۔