امریکہ کی ہجومی اور لنگڑی جمہوریت کا تماشا – شاہنواز فاروقی

150

امریکہ کو جمہوریت کی جنت سمجھا جاتا ہے، مگر امریکہ کے صدارتی انتخابات کے نتائج اور ڈونلڈ ٹرمپ کے رویّے نے امریکہ کو جمہوریت کا جہنم بن دیا۔ اطلاعات کے مطابق ہزاروں افراد امریکہ کے پارلیمان کیپٹل ہل پر چڑھ دوڑے، جس سے 4 افراد ہلاک اور 60 سے زیادہ زخمی ہوگئے۔ زخمی ہونے والوں میں ایک درجن سے زیادہ پولیس والے بھی شامل ہیں۔ کیپٹل ہل پر حملہ کرنے والوں نے کھڑکیوں کے شیشے توڑ دیے۔ انہوں نے منتخب ایوان کے مختلف مقامات پر قبضہ کرلیا۔ انہوں نے لوٹ مار کی اور سیلفیاں بنائیں۔ ایک صاحب ایوانِ نمائندگان کی اسپیکر نینسی پلوسی کی میز پر جوتوں سمیت پائوں رکھ کربیٹھ گئے۔ امریکہ ’’فرسٹ ورلڈ‘‘ کا رہنما ہے، مگر امریکہ کی جمہوریت ’’تھرڈ ورلڈ‘‘ کی جمہوریت کا منظر پیش کررہی ہے۔ اس سلسلے میں روزنامہ ’دنیا‘ کی خبر پر نظر ڈال لینا کافی ہے:

’’امریکی صدر ٹرمپ کے حامیوں نے بغاوت کردی۔ خانہ جنگی شروع۔ امریکی کانگریس پر قبضہ۔ پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کے دوران ٹرمپ کے حامی سیکورٹی حصار توڑ کر ایوان میں جا گھسے۔ پولیس نے ایوان پر دھاوا بولنے والوں کو منتشر کرنے کے لیے فائرنگ کردی۔ صورتِ حال قابو سے باہر ہونے پر فوج طلب کرلی گئی۔ واشنگٹن ڈی سی میں کرفیو نافذکردیا گیا۔ امریکہ کے نومنتخب صدر جوبائیڈن کی الیکٹورل کالج میں فتح کی توثیق کے لیے کانگریس کے دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس جاری تھا کہ ٹرمپ کے حامی سیکورٹی حصار توڑ کر ایوان میں جا گھسے۔ امریکہ کے نائب صدر مائک پنس اور کئی منتخب نمائندوں نے بھاگ کر اپنی جان بچائی۔ پارلیمنٹ کا اجلاس ملتوی کرکے عمارت خالی کرائی گئی۔ پارلیمان کے گرائونڈ فلور سے دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے واشنگٹن میں مختلف مقامات پر پائپ بموں کی اطلاعات پر کارروائی شروع کردی۔ امریکی پارلیمان کی تاریخ میں 159 سال بعد مظاہرین پارلیمان میں گھسے ہیں۔ اس موقع پر جوبائیڈن نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’آج کا دن ہماری تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے‘‘۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ٹویٹ میں مظاہرین سے کہا کہ وہ اب اپنے گھروں کو واپس چلے جائیں۔‘‘ (روزنامہ ’دنیا‘ کراچی۔ 7 جنوری 2020ء)۔

یہ امریکہ کی جمہوریت کی مکمل ناکامی کا منظرنامہ ہے۔ جمہوریت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ’’ہجوم‘‘ کو ’’قوم‘‘ بناتی ہے، مگر امریکہ کی جمہوریت ہجومی ثابت ہوئی ہے۔ اس بات کی دو سطحیں ہیں۔ امریکہ کے صدارتی انتخابات ’’چوری‘‘ ہوئے ہوں یا نہ ہوئے ہوں، لیکن ان کے بارے میں یہ بات طے ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو بہت کم ووٹ نہیں ملے ہیں۔ جوبائیڈن کامیاب قرار پائے ہیں اور انہیں 8 کروڑ 12 لاکھ ووٹ ملے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ ناکام ہوگئے ہیں مگر انہیں 7 کروڑ 40 لاکھ ووٹ ملے ہیں۔ یہ صورتِ حال بتا رہی ہے کہ امریکہ منقسم ہے، اور تقسیم کی نفسیات ہجوم کی نفیسات ہے، قوم کی نفسیات نہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ہجوم کو متحرک کرکے اپنی شکست کو فتح میں بدلنے کی کوشش کی۔ امریکہ کی جمہوریت کی ایک ناکامی یہ ہے کہ وہ ’’لنگڑی‘‘ ثابت ہوئی ہے۔ یہ ہماری وضع کردہ اصطلاح نہیں۔ یہ تبصرہ روس سے آیا ہے۔ روس کے ایوانِ بالا کی خارجہ کمیٹی کے سربراہ کونسٹنٹائن کوساچیف نے امریکہ کے سیاسی منظرنامے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی جمہوریت نہ صرف یہ کہ لنگڑی ہے بلکہ اس کی ایک نہیں دونوں ٹانگیں خراب ہیں، چنانچہ وہ بری طرح لنگڑا رہی ہے۔ امریکی جمہوریت کی لنگڑاہٹ کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ امریکہ کے اتحادیوں برطانیہ اور جرمنی کے رہنمائوں تک نے امریکہ کے سیاسی منظرنامے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن نے امریکی کانگریس میں نظر آنے والے مناظر کو “Disgraceful” قرار دیا ہے۔ جرمنی کی چانسلر انجیلا مرکل نے کہا کہ جمہوریت میں کچھ لوگ کامیاب ہوتے ہیں اور کچھ ناکام، مگر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ناکامی کو قبول نہیں کیا، جس کی وجہ سے امریکہ میں ’’پُرتشدد واقعات‘‘ رونما ہوئے۔

امریکہ کی جمہوریت کی ناکامی کا ایک پہلو یہ ہے کہ امریکہ ڈیڑھ سو سال سے پوری دنیا میں ’’درسِ جمہوریت‘‘ دیتا پھرتا ہے، مگر خود امریکہ کے واقعات سے ثابت ہوا کہ امریکہ تک میں جمہوریت کی جڑیں مضبوط نہیں، اور امریکہ جمہوریت کی نہیں، ’’ہجومی‘‘ اور ’’لنگڑی‘‘ جمہوریت کی علامت ہے۔ اس سلسلے میں امریکہ کی عالمی پوزیشن کتنی خراب ہوئی ہے اس کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ زمبابوے جیسے ملک کے صدر نے امریکہ کو یاد دلایا ہے کہ تم خود جمہوری نہیں ہو۔ زمبابوے کے صدر ایمرسن مینگاگوا نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکہ نے گزشتہ سال زمبابوے پر یہ کہہ کر اقتصادی پابندیاں لگائی تھیں کہ زمبابوے میں جمہوریت کی صورت حال بہتر نہیں، لیکن زمبابوے کے صدر نے کہا کہ امریکہ کے واقعات سے ثابت ہوگیا کہ امریکہ کو جمہوریت کے حوالے سے کسی ملک کو درس دینے کا کوئی ’’اخلاقی حق‘‘ حاصل نہیں۔ کہاں امریکہ اور کہاں زمباوے؟ امریکہ میں اگر شرم ہو تو وہ زمبابوے کے صدر کے بیان پر چلو بھر پانی میں ڈوب مرے۔

امریکہ کی جمہوریت کی ناکامی کا ایک مظہر یہ ہے کہ جمہوریت مکالمے کا نام ہے، مگر امریکی جمہوریت جوبائیڈن اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان کوئی مکالمہ برپا کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔ امریکہ کے صدارتی انتخابات کے نتائج کے بعد سے اب تک جوبائیڈن بھی ’’خودکلامی‘‘ فرما رہے ہیں اور ڈونلڈ ٹرمپ بھی خودکلامی میں مصروف ہیں۔

امریکی جمہوریت کی ناکامی کا ایک ثبوت یہ ہے کہ جمہوریت ’’سیاسی حریف‘‘ پیدا کرتی ہے، ’’سیاسی دشمن‘‘ نہیں۔ مگر امریکہ کی جمہوریت نے جوبائیڈن اور ڈونلڈ ٹرمپ کو ’’سیاسی دشمنوں‘‘ کی حیثیت سے ابھارا ہے۔ ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ 1990ء کی دہائی میں پاکستان کی جمہوریت میاں نوازشریف اور بے نظیر بھٹو کو سیاسی دشمنوں کی طرح پیش کررہی تھی۔ دونوں ایک دوسرے کا منہ دیکھنے کے روادار نہیں تھے۔ مگر پاکستانی جمہوریت تو جمہوریت کی پیروڈی ہے، لیکن امریکہ تو پوری دنیا میں جمہوریت کا چیمپئن ہے۔ تاہم امریکی جمہوریت نے جوبائیڈن اور ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک دوسرے کا ’’سیاسی دشمن‘‘ بنا کر کھڑا کیا ہوا ہے۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ امریکی جمہوریت کی نبض کس حد تک ڈوبی ہوئی ہے۔

امریکی خود کو دنیا کی ذہین ترین قوم سمجھتے ہیں۔ سی آئی اے اور ایف بی آئی اُڑتی چڑیا کے پَر بھی گن لیتی ہیں، مگر کیپٹل ہل کے واقعات سے ثابت ہوتا ہے کہ امریکی دنیا کے گھامڑ ترین لوگ ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ پہلے دن سے انتخابی نتائج کو تسلیم نہیں کررہے تھے۔ وہ عوامی جذبات کو ابھار رہے تھے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ الیکشن چوری ہوا ہے اور ہم حریفوں سے الیکشن واپس لے کر رہیں گے۔ یہ صورتِ حال بتا رہی تھی کہ ڈونلڈ ٹرمپ کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ مگر کیپٹل ہل پر حملے کے امکان کو کسی نے سنجیدگی سے نہیں لیا۔ یہ امریکی سی آئی اے اور ایف بی آئی ہی کی نہیں، پورے امریکی نظام کی ناکامی ہے۔ یہ ناکامی اس لیے بہت مہنگی ہے کہ امریکہ پوری دنیا میں بدنام ہوکر رہ گیا ہے۔ ہر جگہ اس کا مذاق اڑایا جارہا ہے۔ کہنے والوں نے تو یہ تک کہہ دیا ہے کہ افغانستان اور عراق کو امریکہ میں فوجی مداخلت کرنی چاہیے اور امریکیوں کو بتانا چاہیے کہ جمہوریت کیا ہے؟ ظاہر ہے کہ اگر امریکہ جاپان، عراق اور افغانستان میں مداخلت کرکے انہیں جمہوریت سکھا سکتا ہے، تو عراق اور افغانستان بھی اس بات کا حق رکھتے ہیں کہ وہ امریکہ میں مداخلت کرکے امریکیوں کو جمہوریت سکھائیں۔

تیسری دنیا کے ملکوں کی تاریخ یہ ہے کہ جب سیاسی محاذ آرائی عروج پر پہنچ جاتی ہے اور سیاسی رہنما سیاسی مسائل کا حل نہیں نکال پاتے تو وہ فوج کو مداخلت کے لیے کہتے ہیں۔ اس تناظر میں یہ بھی امریکی جمہوریت کی ناکامی کا ایک منظر ہے کہ جب سول انتظامیہ کیپٹل ہل پر حملہ کرنے والوں کا کچھ نہ بگاڑ سکی تو امریکہ کے ایوانِ نمائندگان کی اسپیکر نینسی پلوسی نے فوج کو مدد کے لیے پکارا۔ یہ تو اچھا ہوا کہ فوج نے نینسی پلوسی کی بات پر کان نہ دھرے، مگر اس صورتِ حال کو دیکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ اگر امریکہ کو صرف ایک اور ڈونلڈ ٹرمپ فراہم ہوگیا تو امریکہ میں مارشل لا لگنا طے ہے۔

سوال یہ ہے کہ امریکی جمہوریت کو ہونے والے شدید نقصان کے ازالے کی کوئی صورت ہے یا نہیں؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ امریکی جمہوریت کے نقصان کے ازالے کی ایک ہی صورت ہے، اور وہ یہ کہ دونلڈ ٹرمپ کا مواخذہ کرکے انہیں ہٹایا جائے۔ ان کے اقتدار سے ہٹنے میں اب صرف چند دن رہ گئے ہیں، چنانچہ ان کا مواخذہ امریکی معاشرے کے لیے زیادہ ’’مہنگا‘‘ ثابت نہیں ہوگا۔ اس سلسلے میں کئی جانب سے آوازیں اٹھ چکی ہیں۔ خود امریکی ایوانِ نمائندگان کی اسپیکر نینسی پلوسی نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا مواخذہ ہونا چاہیے۔ امریکہ کے کئی منتخب نمائندوں نے 25 ویں آئینی ترمیم کو آواز دی ہے اور تجویز دی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو منصب سے برطرفی کے عمل سے گزارا جائے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ میں غیرمقبول نہیں ہیں۔ وہ انتخابات ہارنے کے باوجود بھی امریکہ میں مقبول ہیں۔ انہوں نے انتخابات میں 7 کروڑ 40 لاکھ ووٹ حاصل کیے ہیں۔ چنانچہ ان کا مواخذہ امریکی معاشرے کی تقسیم کو خطرناک حد تک گہرا کرسکتا ہے۔

دیکھا جائے تو امریکہ کا سیاسی نظام اِس وقت ایک بحران میں مبتلا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی جمہوریت کو جو نقصان پہنچایا ہے وہ معمولی نہیں ہے۔ واقعات صرف واقعات نہیں ہوتے، وہ تاریخ بن کر افراد اور قوموں کا تعاقب کرتے ہیں۔ چنانچہ کیپٹل ہل پر حملہ بھی امریکی قوم کا خاصی دیر تک تعاقب کرے گا۔ بدقسمتی سے اس سلسلے میں ساری توجہ ڈونلڈ ٹرمپ پر صرف ہورہی ہے۔ مگر مسئلہ صرف ڈونلڈ ٹرمپ کا نہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکہ کا صدر بنانے والی جمہوریت خود بھی اس صورتِ حال کی ذمہ دار ہے۔ اقبال نے کہا تھا ؎۔

جمہوریت اک طرزِ حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے

اقبال کہہ رہے ہیں کہ مغربی جمہوریت ’’مقداری‘‘ ہے، ’’معیاری‘‘ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جمہوریت کہیں ڈونلڈ ٹرمپ کو سامنے لا رہی ہے، کہیں نریندر مودی کو قوم کی تقدیر کا مالک بنا رہی ہے، کہیں نوازشریف، آصف زرداری اور عمران خان جیسے لوگوں کو ابھار رہی ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جب تک جمہوریت کو کسی نہ کسی معیار کا پابند نہیں کیا جائے گا وہ خرابیاں پیدا کرتی رہے گی۔

(This article was first published in Friday Special)