ترجمان وزیر اعظم کا استعفیٰ واپس نہ لینے کا فیصلہ

94

وزیر اعظم عمران خان کے ترجمان ندیم افضل چن نے کسی صورت استعفیٰ واپس نہ لینے کا فیصلہ کرلیا۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق ندیم افضل چن کا استعفیٰ وزیر اعظم عمران خان کو موصول ہوگیا۔ انہوں نے گاڑی اور دفتر سمیت دیگر سرکاری مراعات واپس کردیں۔

ذرائع کے مطابق ندیم افضل چن نے اپنے قریبی ساتھیوں سے گفتگو کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ وہ کسی صورت بھی استعفیٰ واپس نہیں لیں گے۔

ترجمان نے کہا کہ پارٹی میں رہوں گا لیکن کوئی عہدہ نہیں لوں گا۔

ندیم افضل چن اس سے قبل بھی وزیر اعظم کے معاون خصوصی کے عہدے سے مستعفی ہوچکے ہیں۔

استعفیٰ رکوانے کے لیے وفاقی وزراء سرگرم

دوسری جانب تحریک انصاف کے سینئر وفاقی وزراء ترجمان وزیراعظم افضل ندیم چن کا استعفیٰ رکوانے کے لیے متحرک ہوگئے ہیں۔

نجی ٹی وی کے مطابق وفاقی وزیر شیریں مزاری، علی زیدی، فواد چوہدری استعفیٰ منظور نہ کرنے کی درخواست کر چکے ہیں۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی ذلفی بخاری بھی میدان میں ہیں اور وہ بھی ندیم افضل چن کا استعفیٰ منظور ہونے سے رکوانے کے لیے کوششیں کررہے ہیں۔

گزشتہ روز ندیم افضل چن نے پارٹی پالیسیوں سے اختلافات پر مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا۔

ندیم افضل چن پارٹی پالیسی سےانحراف کرتے ہوئے بیانات دے رہے تھے، وزیراعظم نے وفاقی کابینہ اجلاس میں پالیسی لائن پر وزرا کو تنبیہ کی تھی۔

وزیراعظم نےکہا تھا کہ جو پالیسی لائن پر نہیں چل سکتے وہ الگ ہوجائیں۔ وزیراعظم کے دوٹوک موقف کے بعد ندیم افضل چن عہدے سے مستعفی ہو گئے۔

واضح رہے کہ ندیم افضل چن کا شمار پیپلزپارٹی کے سینئر رہنماؤں میں ہوتا تھا وہ 2018 میں تحریک انصاف میں شامل ہوئے اور گزشتہ سال جنوری میں وزیراعظم نے انہیں اپنا ترجمان مقرر کیا تھا۔